Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 221 ) … حضرت سیِّدُنامجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد بیان کرتے ہیں   کہ ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمعمامہ باندھے ہمارے پاس تشریف لائے اوربتانے لگے کہ ’’   ایک مرتبہ مدینۃ المنوّرہزَادَھَااللہ تَعْظِیْمًاوَّتَکْرِیْمًا میں   مجھے سخت بھوک محسوس ہونے لگی تو میں   مزدوری کی تلاش میں   مدینہ کے گرد ونواح کی طرف نکل گیا وہاں   میں   نے ایک عورت د یکھی جس نے مٹی کا ایک ڈھیر جمع کیا ہوا تھا جسے وہ پانی سے تر کرناچاہتی تھی میں   نے ہر ڈول کے بدلے ایک کھجورمزدو ری طے کی اورسولہ ڈول کھینچے یہاں   تک کہ میرے ہاتھوں  میں   چھالے پڑگئے میں   نے ہاتھ دھوئے پھر اس عورت کے پاس آیا اورکہاکہ بس مجھے اتنا کافی ہے،  تو اس عورت نے مجھے 16کھجوریں   گن کردیں  ،  میں   انہیں   لے کر حضور نبی ٔ اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں   حاضر ہوا اورسارا واقعہ بتایا پھر میں   نے اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مل کر وہ کھجوریں   تناو ُل فرمائیں   ۔  ‘‘     ( [1] )

            ایک روایت میں   ہے کہ ’’  میں   نے 16یا17 ڈول نکالے پھر اپنے ہاتھ دھوئے اور وہ کھجوریں   لے کر حضورنبی ٔ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں   حاضر ہوا توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے لئے کلماتِ خیر کہے او ردعا فرمائی ۔  ‘‘

 ( 222 ) … حضرت سیِّدُنامجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  فرماتے ہیں  : ’’ ایک مرتبہ میں   ایک با غ میں   گیا،  اُس کے مالک نے کہاکہ ہر ڈول پر ایک کھجور کے بدلے میرے اس باغ کو سیراب کردو ۔  میں   نے کچھ ڈول نکالے اور اس کے بدلے میں   کھجوریں   وصول کیں   جن سے میری ہتھیلی بھر گئی پھرمیں   نے کچھ پانی پیا اور کھجوریں   لے کر بارگاہِ رسالتعَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضرہو گیا اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مل کر کھجوریں   تناول کیں   ۔   ‘‘ ( [2] )

شیرِخدارَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی دنیا سے بے رغبتی

          امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْملوگو ں   کے درمیان رہتے ہوئے بھی نیکوں   اور زاہدوں   کی زینت سے مزین تھے ۔

 ( 223 ) …  حضرت سیِّدُناعمّار بن یاسر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ نبی ٔاَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے فرمایاکہ ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں   ایسی زینت سے مزین کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر پسندیدہ زینت سے اس نے کسی کوآراستہ نہیں   کیا یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں   نیک لوگو ں   کی زینت ہے یعنی دنیاسے بے رغبتی پس اب دنیا کو تجھ سے کوئی مطلب نہ تمہیں    اس سے کوئی سروکار اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے مساکین کی محبت عطا فرمائی لہٰذا تم ان کے پیر وکار اور وہ تمہارے امام ہونے پر راضی ہیں   ۔  ‘‘     ( [3] )

دُنیاکی مذمت :  

 ( 224 ) …  حضرت سیِّدُناعلی بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ  کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا :  ’’  بروزِقیامت دنیا حسین وجمیل صورت میں   آئے گی اور عرض کرے گی :   اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ  !  مجھے اپناکوئی ولی عطا فرما،   اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا :  جا تیری کوئی حقیقت نہیں   اور نہ ہی میری بارگاہ میں   کوئی  مقام ہے کہ میں   تجھے اپنا کوئی ولی عطا کروں   ۔  چنا نچہ،   اسے بو سیدہ کپڑے کی طر ح لپیٹ کر جہنم میں   پھینک دیا جائے گا ۔  ‘‘

نگاہِ علی میں   دنیاکی حقیقت:

             امیر المؤمنین مولا مشکل کشا،  شہنشاہِ اولیا حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم تارک ِدنیا تھے ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے دنیا کی حقیقت سے پردہ اُٹھ گیا،  ہدایت وبصارت نصیب ہوئی او رضلالت و گمراہی سے محفوظ رہے ۔

 ( 225 ) …  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار،   شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  جو شخص دنیا میں   زُہدا ختیار کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے علم لدُنی سے نوازتا اور بغیر کسی واسطہ کے ہدایت عطافرما تا ہے ،  نورِ بصیرت عطا فرماتااور ضلالت وگمراہی سے بچاتاہے  ۔  ‘‘

مَعْرِفَتِِ اِلٰہی

             امیر المؤمنین مولا مشکل کشا،  شہنشاہِ اولیا حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْممعرفت ِ الٰہی کے عُلُوم بھی جانتے تھے اور آپ کا سینہ عرفان الٰہی کا گنجینہ تھا ۔ منقول ہے کہ ’’   تصوُّف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات سے حجابات اٹھنے کا نام ہے ۔  ‘‘

 ( 226 ) …  حضرت سیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے زَیْدبن صُوْحَان کی طر ف پیغام بھیجا تو اُنہوں   نے کہا :   ’’ اے امیر المومنین  !  میں   یہ نہیں   جانتا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہذات خدا وندی عَزَّوَجَلَّکے عالم ہیں   لیکن یہ ضرور جانتا ہوں   کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سینۂ مبارَکہ میں   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت زیادہ عظمت ہے ۔  ‘‘  

توحید ِ باری تعالیٰ پرشاندارگفتگو :  

 ( 227 ) … حضرت سیِّدُنانعمان بن سعد رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ میں   دار الامارت کو فہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے گھر میں   تھا کہ نَوْف



[1]    المسند للامام احمد بن حنبل  ،  مسند علی بن ابی طالب  ،  الحدیث : ۱۱۳۵ ، ج۱ ، ص۲۸۶۔

[2]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  زھدامیرالمؤمنین علی بن ابی طالب ،  الحدیث : ۷۰۱ ، ص۱۵۷۔

[3]    مجمع الزوائد  ،  کتاب المناقب  ،  باب جامع فی مناقب علی  ،   الحدیث۱۴۷۰۳ ، ج۹ ، ص۱۶۱ ، بتغیرٍ۔



Total Pages: 273

Go To