Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 241 ) … حضرت سیِّدُنا جعفر بن محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الصَّمَدسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ایک جنازہ میں   شریک ہوئے تدفین کے بعد میت کے ورثاء پر گر یہ طاری ہوگیا اور وہ رونے لگے ،   توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ تم کیوں   روتے ہو ؟  ‘‘  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم  !   اگر تم ان احوال کا مشاہدہ کر لیتے جن کامشاہدہ میت نے کیاہے توتم اس مردے کو بھول جاتے ( اور اپنے آپ پر روتے  )   یاد رکھو !  موت تمہارے پاس آتی رہے گی یہاں   تک کہ تم میں   کوئی ایک بھی زندہ نہ ر ہے گا ۔ اتنا بیان کرنے کے بعد حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کھڑے ہوگئے اور فرمایا :   ’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو  !  میں   تمہیں   اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں   جس نے تمہارے لئے بہت سی مثالیں   بیان فرمائیں   اور تمہاری موت کا وقت مقرر کر رکھا ہے ۔  اس نے تمہیں  ایسے کان عطاکئے ہیں   کہ وہ جو سن لیتے ہیں   اسے یاد کر لیتے ہیں   اور ایسی آنکھیں   بخشیں   ہیں   کہ جس چیز کو ان آنکھوں   سے دیکھ لیا جاتا ہے وہ واضح ہو جاتی ہے ۔  اس نے تمہیں   ایسے دِل بھی دئیے ہیں   جو معاملات کو سمجھ لیتے ہیں   بے شک اُس نے تمہیں   بے مقصد پیدا نہیں   فرمایابلکہ کا مل نعمتوں   اور عمدہ اشیاء کے ساتھ تمہیں   عزت بخشی،   تمہارے لئے ہر چیز کی مقدار مقرر فرمائی اورتمہارے اعمال کے مطابق جزا مقرر فرمائی ۔  اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو !  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو ! اسے پانے کی کوشش کرو !  خواہشات کا دم توڑنے والی موت سے ہمکنار ہونے سے پہلے پہلے ( نیک )  عمل کے ذریعے اس کے لئے تیاری کروکیونکہ دنیا کی نعمتیں   عارضی و فانی ہیں   ۔ اس کی آفتوں   سے نہ کسی متکبر ومغرور کا غرور بچا سکتا ہے تو نہ ہی کسی اَفواہ ساز کی بات اور نہ باطل و ناحق کی طرف میلان رکھنے والے کسی شخص کا سہارا امن دے سکتا ہے کہ جو مشکل وقت میں   ساتھ چھوڑ دیتا اور ہر وقت شہوت میں   بدمست ہو کر خود فریبی کا شکار رہتا ہے ۔

 اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو !  آیات واَحادیث سے عبرت و نصیحت حاصل کرو !  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈر و !  وعظ و نصیحت سے نفع حاصل کرو ! موت تم میں   اپنے پنجے گاڑ چکی او ر تمہیں   مٹی کے گھر سے ملا کر رہے گی پھر صور پھو نکنے کے ساتھ ہی قبروں   سے اُٹھنے ،   میدان محشر کی طرف ہانکے جانے اور حساب کے لئے اللہ جبار و قہار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں   کھڑے ہونے والے ہولناک قسم کے اُمور پیش آنے والے ہیں   اور یہ وہ دن ہے جب ہر نفس کے ساتھ ہانکنے والا ہوگا جو اسے میدان محشر کی طر ف لے جائے گااور ایک گواہ ہوگاجواس کے اعمال کی گواہی دے گا ۔  چنانچہ ، 

             اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۶۹) ( پ۲۴،   الزمر :    ۶۹ )

 ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین جگمگا اُٹھے گی اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں   گے انبیااور یہ نبی اور اُس کی اُمت کے اُن پر گواہ ہوں   گے اورلوگوں   میں   سچافیصلہ فرمادیا جائے گااوراُن پرظلم نہ ہوگا  ۔

