Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

جائے لیکن مجھے یہ پتہ نہ ہو کہ مجھے کس طرف جانے کا حکم ہو گا تو میں   یہ پسند کروں   گاکہ مٹی ہوجاؤں  ،   اس سے پہلے کہ مجھے کسی طرف جانے کا حکم دیا جائے ۔  ‘‘ ( [1] )

( 184 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عامر بن ربیعہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ  ( محاصرہ کے دن  )  ہم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس تھے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  میں   نے نہ توزمانہ جاہلیت میں  کبھی زنا کیا تھا اورنہ ہی اسلام قبول کرنے کے بعد ۔  اسلام قبول کرنے کے بعد میری حیا میں   مزید اضافہ ہو ا ۔  ‘‘     ( [2] )

 ( 185 ) …  حضرت سیِّدُناعقبہ بن صہبان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  میں   نے جب سے اسلام قبول کیا ،  کبھی بھی اپنا سیدھا ہاتھ اپنی شرمگاہ کو نہیں   لگایا ۔  ‘‘     ( [3] )

 ( 186 ) … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے غلام ہانی فرماتے ہیں : امیر المؤمنین حضرت  سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے،  تو اس قدر روتے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی ریش  ( یعنی ڈاڑھی ) مبارَک آنسو ٔوں   سے تر ہوجاتی ۔  ‘‘     ( [4] )

 ( 187 ) … امیر المؤمنین حضر ت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ ،   با عثِ نُزولِ سکینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  سوائے خالی روٹی کے عمدہ کھانے ،   میٹھا پانی اور سایہ دار گھر ابن آدم کے لئے نعمت ہیں   اور اس کے لئے اس میں   کوئی فضیلت نہیں   ۔  ‘‘     ( [5] )

خطاؤں   کومٹانے والاکلمہ :  

 ( 188 ) … حضرت سیِّدُناابومَشْجَعَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے :   ہم ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ہمراہ ایک مریض کی عیادت کے لئے گئے،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے فرمایا :   ’’  کہو ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ‘‘   مریض نے یہ کلمہ پڑھا  ۔  ‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں  میری جان ہے !  اس شخص نے کلمہ طیبہ کے ذریعے اپنی خطا ؤں   کومٹا لیا  ۔  ‘‘ راوی کہتے ہیں  : میں   نے استفسار کیاکہ ’’  یہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہخود فرمارہے ہیں   یانبی ٔ کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنا ہے  ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ یہ میں   نے اپنی طرف سے نہیں   کہا بلکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا ہے ۔  ‘‘   ( جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ ارشادفرمایا تھا  ) توصحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی :  ’’  یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  یہ تو مریض کے لئے ہے ،   تندرست کے لئے اس کی کیا فضیلت ہے  ؟  ‘‘ ارشاد فرمایا :   ’’ تندرست کے لئے یہ زیادہ گناہوں   کو مٹا نے والا ہے ۔  ‘‘     ( [6] )

٭٭٭٭٭٭

امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولامشکل کشا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمْصاحبِ سیادت،  محبِ آخرت ،   محبوبِ ربُّ العزّت،  بابِ مدینۃُ الْعِلم اورشہسوارِ میدانِ خطابت تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہقرآن وسنت سے اشارۃً ثابت ہونے والے مسائل کو نکالنے کی خوب صلاحیت رکھتے تھے ۔ طالبینِ راہِ ہدایت کے لئے نشانی و علامت کی حیثیت رکھتے تھے ۔ اطاعت گزاروں   کے لئے چراغ اور پرہیزگاروں   کے دوست تھے ۔  عدل کرنے والوں   کے امام ،    ( بچوں   میں   ) سب سے پہلے ہادیٔ برحقصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوتِ حق کو قبول کرکے اللہ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْک کی وحدانیت اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رِسالت پرایمان لانے والے،  پختہ یقین و اعتمادکے ساتھ دُرُست فیصلے فرمانے والے ،  سب سے بڑھ کر حلم اورعلم والے تھے  ۔

            آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاہلِ تقویٰ کے پیشو ا اور اہلِ معرفت کی زینت ہیں   ۔ حقائقِ توحید سے آگا ہ کرتے ،  علم توحید کے انوار کی طرف اشارہ فرماتے ۔  بہت دانشمند و بڑے سمجھدار دل کے مالک تھے،   کثرت سے سوال کرنے والی زبان اور محفوظ کرنے والے کان رکھتے تھے،  وعدہ پوراکرتے،   مصیبت و آزمائش کے اَسباب سے بچتے تھے  ۔  چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عہد تو ڑنے والوں   کو شکست دی ،   انصا ف کا بول بالااور دشمنان دین کا ڈٹ کر مقابلہ کیااور انہیں   نیست و نابو د کردیا ۔  کہاجاتا ہے کہ ’’   تصوُّف اللہ عَزَّوَجَلَّکی اطاعت بجا لانے اور اس کی مقر ر کردہ حدو ں   کو توڑنے سے بچنے کا نام ہے ۔  ‘‘

خداومصطفٰی عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے  حبوب :  

 ( 189 ) …  حضرت سیِّدُناسَہل بن سَعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔاَکرم،   نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خیبر کے دن ارشاد فرمایا :   ’’  میں   یہ جھنڈا کل ایک ایسے شخص کودوں   گا جس کے ہاتھ پر اللہ    عَزَّوَجَلَّفتح عطا فرمائے گا وہ اللہ اور اس کے رسو ل سے محبت کرتا ہے اور اللہ  اور اس کا رسول اس سے محبت فرماتے ہیں   ۔  ‘‘  راوی



[1]    الزھد للامام احمد بن حنبل ،  زھد عثمان بن عفان  ،  الحدیث : ۶۸۶ ، ص۱۵۵۔

[2]    سنن النسائی  ،  کتاب المحاربۃ  ،  باب ذکر ما یحل بہ دم المسلم  ،   الحدیث : ۴۰۲۴ ، ص۲۳۵۱ ،  مختصرًا۔

[3]    سنن ابن ماجہ  ،  ابواب الطھارۃ ،  باب کراھۃ مس الذکربالیمین والاستنجاء بالیمین ،  الحدیث : ۳۱۱ ، ص۲۴۹۶ ، بتغیرٍ۔

[4]    جامع الترمذی ،  ابواب الزھد ،  باب ماجاء فظاعۃالخ ،  الحدیث : ۲۳۰۸

Total Pages: 273

Go To