Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ہمیں   کام میں   دشواری ہوئی تو ہم نے چاہا کہ آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کوئی غلام مانگ لائیں   ۔  ‘‘ حضورنبی ٔاَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :   ’’ کیا میں   تمہیں   ایسا کام نہ بتاؤں  جو تمہارے لئے سرخ اونٹو ں   سے بہترہے ؟  ‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کی :  ’’  جی ہاں   !  یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ‘‘  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ صبح وشام 33بارسبحان اللہ ،  33 بارالحمدللّٰہاور34 بار اللہ اکبر کہو،   صبح وشام ہزار نیکیاں   ملیں   گی  ۔  ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’  اس  کے بعد میں   نے اس کواپنا معمول بنالیاپھرکبھی بھی ترک نہ کیا،  ہاں   جنگ ِ صفین کی رات میں   اسے پڑھنا بھول گیا تھا لیکن پھرآخر میں   مجھے یاد آگیاتو میں   نے پڑھ لیا  ۔  ‘‘     ( [1] )

 ( 219 ) … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائے اور میرے اورفا طمہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ) کے درمیان بیٹھ گئے پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں   سکھایاکہ جب ہم اپنے بستر پر لیٹیں   تو 33 مرتبہسبحان اللہ،  33 مرتبہالحمدللّٰہ اور34 مرتبہ اللہ اکبرکہہ لیں  ،  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں  : ’’ اس کے بعد میں   نے یہ وظیفہ کبھی ترک نہیں   کیا ۔  ‘‘  کسی نے دریافت کیا کہ ’’   جنگ صفین کی رات بھی اسے ترک نہیں   کیا تھا  ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ ہاں  ،   صفین کی رات بھی اسے ترک نہیں   کیا ۔  ‘‘     ( [2] )

کھانے کا حق :  

 ( 220 ) … حضرت سیِّدُناابن اَعْبُدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے مجھ سے فرمایا :   ’’ اے ابن اَعْبُدْ !  جانتے ہوکھانے کا حق کیا ہے  ؟  ‘‘ میں   نے عرض کی :   ’’ یا امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ! آپ ارشادفرمائیں   کھانے کاکیا حق ہے ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ کھانے کا حق یہ ہے کہ کھاناشروع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھی جائے :  بِسْمِ اللہ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْمَا رَزَقْتَنَا یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے شروع ،  یااللہعَزَّوَجَلَّ !  جو تو نے ہمیں   رزق عطا فرمایا اس میں   ہمارے لئے برکت داخل فرما ۔  ‘‘ راوی کہتے ہیں :  پھرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ یہ جانتے ہو کہ کھانا کھانے کے بعد اس کا شکر کس طرح ادا کرنا چاہیے  ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’ نہیں  ،  یا امیر المؤمنین  ! آپ ارشادفرمادیں   کہ کس طرح اس کا شکرادا کیا جائے  ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ کھانے کے بعد یہ پڑھا جائے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَایعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ہے جس نے ہمیں   کھلایا اور پلایا ۔  ‘‘

            اس کے بعدامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے اپنی زوجۂ محترمہ اورجانِ کائنات،   شاہِ موجوداتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سب سے لاڈلی وپیاری شہزادی،  شہزادیٔ کونین،  اُمِّ حسنین حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرا ء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکی گھریلوزندگی کے متعلق بتاتے ہوئے ارشادفرمایا :  ’’ سنو !  میری زوجہ بنتِ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاتھوں   میں   چکی چلانے کی وجہ سے چھالے اور مَشک اُٹھانے کی وجہ سے بدن پر نشان پڑجاتے اور گھر میں   جھاڑو دینے اور چولہے میں   آگ جلانے کی وجہ سے کپڑے غبار آلود اورمیلے ہو جاتے تھے ۔  آپ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا ) کوان کاموں   کی وجہ سے سخت تکلیف ومشقت کا سامناکرناپڑتاتھا ۔  ایک بار جب حضور نبی ٔاَکرم،  نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس چند قیدی لائے گئے تو میں   نے فاطمہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا )  سے کہاکہ ’’  رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں   جاؤاورکوئی خادم تم بھی مانگ لاؤ تاکہ کام کی مشقت سے نجات پاؤ ( [3] ) ۔  ‘‘   ( [4] )