            اس دن تمام شہر تھر ااُٹھیں   گے ۔  منادی ندادے گا ۔  وہ دن ملاقات کا دن ہوگا ۔  پنڈلی سے پردہ اُٹھ جائے گا ۔  سورج بے نور ہوجائے گا ۔  دَرِندے محشر میں   جمع کئے جائیں   گے ۔ راز ظاہر ہوجائیں   گے ۔  بد کاروں   کے لئے ہلاکت کا دن ہوگا ۔  دل کانپ اُٹھیں   گے ۔  اہلِ جہنم کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طر ف سے پھٹکار ہوگی ۔  جہنم ان پر اپنے آنکڑے اور ناخن نکال لے گی اور ان پر چیخے چلائے گی ۔ اس کی آگ کو ہوا مزید بھڑکائے گی ۔ اس میں   رہنے والے سانس نہ لے سکیں   گے نہ ان پر موت طاری ہو گی اور نہ ان کی تکلیفیں   ختم ہوں   گی ۔ ان کے ہمراہ فرشتے ہوں   گے جوانہیں   جہنم میں   داخلے اور کھولتے پانی کی خوشخبری سنائیں   گے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیدار سے محروم نیز اس کے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامسے دو ر ہوں   گے اور جہنم کی طر ف ہانکے جائیں   گے ۔

            اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو  !  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس شخص کی طر ح ڈرو جو ڈرا اور عاجزی اِختیار کی ۔  خوفزدہ ہوا اور کوچ کے لئے چل پڑا ۔  محتا ط نظروں   سے دیکھا توکانپ اُٹھا ۔  تلاش میں   نکلا تو نجات کے لئے بھاگ پڑا ۔ قیامت کی تیاری کے لئے زادِراہ کمر پر رکھ لیا اور یاد رکھو !  اللہ عَزَّوَجَلَّ بدلہ لینے کے لئے کافی ،  ہر عمل کو دیکھنے والا،   اعمال نامہمضبوط فریق اور حجت کے لئے کافی ،  جنت ثواب دینے میں   اور جہنم عذاب دینے میں   کافی ہے ۔ میں   اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے اور  تمہارے لیے مغفرت طلب کرتاہوں   ۔  ‘‘   ( [1] )

نوف بِکَالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی کونصیحت :  

 ( 242 ) … حضرت سیِّدُنانَوْف بِکَالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی سے مروی ہے کہ ایک رات امیر المؤمنین مولا مشکل کشا حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم باہرنکلے اور ستا رو ں   کی طر ف دیکھنے لگے پھر فرمایا :  ’’  اے نوف  !  سو رہے ہو یا جاگ رہے ہو  ؟   ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ یا امیر المومنین ! جاگ رہا ہوں   ۔  ‘‘  فرمایا :   اے نوف  !  دنیا میں   زُہد اِختیار کرنے اور آخرت میں   رغبت رکھنے والوں   کے لئے خوشخبری ہے ۔  یہی وہ لوگ ہیں   جنہوں   نے ( رہنے کے لئے بلندوبالا مکانات تعمیر کرنے کے بجائے خالی ) زمین کواختیار کیا،  اس کی خاک کو اپنابچھونابنالیااوراس کے پانی کوخوشبوتصوُّر کرلیا،   تلاوتِ قرآنِ پاک اوردُعا کو اپنی پہچان اور شعار بنالیا،  دنیا سے حضرت سیِّدُنا عیسیٰرُوح اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرح کنارہ کشی اختیارکی  ۔

            اے نوف  !  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت ِسیِّدُنا عیسیٰ رُوح اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکی طر ف وحی فرمائی کہ ’’ بنی اسرائیل کو حکم فرمادو کہ وہ پاکیزہ دل ،  جھکی نگاہ اور ( ظلم سے )  



[1]    صفۃ الصفوۃ  ،  ابوالحسن علی بن ابی طالب  ،  کلمات منتخبۃ من کلامہ و مواعظہ  ،  ج۱ ،  ص۱۷۱۔۱۷۲ ، مختصرًا۔



Total Pages: 273

Go To