Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

نے نیکی کا حکم دیا اس نے مومن کی پیٹھ مضبوط کی ،  جس نے برائی سے منع کیا اس نے منافق کی ناک خاک میں   ملادی ،   جس نے ہر جگہ سچ بولا اس نے اپنا فریضہ ادا کردیا اور اپنے دین کی حفاظت کی اورجس نے نافرمانوں   سے نفرت کی  اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے لیے غصہ کیا ( یعنی اس کی نافرمانیوں   کی وجہ سے اس نافرمان و گنہگار کو چھوڑے رکھا )  او رجس نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے غصہ کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی اس کے لئے غضب فرمائے گا ۔

            مزیدارشاد فرمایا :  ’’ عدل کے بھی چارشعبے ہیں :  ( ۱ )  تحقیق کرنا  ( ۲ ) زیورِ علم سے خودکوآراستہ کرنا  ( ۳ )  احکام شرع کو جاننا اور ( ۴ ) باغِ حلم میں   رہنا،   پس جس نے تحقیق سے کام لیا اس نے حسنِ علم کو روشن کردیا،   جس نے باغِ علم کوسیراب کیااس نے شریعت کے احکام جان لئے اور جس نے شریعت کے احکام معلوم کرلئے وہ حلم وبردباری کے باغات میں   داخل ہوگیااور جو شخص گلستانِ حلم میں   داخل ہوتاہے وہ کسی معاملے میں   کوتا ہی نہیں   کرتا بلکہ لوگوں   میں   یوں   زندگی بسر کرتا ہے کہ لوگ اس سے راحت وآرام پاتے اور خوش ہوتے ہیں   ۔  ‘‘     ( [1] )

موت،   انسان کی محا فظ :  

 ( 231 ) … حضرت سیِّدُنایحییٰ بن ابی کثیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَبِیْرسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے عرض کی گئی :  ’’ کیا ہم آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی حفاظت نہ کریں    ؟  ‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ارشادفرمایا :   ’’ انسان کی محا فظ اس کی موت ہے ۔  ‘‘     ( [2] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں :  ’’ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ  کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے ایسی اور بھی عمدہ باتیں   اور باریک ودلچسپ نکات منقول ہیں   جومحفوظ نہ رہے ۔  ‘‘

فرامینِ مولامشکل کشا

 (  232 ) … حضرت سیِّدُنا قَیْس بن ابی حازِم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرما یا :   ’’ عمل سے بڑھ کر اس کی قبولیت کا اہتمام کرواس لئے کہ تقویٰ کے ساتھ کیا گیا تھوڑا عمل بھی بہت ہوتا ہے او ر جو عمل مقبول ہوجائے وہ کیونکرتھوڑا ہوگا ۔  ‘‘     ( [3] )

اصل بھلائی کیاہے ؟

 ( 233 ) … حضرت سیِّدُناعبد ِ خیررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا :  ’’  بھلائی یہ نہیں   کہ تجھے کثیر مال واولادحاصل ہوجائے بلکہ بھلائی یہ ہے کہ تیرا علم کثیر ہو اور حلم بھی عظیم ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت اتنی زیادہ کرے کہ لوگوں   سے سبقت لے جائے  ۔  جب تُو نیکی کرنے میں   کامیاب ہو جائے تو اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر بجا لائے اوراگر گناہ میں   پڑ جائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس کی بخشش طلب کر ے ۔ اور دُنیا میں   بھلائی اس آدمی کو حاصل ہوتی ہے جو گناہ ہوجانے کی صورت میں   توبہ کر کے اس کا تدارک  ( اصلاح )  کرلیتا ہے یا وہ شخص جو نیکیاں   کرنے میں   جلدی کرتا ہے اور تقویٰ و پرہیزگاری سے کیا گیا کوئی عمل بھی قلیل نہیں   ہوتا اور جو عمل مقبول ہوجائے وہ کیونکر قلیل ہوگا  ۔  ‘‘     ( [4] )

5 عمدہ باتیں :

  ( 234 ) … حضرت سیِّدُناابوزَغْلرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے فرمایا :  ’’  میری 5 باتیں   یادرکھو ( اور یہ ایسی عمدہ ونایاب باتیں   ہیں   کہ )  اگر تم اُونٹوں   پر سوار ہو کرانہیں   تلاش کرنے نکلوگے تواُونٹ تھک جائیں  لیکن یہ باتیں   نہ مل پائیں   گی :    ( ۱ )  بندہ صرف اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے امید رکھے ۔   ( ۲ )  اپنے گناہوں   کی وجہ سے ڈرتا رہے ۔   ( ۳ ) جاہل علم کے بارے میں   سوال کرنے سے نہ شرمائے ۔   ( ۴ ) اور اگر عالم کو کسی مسئلے کا علم نہ ہو تو  ( ہر گزنہ بتائے اورلاعلمی کا اظہار اورصاف انکار کرتے ہوئے )  ’’ وَاللہ اَعْلَمْ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّسب سے زیادہ علم والاہے ۔  ‘‘  کہنے سے نہ گھبرائے اور  ( ۵ )  ایمان میں   صبرکی وہ حیثیت ہے جیسی جسم میں   سر کی،   اس کا ایمان ( کامل ) نہیں   جو بے صبری کا مظاہر کرتا ہے ۔  ‘‘   ( [5] )

 لمبی امیدوں  کانقصان :  

 ( 235 ) … حضرت سیِّدُنامہاجِربن عمیررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین مولا مشکل کشا  حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے ارشاد فرمایا :  ’’  میں   دو چیزوں   سے بہت زیادہ خوف زدہ رہتا ہوں    ( ۱ )  خواہش کی پیروی اور ( ۲ )  لمبی امیدیں   ۔  خواہش کی پیروی سے تو اس لئے خوف آتا ہے کہ یہ حق قبول کرنے میں   رکاوٹ بن جاتی اور اس پرعمل کرنے سے رو کتی ہے اورلمبی امیدوں   سے خوف زدہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت بھلادیتی ہیں    ۔ خبردار !  دنیا پیٹھ پھیر ے جا رہی ہے اورآخرت ہمارا رُخ کئے ہمارے قریب آرہی ہے ۔ ان دونوں   ( دنیا وآخرت ) کے اپنے اپنے بیٹے ( یعنی چاہنے والے  )  ہیں   لیکن سنو !   تم آخرت کے بیٹے  ( یعنی چاہنے والے )  بنواور دنیا کے بیٹے  ( یعنی چاہنے والے )  نہ بنو ۔



[1]    شرح اصول اعتقاداھل السنۃ والجماعۃ ،  باب جماع الکلام فی الایمان ،   الحدیث : ۵۷۰ ،  ج۱ ، ص۷۴۱۔

[2]    جامع معمر بن راشد مع مصنف عبد الرزاق ،  کتاب الجامع ،  باب القدر ،   الحدیث : ۲۰۲۶۵ ، ج۱۰ ، ص۱۵۴ ، مفہومًا

[3]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۴۹۳۳علی بن ابی طالب ،   ج۴۲ ،  ص۵۱۱۔

                 تاریخ الخلفاء للسیوطی ،  علی بن ابی طالب  ،  فصل فی نبذ من اخبار الخ  ،  ص۱۸۱۔

[4]    الزھد الکبیرللبیھقی ،  فصل فی قصرالأمل و المبادرۃ العملالخ ،   الحدیث : ۷۰۸ ، ص۲۷۶ ،  مختصرًا۔