                چنانچہ،   وہ شام کے وقت بارگاہ رسالت مآبعَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضر ہو ئیں   تو سرکار دوجہان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا :  ’’  بیٹی کیا بات ہے  ؟  ‘‘  فاطمہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا )  نے صرف اتناعرض کیاکہ ’’ سلام کے لئے حاضر ہوئی تھی اورحیا کی وجہ سے کچھ اور نہ کہہ پائیں   ۔  ‘‘ جب گھر لوٹ کر آئیں   تومیں   نے پوچھا: ’’ کیا ہوا ؟  ‘‘ کہا :  ’’ میں   حیاکی وجہ سے حضور نبی ٔ رحمت،  شفیعِ امت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کچھ نہ کہہ سکی ۔  ‘‘  دوسری شب پھرمیں   نے انہیں   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   گھرکے کام کاج میں   سہولت کے لئے ایک نوکر مانگنے بھیجا لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا اب بھی حیاکی وجہ سے سوال نہ کر سکیں   ۔  ( حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں   کہ ) جب تیسری شام آئی تو ہم دونوں   نبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں  حاضر ہوئے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آنے کا سبب دریافت فرمایاتو میں   نے عرض کی :   یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ہمیں   کام میں   دشواری ہوئی تو ہم نے چاہا کہ آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کوئی خادم مانگ لائیں  ،  حضور نبی ٔ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  ’’  کیا میں   تمہیں   ایسا کام نہ بتاؤں   جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں   سے بہترہے ؟  ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض  کی :  ’’  جی ہاں   یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’  صبح و شام34 مرتبہ اللہ اکبر،  33 مرتبہ سبحان اللہ اور33 بار الحمد لِلّٰہ کہو،  ہزارنیکیاں   صبح وشام ملیں   گی ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ اس کے بعد میں   نے اس کواپنا معمول بنا لیاپھرکبھی بھی ترک نہ کیاہاں   جنگ ِ صفین کی رات میں   اسے پڑھنابھول گیا تھا لیکن پھرآخر میں   مجھے یاد آگیاتھا اور میں   نے پڑھ لیا تھا ۔  ‘‘

کسبِ حلال کے لئے محنت ومزدوری:

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے جب زندگی میں   سختی و جدوجہد کو لازم کرلیا تو مخلوق سے منہ موڑ کر کسب حلال اورمحنت میں   مصروف ہوگئے ۔

             کہاگیا ہے کہ ’’   تصوُّف اسباب پر بھروسہ نہ کرنے اور تقدیر کی طر ف نظر کرنے کا نام ہے ۔  ‘‘

 



[1]    السنن الکبری للنسائی ،  کتاب عمل الیوم واللیلۃ ،  باب ثواب ذلک ،   الحدیث۱۰۶۵۲ ، ج۶ ،  ص ۲۰۴۔

[2]    المرجع السابق ،  باب تسبیح والتحمیدالخ ،  الحدیث : ۱۰۶۵۱۔

[3]    کتاب میں   یہ روایت یہیں   تک نقل کرکے فرمایا ’ ’آگے سابقہ حدیث کی مثل ہے‘‘لیکن ہم نے پڑھنے والوں   کے ذوق کے لئے اس سابقہ روایت کے بقیہ حصے کو دوبارہ درج کردیا ہے۔

[4]    المسند للامام احمد بن حنبل  ،  مسند علی بن ابی طالب  ،   الحدیث : ۱۳۱۲ ،  ج۱ ،  ص۳۲۲۔



Total Pages: 273

Go To