Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

بن عبد اللہ  آئے اور عرض کی: اے امیرالمومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  دروازے پر 40افراد پر مشتمل یہودیوں   کا وفدحاضرہے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اُنہیں   بلوایا ،   جب وہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سامنے بیٹھ گئے توعرض کی: ’’ اے علی  !  آسمانوں   میں   جو تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ ہے ہمیں   اس کے بارے میں   بتائیں  کہ وہ کیسا ہے  ؟ کیسا تھا  ؟ کب سے ہے  ؟  اور کہاں   پر ہے  ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسیدھے ہوکر بیٹھ گئے او رفرمایا :   ’’ اے یہودیو  ! سنو ! اور مجھے اس کی پرواہ نہیں   کہ تم کسی او رسے سوال کر و گے یا نہیں   ،  بے شک میرا ربعَزَّوَجَلَّوہ ہے جو اَزَل سے ہے اس سے پہلے کچھ نہ تھا جس سے اس کا آغاز ہوتا،   نہ وہ کسی شی سے بناہے ،   وہ ہماری عقل وفہم سے بالاتر ہے ۔ اس کاجسم نہیں   جو کسی مکان کو گھیر سکے ،   نہ وہ پردے میں   چھپا ہے کہ اس کا احاطہ کیاجاسکے،  وہ حادث بھی نہیں   ہے یعنی ایسا نہیں   کہ وہ پہلے نہیں   تھا بعد میں   ہوا بلکہ وہ تو اس سے بھی پاک ہے کہ دیگر اشیاء کی طرح اس کی کیفیت بیان کی جائے کہ وہ ایساتھا،  بلکہ وہ ہمیشہ سے ہے،  ہمیشہ رہے گا،   زمانہ کی تبدیلی اور ہر آن کے بعدنئی آن کے وجود سے اس کی ذات ِپاک پر کوئی اثر نہیں  ،   خیالی تصاویر سے اس کی صفت کیونکر بیان ہوسکتی ہے اورفصیح وبلیغ زبانوں   سے بھی کماحقّہ اس کی تعریف کیونکر ممکن ہوسکتی ہے ؟

            اس کی شان یہ نہیں   کہ چیزوں   کے اندر پایا جائے کہ کہنا پڑے کہ وہ سب چیزوں   سے جدا ہے اور نہ ہی وہ اشیاء سے جدا ہے جو کہاجائے کہ وہ ان چیزوں   میں   پایا جاتا ہے  ۔ وہ اشیاء سے نہیں   کہ کہا جائے ان سے جدا ہوگیا،  نہ ہی وہ ان اشیاء سے بنا ہے کہ کہا جائے وہ بن گیابلکہ وہ کیفیت سے پاک ہے،   شہ رگ سے زیادہ قریب او روہ ہر قسم کی مشابہت سے بہت بعید ہے،   اس کے بند وں   کا کوئی لمحہ ،   کسی لفظ کی باز گشت ،   ہَوا کا کوئی جھونکا ،   کسی قدم کی آہٹ انتہائی تا ریک رات میں   بھی اس سے پوشیدہ نہیں   ،   چمکتے چاند کی رو شنی اس پر چھا نہیں   سکتی ،   سورج کے رو شن ہالہ کی کوئی کرن اس سے باہر نہیں   ،   نہ ہی آنے والی رات کا متو جہ ہونا اور جانے والے دن کا پھرنا اُس پر مخفی ہے بلکہ وہ کائنات کی ہر شی کا احاطہ کئے ہوئے ہے،  وہ ہرمکان،  ہرگھڑی،  ہر لحظہ،  ہرانتہا،  ہر مدت سے باخبرہے،   انتہائیں   تو مخلوق کے لئے ہوتیں   ہیں   اور حدیں   اس کے غیر کی طر ف منسوب ہیں   ۔  اشیاء خود بخود پیدا نہیں   ہوتیں   اورنہ پہلے زمانے کے ساتھ متصف ہوتی ہیں   کہ ان کے اول وقت کو ابتدا قرا ر دیاجائے،  بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جو چاہا پیدا فرمایا اور ان کو تخلیق وافزائش بخش دی او ر جیسی چاہی صورت بخشی اور کیا ہی حسین صورتیں   بنائیں  ،   وہ اپنی بلندی و بزرگی میں   یکتا ہے اور کوئی شے اس کے مقابل نہیں   اور نہ ہی مخلوق کا اطاعت کرنا اس کو نفع پہنچا سکتا ہے ۔  وہ دعا کرنے والوں   کی دعا قبول فرماتاہے ،   زمین  وآسمان اس کے عبادت گزار فرشتوں   سے بھرے پڑے ہیں  ،   مُردوں  اور زندوں   کے بارے میں   بھی علم رکھتا ہے،   بلند آسمانوں  ،   ساتوں   زمین نیز ہر چیز کے متعلق علم رکھتا ہے،  کثیر آوازوں   کا جمع ہونا اسے متحیر نہیں   کرتااور نہ ہی کثیر زبانوں   کا سننا اسے کسی ایک سے مشغول کرتا ہے ،  وہ مختلف آوازوں   کو سننے والااور بغیر اعضاء و جوارح انہیں   جواب دینے والا ،   مدبّر ،   بصیر ،    تمام اُمو رکا جاننے والااورخود زندہ اوروں   کو قائم رکھنے والاہے ۔

