Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے کندھوں   کے درمیان ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا :   ’’ اے علی  !  تجھے سات ایسے فضائل حاصل ہیں   کہ جن میں   بروزِ قیامت تمہارے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں  کرسکے گا :   ( ۱ ) …  تم اللہعَزَّوَجَلَّپر ایمان لانے میں   سب سے پہلے ہو  ۔   ( ۲ ) … اللہعَزَّوَجَلَّ کے عہد کو سب سے زیادہ پورا کرنے والے ۔  ( ۳ ) … اللہعَزَّوَجَلَّکے حکم کو سب سے زیادہ قائم کرنے والے ۔   ( ۴ ) … رعایا میں   عدل کرنے والے ۔   ( ۵ ) …  مساوات کے ساتھ تقسیم کرنے والے ۔   ( ۶ ) …  فیصلہ کرنے میں   سب سے زیادہ صاحبِ بصیرت ہواور ( ۷ ) … بروزِ قیامت سب سے بلند مرتبہ میں   ہو گے ۔  ‘‘     ( [1] )

 ( 205 ) … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،    رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشادفرمایاـ :  ’’  مرحبا ! اے مؤمنین کے سردار اورمتقین کے امام  !  ‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے عرض کی گئی: ’’  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کس چیز پراللہ عَزَّوَجَلَّ کاشکر ادا کرتے ہیں   ؟   ‘‘ فرمایا :  ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّنے جو کچھ مجھے عطا فرمایا میں   اس پراس کی حمد کرتا ،   اس کی نعمتو ں   پر شکرکی توفیق مانگتا اور مزید عطا کا سوال کرتاہوں   ۔  ‘‘     ( [2] )

بارگاہِ الٰہی میں   مقام علی :  

 ( 206 ) … حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ کریم،   رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے ابوبَرْزَہ اَسْلَمِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو بُلانے کے لئے بھیجا ( جب وہ حاضر ہوئے تو میں   نے سنا کہ )  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُنہیں   فرمایا:  ’’ اے ابوبَرْزَہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )   !  اللہعَزَّوَجَلَّنے مجھ سے علی  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کے بارے میں   عہد لیاہے کہ علی  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )   ہدایت کے عَلم ( یعنی نشانی و علامت )  ،   ایمان کے منارے ،   میرے اولیا کے امام اور میرے تمام اِطا عت شعاربندوں   کا نور ہیں   ۔  ( پھرآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا )  اے ابوبَرْزَہ  !  علی بن ابی طالب  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کل قیامت کے دن میرے امین اور میرے عَلم ( یعنی جھنڈے  )  کو اُٹھانے والے ہوں   گے اور علی  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  میرے رب عَزَّوَجَلَّکی رحمت کے خزانوں   کی کنجی ہیں    ۔  ‘‘    ( [3] )

علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اورحفاظت ِ قرآن :  

 ( 208 ) … امیر المؤمنین مولا مشکل کشاحضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :  ’’ جب رسولِ کریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وصالِ ظاہری فرمایا تومیں   نے قسم اٹھائی کہ قرآن مجید کو جمع  کرنے سے پہلے پیٹھ سے چادر نہیں   اُتارو ں   گا ۔  چنانچہ،   میں   نے ایسا ہی کیا اور قرآنِ حکیم کو جمع کرنے سے پہلے اپنی پیٹھ سے چادر نہیں   اتاری ۔  ‘‘     ( [4] )

 ( 209 ) … حضرت سیِّدُناابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں   کہ ہم (  یعنی چند صحابۂ  کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )  حضورنبی ٔ اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ چل رہے تھے کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نعلِ پاک کا تسمہ ٹو ٹ گیاامیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اسے دُرُست کیا توکچھ دیر چلنے کے بعد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  اے لوگو  !  تم میں  سے ایک شخص تأویلِ قرآن پراس طرح قتال کرے گا جس طرح میں   نے تنزیلِ قرآن پرکیا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناابو سعید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  :  ’’ میں   انہیں   یہ خوشخبری سنانے کے لئے نکلا لیکن اُنہیں   اس بات پرزیادہ خوش ہوتے نہ پایا گویا اُنہوں   نے پہلے سے سن رکھاہو ۔  ‘‘     ( [5] )

 ( 210 ) … امیر المؤمنین مولامشکل کشا حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم روایت کرتے ہیں   کہ نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا :  ’’  اے علی  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )   !  مجھیاللہ عَزَّوَجَلَّنے حکم دیا ہے کہ میں   تجھے قریب کروں   اورعلم سکھاؤں   تا کہ تو اسے یاد رکھے اور یہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی :   وَ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ(۱۲) ( پ۲۹،   الحاقہ :    ۱۲ ) ترجمۂ کنز الایمان :  اوراسے محفوظ رکھے وہ کان کہ سن کر محفوظ رکھتا ہو ۔ پس تیرے کان میرے علم کو محفوظ رکھنے والے ہیں   ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 211 ) … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’   اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  میں   قرآنِ مجید کی ہر آیت کے بارے میں   جانتا ہوں   کہ وہ کب اور کہاں   نازل ہوئی ،  بے شک میرے رب عَزَّوَجَلَّنے مجھے بہت سمجھنے والا دل اور بہت سوال کرنے والی زبان عطاکی ہے ۔  ‘‘ ( [7] )

بن مانگے عطافرمانے والے:

 ( 212 ) …  حضرت سیِّدُناابوبَخْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین مولا مشکل کشا حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے ان کے اپنے بارے میں   پوچھا گیا تو فرمایا :  ’’ جب مجھ سے کسی نے کچھ مانگاتو میں   نے اُسے دیااور جب نہ مانگا تو میں   نے بن مانگے دیا ۔  ‘‘     ( [8] )

 



[1]    الفردوس بماثور الخطاب للدیلمی ،   باب الیاء  ،  الحدیث : ۸۳۱۵ ، ج۵ ، ص۳۲۰۔

[2]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر