Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 213 ) …  حضرت سیِّدُناابو ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا :  ’’ میں   نے فتنے کی آنکھ پھوڑی ہے اور اگر میں   نہ ہوتا تو فلاں   فلاں   نہ مارے جاتے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 214 ) … حضرت سیِّدُناابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ بعض لوگو ں   نے حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِ مُجسَّم،  شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت ِ اَقدس میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی شکایت کی آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ سن کر منبر پر تشریف فرماہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :   ’’ اے لوگو !  علی  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کے بارے میں   شکایت نہ کرو،  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  وہ سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والے ہیں   ۔  ‘‘ ( [2] )

 ( 215 ) …  حضر ت سیِّدُنااسحاق بن کَعْب بنعُجْرَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  علی کوبرا بھلانہ کہو،   وہ اللہعَزَّوَجَلَّکی ذات میں   فنا ہیں   ۔  ‘‘  ( [3] )

70وصیتیں :

 ( 216 ) …  حضرت سیِّدُناابنِ عباّس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں   کہ ’’   ہم آپس میں   گفتگو کیا کرتے تھے کہ حضورنبی ٔاَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو 70وصیتیں   کیں   جو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے علاوہ کسی اورکو نہیں   کیں   ۔  ‘‘     ( [4] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبد اللہ اَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں  : ’’ اطاعت وفر مانبرداری امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی شان تھی اورقوت و طاقت سے اظہارِ برا ء ت کرنا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا مقام تھا ۔  ‘‘  ایک قول یہ بھی ہے کہ ’’ اپنے تمام پوشیدہ معاملات،  دلوں  کو پھیرنے والے ربّعَزَّوَجَلَّ کے سپرد کردینے کا نام تصوُّف ہے ۔  ‘‘

 ( 217 ) … حضرت سیِّدُناعلی بن حسینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَااپنے والدِماجدسے روایت کرتے ہیں   کہ ا میر المؤمنین  حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا :  حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تہجد کے وقت تشریف لائے جبکہ میں   اورفاطمہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ) سورہے تھے ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دروازے پر کھڑے ہوکر فرمایا :  ’’ کیا تم نمازِ ( تہجد  )  نہیں   پڑھتے ؟   ‘‘ میں   نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ہماری جانیں   اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قبضہ میں   ہیں   جب وہ چاہے گا توہم اُٹھ کر پڑھ لیں   گے ۔  ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وا پس تشریف لے گئے اور کوئی بات نہ کی اورمیں   نے دیکھا کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی رانوں   پر ہاتھ مارتے جاتے اوراس آیت کی تلاوت فرماتے:

وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا(۵۴) ( پ۱۵،   الکہف۵۴ )

 ترجمۂ کنزالایمان :  اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کرجھگڑالو ہے ۔   ( [5] )

تسبیح فاطمہ کے فضائل

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبد اللہ اَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں : ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اَورادپر ہمیشگی اختیار فرمانے والے اور توشۂ آخرت کے لئے بہت کوشش کرنے والے تھے ۔

            اہلِ تصوُّف فرماتے ہیں :  ’’ تصوُّف مطلوب کو پانے کے لئے محبوب کی طرف رغبت رکھنے کا نام ہے ۔  ‘‘

 ( 218 ) … امیر المؤمنین مولا مشکل کشا حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں   کہ نور کے  پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں   کچھ قیدی لائے گئے تومیں   نے حضرتِ فاطمہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا )  سے کہاکہ ’’   آپ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا ) اپنے ابّاجان،  حضوررحمتِ دوجہانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں   حاضر ہو کر کوئی غلام مانگ لائیں   کہ وہ کام کاج میں   آپ کاہاتھ بٹا سکے  ۔  ‘‘  چنانچہ،   آپ ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا )  شام کے وقت حضورنبی ٔ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر ہوئیں   توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا :   ’’ بیٹی کیا بات ہے  ؟  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے صرف اتنا عرض کیاکہ ’’   سلام کے لئے حاضر ہوئی تھی  ۔  ‘‘  حیا کی وجہ سے مزید کچھ نہ کہہ پائیں   ۔ جب گھر لوٹ کر آئیں   تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے پوچھا: ’’ کیا ہوا ؟  ‘‘ کہا :  ’’ میں   حیاکی وجہ سے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کچھ نہ کہہ سکی ۔  ‘‘  دوسری شب پھرامیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے خاتونِ جنت،  حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں   گھرکے کام کاج میں   سہولت کے لئے ایک غلام مانگنے بھیجا لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا اب بھی حیاکی وجہ سے سوال نہ کر سکیں   ۔

                 ( حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم مزید فرماتے ہیں   کہ ) جب تیسری شام آئی تو ہم دونوں   حضور نبی ٔ اَکرم،  نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں   حاضر ہوئے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آنے کا سبب دریافت فرمایاتو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :  میں   نے عرض کی :  ’’  یا رسول



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفتن ،  باب ماذکر فی عثمان ،  الحدیث : ۸۱ ، ج۸ ، ص۶۹۸۔

[2]    المسند للامام احمد بن حنبل  ،  مسند ابی سعید الخدری  ،  الحدیث : ۱۱۸۱۷ ، ج۴ ، ص۱۷۲۔

[3]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۲۴ ، ج۱۹ ، ص۱۴۸۔