            پاک ہے وہ جس نے بغیر اعضاء وبغیر ہونٹ حضرت سیِّدُناموسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کلام فرمایا اور جو یہ گمان کرتا ہے کہ ہمارا خدا محدو د ہے پس وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حقیقت سے نابلدہے او رجو یہ کہے کہ مکانات اس کا احاطہ کئے ہوئے ہیں   تو وہ فساد میں   ہے،   اللہ عَزَّوَجَلَّ  تو ہر جگہ کو محیط ہے ۔ پس اگر تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ایسی صفات بیان کرنے سے باز نہیں   آتاجو اس کی شان کے لائق نہیں   تو حضرت سیِّدُناجبریل ،   میکائیل اور اسرافیل عَلَیْہِمُ السَّلَام کی تو صفت بیان کر کے دِکھا جو اس کی مخلوق ہیں   حالانکہ تو اس سے بھی عاجز ہے تو پھر خالق ومعبودعَزَّوَجَلَّ کی صفت کا کیسے اِدراک کر سکتا ہے جسے نہ اُونگھ آئے نہ نیند  ؟   زمین و آسمان پر اُسی کی بادشاہت ہے اور وہ بڑے عر ش کا مالک ہے ۔  ‘‘

 ( 228 ) … حضرت سیِّدُناابو الْفَرَج رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں  :  ’’ مجھے یہ بات پسند نہیں   کہ میں   بچپن میں   مر جاؤں   جنت میں   داخل ہو جاؤں   اور بڑا ہوکر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت نہ حاصل کرپاؤں   ۔  ‘‘

اہل ایمان سے محبت :  

 ( 229 ) … حضرت سیِّدُناعمر بن علی بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا :  ’’ لوگوں   کا سب سے بڑا خیرخواہ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی زیادہ معرفت رکھنے والا وہ شخص ہے جو لَااِلٰہَ اِلاَّاللہکہنے والوں   ( یعنی مسلمانوں   )  سے ان کے ایمان کی وجہ سے محبت رکھتا اور ان کی تعظیم کرتا ہے  ۔  ‘‘

 صبر،  یقین،  جہاداور عدل کے شعبے:

 ( 230 ) … حضرت سیِّدُناجُلَاس بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ہم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کرمکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خدمت میں   حاضر تھے کہ ایک خُزَاعِی شخص آیاا ور عرض کی :  ’’  یاامیر المومنین  !  کیا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجسَّم،   رسولِ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اسلام کی تعریف سماعت کی ہے  ؟  ‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا :  ہاں   !  میں   نے حضورنبی ٔ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سناہے کہ ’’  ( عمل کے اعتبارسے ) اسلام کی بنیا د چاراَرکان پرہے ۔  صبر،   یقین،  جہاداور عدل ۔ پھرصبرکے چار شعبے ہیں :  ( ۱ ) جنت کا شوق  ( ۲ ) جہنم کا خوف  ( ۳ ) دنیا سے بے رغبتی  ( ۴ )  موت کا انتظار ،  لہٰذا جو جنت کا مشتاق ہوتا ہے وہ شہوات سے خود کو بچاتاہے اورجسے جہنم کا ڈرہوتا ہے وہ حرام کاموں   سے با ز رہتا ہے،   دنیاسے بے رغبتی اختیار کرنے والے کے لئے مصیبتوں   پر صبر کرناآسان ہوتا ہے اور جو شخص موت کا منتظر ہوتا ہے وہ نیکیوں   کی طرف جلدی کرتا ہے ۔

            اوریقین کے بھی چارشعبے ہیں :  ( ۱ ) فہم وفراست ( ۲ ) علم ومعرفت  ( ۳ )  عبرت ونصیحت اور  ( ۴ )  اتباعِ سنت،  تو جس نے فہم وفراست کو پالیااس نے علم ومعرفت کو حاصل کر لیااور جس نے علم ومعرفت کو حاصل کر لیا اس نے عبرت ونصیحت سے فائدہ اٹھا لیا اور جس نے عبرت ونصیحت پائی اس نے اتباع سنت کی اور جس نے سنت کی اتباع کی گویا کہ وہ اولین میں   شامل ہوگیا ۔  

            پھر فرمایاکہ جہادکے بھی چارشعبے ہیں :  ( ۱ ) نیکی کی دعوت دینا ۔   ( ۲ ) برُائی سے منع کرنا  ( ۳ ) ہر حال میں   سچائی پر قائم رہنااور ( ۴ ) نافرمانوں   سے نفرت کرنا ۔  لہٰذا جس



Total Pages: 273

Go To