Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

            اورجوخوش نصیب بھلائی کے ساتھ ان نُفُوس قُدسیہ کی پیروی کرتاہے وہ بھی رضائے ربُّ الانام پانے میں   کامیاب ہوجاتاہے ۔  ارشادِباری تعالیٰ ہے :   

وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (  پ۱۱،  التوبہ :  ۱۰۰ )

 ترجمۂ کنزالایمان: اورجوبھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اوروہ اللہ سے راضی ۔

            مفسرِشہیر،  حکیم الامت مفتی اَحمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس کی تفسیرمیں   فرماتے ہیں : ’’  یعنی قیامت تک کے تمام وہ مسلمان جومہاجرین واَنصار ( صحابۂ کرام رَضِوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ) کی اِطاعت وپیروی کرنے والے ہیں   یاباقی صحابہ ،   ان سب سی اللہ  ( عَزَّوَجَلَّ )  راضی ہے مگراگلے،   اِمام ( یعنی پیشوا )  ہیں   اورپچھلے،   مقتدِی ( یعنی پیروی کرنے والے )  اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ قیامت تک وہی مسلمان حق پرہیں   جوتمام مہاجرین واَنصارصحابۂ کرام ( رَضِوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )  کے پیروکارہیں   لہٰذا رَوافض وخوارج باطل پرہیں    ۔  دوسرے یہ کہ ہرمتقی سنی مسلمان کو ’’  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم ‘‘ کہہ سکتے ہیں   ۔ یہ لفظ صرف صحابہ کے لئے خاص نہیں   ۔ تیسرے یہ کہ جب ربّ تعالیٰ صحابہ کے غلاموں   سے راضی ہے تو خود صحابہ سے کتناراضی ہوگا ۔  ‘‘   ( [1] )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !

           آئیے !  ہم اپنے قلوب واَذہان  ( یعنی دل ودماغ ) میں   اللہ والوں  بالخصوصصحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کی عظمت وشان اوران سے محبت کی ایسی شمع روشن کریں   کہ اس کا فیضان ہماری آئندہ نسلوں   کو بھی حاصل ہو ۔  سچی بات ہے کہ شب وروز سرکارِ دوجہاں  ،  رحمتِ عالمیاں  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے درِاَقدس پر حاضر رہنے اور تربیت پانے والی ان عظیم الشان ہستیوں   کی مبارک وپاکیزہ زندگیوں   اور ان کے مبارک حالات کامطالعہ کرکے ہرایک خواہ وہ زندگی کے کسی بھی شعبہ سے تعلُّق رکھتاہو،  بھرپور راہنمائی حاصل کرسکتا ہے ۔ زیرِنظرکتاب ’’  اللہ والوں   کی باتیں   ‘‘ حضرت سیِّدُناامام حافظ اَبُوْنُعَیْم اَحمد بن عبد اللہاَصْفَہانی شافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَافِی ( مُتَوَفّٰی۴۳۰ھ) کیاللہ والوں  سے محبت میں   ڈوب کرلکھی ہوئی شہرۂ آفاق مبارَک کتاب ’’ حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء ‘‘ کی پہلی جلد کاترجمہ ہے ۔ یہ کتاب حضرات خلفائے راشدین،  ان کے علاوہ عشرہ مبشرہ میں   شامل صحابۂ کرام ،  مہاجرصحابۂ کرام،   اہل صُفَّہ،  ساکنین مسجدنبوی،   صحابیات،   تابعین،   تبع تابعین،   مشرقی اَولیائے کرام،  سرداران صوفیائ،  عراقی عارفین،  بغدادی اَولیائے کرام اور مصنف کے ہم عصر اولیائے عُظَّام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے خوفِ خدا وعشقِ مصطفی ،   فضائل وکمالات ،  سیرت وکردار،   صفات وعادات،  عبادات واَخلاقیات،   اَعمال و اَقوال ،   اَفعال و اَحوال ،   زہد وتقویٰ اور حالات وواقعات پر مشتمل ہے  ۔ ابتدا میں   حضرت مصنفرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اَحادیث مبارکہ کی روشنی میں   اَولیائے کرام کی شان ،  مقام ومرتبہ اورتصوف کوبیان فرمایاہے جس سے اِسلام میں   تصوف کی اَہمیت کا اندازہ ہوتاہے ۔  اس کتاب کی اِفادیت کے پیش نظرقبلہ امیرِاہلسنّت ،  شیخ طریقت ،  بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے ’’  مجلس المدینۃ العلمیۃ ‘‘  کواس کے اُردوترجمہ کرنے کی طرف متوجہ فرمایا ۔

            اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّ ’’ مجلس المدینۃ العلمیۃ ‘‘ کے شعبۂ تراجم کتب ( عربی سے اُردو )  کے مدنی عُلماکَثَّرَھُمُ اللہ تَعَالٰی نے ’’ اپنی اورساری دنیا کے لوگوں  کی اصلاح کی کوشش  ‘‘ کے مقدّس جذبہ کے تحت مسلسل کوششوں   اور اَنتھک کاوشوں   سے اس کتاب کا اُردو ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی ۔  اس کی پہلی جلدکا اُردو ترجمہ بنام ’’  اللہ والوں   کی باتیں   ‘‘  آپ کے ہاتھوں   میں   ہے ۔  اللہورسول  عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت و فرمانبرداری پر اِستقامت پانے،  فیضانِ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کوعام کرنے اوراپنی اورساری دنیا کے لوگوں  کی اِصلاح کی کوشش کا مقدس جذبہ اُجاگرکرنے کے لئے خودبھی اس کتاب کامُطَالَعَہ کریں   اورحسبِ اِستطاعت مکتبہ المدینہ سے خریدکر دوسروں   کوبطورِتحفہ پیش کریں   ۔

          ترجمہ کرتے ہوئے درج ذیل اُمور کاخصوصی طور پر خیال رکھا گیا ہے:

 ( ۱ ) … ترجمہ کے لئے دارُالکتب العلمیۃ  ( بیروت،   لبنان )  کا نسخہ  ( مطبوعہ۱۴۱۸ھ /  ۱۹۹۷ء )  استعمال کیا گیا ہے  ۔

 ( ۲ ) … چونکہ ہمارے پاس اس کتاب کاایک ہی نسخہ ہے اوراس کے عربی متن میں   بہت جگہ غلطیاں  ہیں   جس کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔  مگر دیگر کتب سے تلاش کرکے حتی الامکان دُرُستی کی کوشش کی گئی ہے ۔ تاہم پھر بھی آپ غلطی پائیں   تو تحریری طور پرمجلس کو مطلع فرمائیں   ۔  

 ( ۳ ) … سلیس اوربامحاورہ ترجمہ کیا گیا ہے تاکہ کم پڑھے لکھے اسلامی بھائی بھی اچھی طرح سمجھ سکیں   ۔

 ( ۴ ) آیات ِ مبارکہ کا ترجمہ اعلیٰ حضرت،   امامِ اہلسنّت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے ترجمۂ قرآن کنزالایمان سے لیا گیا ہے ۔

 ( ۵ ) …  آیاتِ مبارکہ کے حوالے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے اور حتی الْمَقْدُوراحادیث ِطیبہ اور اَقوالِ صحابہ وتابعین وغیرہ کی تخریج بھی کی گئی ہے  ۔

 ( ۶ ) بعض مقامات پر مفید حواشی اور اَکابرینِ اَہلسنّت کی تحقیق کودرج کردیا ہے  ۔

 ( ۷ ) صحابۂ کرام،  راویوں   رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اورشہروں   کے ناموں  پراِعراب کااِہتمام کیا گیا ہے ۔

 ( ۸ ) کئی مقامات پرمشکل اَلفاظ کے معانی ہِلالین ( brackets )  میں   لکھ دیئے گئے ہیں   ۔

 ( ۹ ) تلفظ کی دُرُستی کے لئے مشکل وغیرمعروف اَلفاظ پر اِعراب کااِلتزام کیا گیا ہے ۔

 ( ۱۰ ) موقع کی مناسبت سے جگہ بہ جگہ عنوانات قائم کئے گئے ہیں   ۔

 ( ۱۱ ) علاماتِ ترقیم ( رُموزِاَوقاف )  کابھی بھرپورخیال رکھا گیاہے  ۔

 



[1]     تفسیرنورالعرفان ،   پ۱۰ ،  التوبۃ ،   تحت الآیۃ : ۱۰۰۔



Total Pages: 273

Go To