Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 194 ) … حضرت سیِّدُناابنِ عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّنے قرآن پاک میں   جہاں   بھی :     یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا:    اے ایمان والو ۔  سے خطاب فرمایا ہے اس گروہ کے علی  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  سردارو امیرہیں   ۔  ‘‘     ( [1] )

 ( 195 ) …  حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ بن یَمَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ لوگوں   نے حضورنبی ٔپاک،  صاحبِ لولاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت ِ اَقدس میں   عرض کی :  ’’ کیا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعلی کو خلیفہ نہیں   بنائیں   گے ؟  ‘‘ ارشاد فرمایا :  ’’  اگر تم علی کو خلافت سپر د کر و گے تو انہیں   ہدایت یافتہ و ہدایت دینے والا پاؤگے،   جو تمہیں   سیدھے راستے پر چلائے گا ۔  ‘‘     ( [2] )

 ( 196 ) … حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے رسولِ کریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اگر تم علی  کو خلیفہ بناؤ گے توانہیں   ہدایت یافتہ و ہدایت دینے والا پاؤگے ۔  وہ تمہیں   شریعت ِ بیضا  ( یعنی روشن وچمکدارواضح شریعت ) پر چلائے گا ۔  لیکن میں   نہیں   سمجھتا کہ تم ایسا کروگے ۔  ‘‘     ( [3] )

حضرت سیِّدُناعلی المرتضٰیکَرّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کاعلم،  حکمت اوردانا ئی

 ( 198 ) … حضرت سیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  میں   شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں   حاضر تھا کہ کسی نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے بارے میں  دریافت کیا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’  حکمت ودانائی کو 10 حصّوں   میں   تقسیم کیا گیا ،  9 حصے حضرت علی کو اور ایک حصہ اور لوگوں   کو عطاکیاگیا ۔  ‘‘     ( [4] )

 ( 199 ) …  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں :  میں   نے بارگاہ رِسالت میں  عرض کی :   ’’ مجھے نصیحت فرمائیے  !  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’ قُلْ رَ بِّیَ اللہ ثُمَّ اسْتَقِمْیعنی :   کہو !  میرا رب اللہ عَزَّوَجَلَّہے ۔  پھر اس پر قائم رہو ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ میں   نے کہا :  اَ للّٰہُ رَ بِّیْ  وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ یعنی :   میرا رب اللہ عَزَّوَجَلَّہے اور میری توفیق اسی کی طرف سے ہے ۔  میں   نے اسی پر بھروسا کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں    )   ۔  ‘‘  تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’  اے ابو حسن  ( یہ حضرتِ علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی کنیت ہے  )  تمہیں   علم مبارَک ہو ۔  تم نے علم کے سمند ر سے پی پی کر خوب پیاس بجھائی ۔  ‘‘     ( [5] )

 ( 200 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعو د رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ بے شک قرآن مجید 7 حروف پر اُترا ہے اور ان میں   سے ہر حر ف کا ظاہربھی ہے اورباطن بھی اورامیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ایسے عالم ہیں   جن کے پاس ظاہر و باطن دونوں   کا علم ہے ۔   ‘‘   ( [6] )

امام حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکاخطبہ :  

 ( 201 ) … حضرت سیِّدُناہُبَـیْرَہ بن یَرِیم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ( امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے وصالِ ظاہری کے ایک دن بعدآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بڑے شہزادے )  حضرت سیِّدُنا حسن بن علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کھڑے ہو کر لوگوں   کو خطبہ دیا اور فرمایا :  ’’  اے لوگو  !  گذشتہ کل تم سے ایک ایسا شخص جداہوگیا ہے کہ جس کا علمی مقام و مرتبہ ایسا تھا کہ نہ اگلے وہاں   تک پہنچ سکے اور نہ پچھلے اسے پاسکیں   گے ۔

             اوروہ ایسے تھے کہ جب نبی ٔ اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانہیں   جھنڈا عطافرماکر کسی مہم پر روانہ فرماتے تو وہ اس وقت تک نہ لوٹتے جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّانہیں   فتح عطانہ فرمادیتا ان کی دائیں   جانب حضرت سیِّدُناجبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام ہوتے اوربائیں   جانب حضرت سیِّدُنامیکائیل عَلَیْہِ السَّلَام ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہایسے سخی تھے کہ بوقت ِوصال آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے مال میں   سے صرف سات سو دِرہم باقی تھے ،   جن سے آپ ایک غلام خرید نا چاہتے تھے ۔  ‘‘    ( [7] )

نگاہِ فاروقی میں   مقامِ علی :  

 ( 202 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہابنِ عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ہم میں   سب سے بڑے قاضی اور حضرت ابی بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہم میں   سب سے بڑے قاری ہیں   ۔  ‘‘     ( [8] )

 ( 204 ) … حضرت سیِّدُناابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورِ پاک،   صاحبِ لَولاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی



[1]    فضائل الصحابۃ للامام احمد بن حنبل  ،  فضائل علی  ،  الحدیث۱۱۱۴ ،  ج۲ ، ص۶۵۴۔

[2]    المستدرک  ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ  ،  باب سؤال الناسالخ ،  الحدیث : ۴۴۹۱ / ۴۴۹۲ ، ج۴ ، ص۱۵۔۱۶

[3]    فضائل الخلفاء الراشدین لأبی نعیم الأصبہانی ،  خلافۃ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب ،   الحدیث۲۳۲ ، ص۳۶۰۔