Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

پاک وصاف ہاتھ لے کرمیرے گھر ( یعنی مسجد )  میں   داخل ہوں   اس لئے کہ میں   ان میں   سے کسی ایسے کی دُعا قبول نہیں   کروں   گاجس نے میرے کسی بندے پر ظلم کیا ہوگا ۔

            اے نوف ! شاعر،  نگران ،   ( ظالم ) پویس والا،  خراج وصول کرنے والا اور ( ظلمًا )  ٹیکس لینے والا نہ بننا ۔ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رات کے کسی وقت میں   کھڑے ہوئے اور فرمایا :  ’’  یہ وہ گھڑی ہے جس میں   بندہ جو دعا مانگتا ہے قبول کی جاتی ہے بشرطیکہ وہ نگران ،   ( ظالم ) پویس والا،  خراج وصول کرنے والا،   ( ظلمًا )  ٹیکس لینے والا ،   ستار ( طنبورے کی قسم کا ایک باجا )  اور ڈھول بجانے والا نہ ہو ۔  ‘‘   ( [1] )

 عالم،  طالب علم اورجاہل:

 ( 243 ) …  حضرت سیِّدُناکُمَیْل بن زیادعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِبَاد سے مروی ہے کہ ایک دن امیر المؤمنین مولا مشکل کشا،  شہنشاہِ اولیا حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم میرا ہاتھ پکڑ کر ایک قبرستان کے کنارے چلنے لگے یہاں   تک کہ جب ہم ایک کھلے میدان میں   پہنچے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک جگہ بیٹھ کرسانس لینے لگے ۔ پھرکچھ دیر بعد فرمانے لگے: ’’ ایکُمَیْل بن زیاد ! دِل برتنوں   کی طرح ہیں   اورا ن میں   بہتر ین دل وہ ہے جو بات کوزیادہ یاد رکھے ۔  یہ بات یاد رکھو !  کہ لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں :  ( ۱ )  … عالمِ رَبّانی ( ۲ )  … راہ ِنجات پر چلنے والا طالبِ علمِ دِین اور  ( ۳ )  … وہ بے وقوف اور جاہل لوگ جو ہر سنی سنائی بات کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں  ،  ہرہوا کے ساتھ بدل جاتے ہیں  ،   نورِ علم سے اپنے قلب و باطن کوروشن کرنے سے محروم رہتے اور کسی مضبوط ستون کو ذریعۂ حفاظت نہیں   بناتے ہیں   ۔

             علم مال سے بہتر ہے ۔  علم تیری حفا ظت کرتا ہے جبکہ مال کی تجھے حفاظت کرنی پڑتی ہے ۔  علم پھیلانے سے بڑھتا ہے جبکہ مال خرچ کرنے سے گھٹتاہے ۔  عالم سے لوگ محبت کرتے ہیں   ۔  عالم ،   علم کی بدولت اپنی زندگی میں   اللہ عَزَّوَجَلَّکی اِطاعت بجالاتا ہے ۔  عالم کے مرنے کے بعد بھی اس کا ذکرِ خیر باقی رہتاہے جب کہ مال کافائدہ اس کے زوال کے ساتھ ہی ختم ہوجاتاہے اور یہی معاملہ مالداروں   کا ہے کہ دنیا میں   مال ختم ہوتے ہی ان کا نام تک مٹ جاتا ہے اس کے برعکس عُلما کانام رہتی دنیاتک باقی رہتاہے  ۔ مالداروں   کے نام لینے والے کہیں   نظر نہیں   آتے جبکہ عُلمائے دین کی عزت اورمقام ہمیشہ لوگوں   کے دلوں   میں   قائم رہتاہے ۔ ہائے افسو س  !  ‘‘  پھرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ہاتھ سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :   ’’  یہاں   ایک علم ہے،  کاش !  تم اُسے اس کے اُٹھانے والوں   تک پہنچا دو،  ہاں   تم اسے ذہین وفطین کوپہنچادو گے جس پر اطمینان نہیں   رہا،   دِین کو دنیا کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ،   اللہ عَزَّوَجَلَّکی حجتو ں   کے ذریعے اس کی کتاب پراوراس کی نعمتوں   کے ذریعے اس کے بندوں   پرغلبہ پارہا ہے یا پھر وہ اہلِ حق کے سامنے تو سرِ تسلیم خم کئے ہوئے ہے لیکن اس میں   کوئی بصیرت نہیں    ۔

            ایسے علم والے کے دل میں   پہلی ہی دفعہ شک جگہ بنا لیتا ہے نہ اسے کامیابی ملتی ہے اور نہ ہی دوسرا کامیاب ہوتا ہے جسے یہ علم سکھاتا ہے ۔  وہ لذات وخواہشات میں   مُنْہَمِک رہتا ہے  ۔ شہوات کی زنجیروں   میں   جکڑا ہوتا ہے یا مال ودولت کے جمع کرنے میں   لگا رہتاہے اور یہ دونوں   شخص دین کی طرف بلانے والے نہیں   ان دونوں   کی مثال تو چرنے والے جانورکی سی ہے ۔  اس طرح علم بھی ایسے لوگوں   کے ساتھ مرجاتا ہے مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ جانتا ہے کہ زمین اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حق کو دلائل کے ساتھ قائم کرنے والوں   سے کبھی خالی نہیں   ہوتی تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی حجتیں   اور اس کے واضح دلائل ضائع نہ ہوجائیں   ۔  ایسے نفوسِ قدسیہ کی تعداد بہت کم ہوتی ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں   ان کی قدر ومنزلت بہت زیادہ ہے ۔ ان کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّاپنی حجتوں   کا دِفاع فرماتا ہے یہاں   تک کہ پھر ان کی مثل لوگ آکر ان کی جگہ یہ فریضہ انجام دیتے ہیں   او ر وہ ان کے دلوں   میں   شجرِ حق کی آبیاری کرتے ہیں   پھر حقیقی علم ان کے پاس آتا ہے جس سے عیش پرست لوگ کنارہ کشی کرتے ہیں   ۔  جب کہ یہ لوگ تیزی سے اس کی طرف مائل ہوتے ہیں   اور جن چیزوں   سے جاہلوں   کو وحشت ہوتی ہے اُنہیں   اس سے اُنسیت حاصل ہوتی ہے ۔

             ان کے جسم تو دنیا میں   ہوتے ہیں   لیکن ان کی روحیں   اعلیٰ مناظر کے ساتھ معلق ہوتی ہیں   ۔ یہی لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شہروں   میں   اس کے نائب اور اس کے دین کی دعوت دینے والے ہیں   ۔  آہ !  آہ !  ان کی زیارت کا کس قدر شوق ہے  !   میں   اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنی اور تمہاری بخشش کاسوال کرتا ہوں   ۔ اب اگر تم چاہو تو کھڑے ہوجاؤ ۔  ‘‘   ( [2] )

سیِّدُناعلی المرتضیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کی مبارَک زندگی

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے زُہد و قناعت نیزعبادت وخوف کے متعلق جومنقول ومشہور ہے اس کا کچھ تذکرہ کیا جاتا ہے  ۔

            علمائے تصوُّف فرماتے ہیں   کہ ’’   تصوُّف دنیاوی سازو سامان سے منہ پھیر کرحقیقی مقصد کی طرف بڑھنے کا نام ہے ۔  ‘‘

سارامال تقسیم فرمادیا :  

 ( 244 ) … حضرت سیِّدُنا علی بن ربیعہ والی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خدمت میں   ابنِ نَبَّاج حاضر ہوا اور عرض کی: ’’ یاامیر المومنین  !  اس وقت  بیت المال سونے چاندی سے بھرا ہوا ہے ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ اکبرکہااور ابنِ نَبَّاج کے سہارے کھڑے ہو کر بیتُ المال تشریف لے گئے اور فرمایا :           

 



[1]    تاریخ بغداد  ،  الرقم۳۶۰۸جعفر بن مبشر  ، ج۷ ، ص۱۷۳ ، مختصرًا۔

                 تفسیرالقرطبی  ،   سورۃالبقرۃ  ،  تحت الآیۃ۱۸۶ ، ج۱ ، الجزء الثانی ،  ص۲۳۹۔۲۴۰

[2]    تاریخ بغداد  ،  الرقم۳۴۱۳اسحاق بن محمدبن احمدبن اَبان ،  ج۶ ، ص۳۷۶ ، مختصرًا۔

                صفۃ الصفوۃ ،   ابو الحسن علی بن ابی طالب  ،  کلمات منتخبۃ من کلامہ ومواعظہ  ،  ج۱ ، ص۱۷۲۔۱۷۳۔



Total Pages: 273

Go To