Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 173 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ’’  جب سرکارِ والا تَبار،  ہم بے کسوں   کے مددگار،   شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو جنگِ تبوک کے دن تیاری کے لئے بھاگ دو ڑ کرتے دیکھا تو یہ دُعا فرمائی:  یااللہ عَزَّوَجَلَّعثمان  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کے اگلے پچھلے ،  ظاہروچھپے سب گناہ معاف فرما ۔  ‘‘     ( [1] )

 ( 174 ) … حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن سمرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں   کہ میں   جنگِ تبوک کے موقع پر حضور نبی ٔ اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اَقدس میں   حاضر تھا  ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہایک ہزار دینار لا ئے اورآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں   پیش کرکے چلے گئے ،  پھر دوبارہ آئے اور مزید ایک ہزاردینار پیش کئے اورچلے گئے ۔ راوی کہتے ہیں : ’’ میں   نے دیکھا کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان دیناروں   کو اُلٹ پلٹ کرتے ہوئے فرمارہے ہیں :  ’’ آج کے بعد عثمان  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کوکسی عمل سے نقصان نہیں   ہوگا ۔  ‘‘     ( [2] )

 ( 175 ) … حضرت سیِّدُناابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :  جب حضور نبی ٔ اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغزوۂ تبوک کی تیار ی فرمانے لگے توامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضورنبی ٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں   ایک ہزار دینارپیش کئے پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا مانگی :   ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّعثمان  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کو فراموش نہ کرنا ۔  ‘‘ پھر فرمایا :   ’’ آج کے بعد عثمان  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  جو بھی عمل کریں   ان پر کوئی حرج نہیں   ۔  ‘‘     ( [3] )

 ( 176 ) … حضرت سیِّدُناقتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں : ’’  میں   نے جنگِ تبوک کے موقعے پرامیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکودیکھاکہ اُنہوں   نے ایک ہزار مجاہد ین کو ساز و سامان کے ساتھ سواریاں   دیں   ،   جن میں   پچا س گھوڑے تھے ۔  ‘‘     ( [4] )

لباس میں   سادگی :  

 ( 177 ) … حضرت سیِّدُناحسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،  فرماتے ہیں : ’’ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو مسجد میں   ایک کپڑے میں   لپٹے سو ئے دیکھا،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے آس پاس کوئی نہ تھا حالانکہ اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین تھے ۔  ‘‘     ( [5] )

 ( 178 )  … حضرت سیِّدُناعبد الملک بن شداد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْجَوَادفرماتے ہیں : ’’  میں   نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفا ن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو جمعہ کے دن منبر پراس حال میں   دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے جسمِ مبارَک پرایک موٹی عَدَنی  ( یعنی یمنی )  چادرتھی جس کی قیمت بمشکل چار یا پانچ درہم ہوگی اور ایک کوفی چادرتھی ۔  ‘‘   ( [6] )

 ( 179 )  … حضر ت سیِّدُنایونس بن عبید رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مسجدمیں   قیلولہ کرنے والوں   کے بارے میں   سوال ہواتوفرمایا :   ’’ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو مسجد میں   قیلولہ کرتے دیکھاہے ،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاُن دنوں   خلیفۂ وقت تھے ،  جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاُٹھے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پہلو پرکنکریوں   کے نشان تھے حالانکہ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین تھے ۔  ‘‘     ( [7] )

 ( 180 ) … حضرت سیِّدُناشُرَ حْبِیْل بن مسلم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہلوگوں   کو امیر وں   والا کھانا کھلاتے اور خود گھر جا کر سرکہ اورزیتو ن کے ساتھ کھانا تناو ُل فرماتے  ۔  ‘‘     ( [8] )

 ( 181 ) … حضرت سیِّدُناسلیمان بن موسیٰ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو چند ایسے لوگوں   کے بارے میں   بتایا گیاجو کسی برے کام میں   مصروف تھے ،   جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہوہاں   پہنچے تو وہ لوگ جا چکے تھے،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے وہاں   برائی کے آثا ر دیکھے تو اس بات پر اللہ   عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کیا کہ اُنہوں   نے برائی ہوتے نہیں   دیکھی نیز اس کے شکرانے میں   ایک غلام بھی آزادکیا ۔  ‘‘   ( [9] )

غلام کے ساتھ حسنِ سلوک :  

 ( 182 ) … حضرت سیِّدُنامیمون بن مِہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں : مجھے ہمدانی نے بتایا کہ ’’   انہوں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکودیکھا کہ ایک خچر پر سوارہیں  اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پیچھے آپ کا غلام نائل بیٹھا ہے اوریہ اس وقت کی بات ہے جب کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمسلمانوں   کے امیرتھے ۔  ‘‘     ( [10] )

 ( 183 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہبن رو میعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  اگرمجھے جنت و دوزخ کے درمیان کھڑا کیا



[1]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر  ،  الرقم۴۶۱۹عثمان بن عفان  ، ج۳۹ ، ص۵۷۔

[2]    جامع الترمذی  ،  ابواب المناقب  ،  باب فی عد عثمان تسمیۃ شھیدا  ،  الحدیث۳۷۰۱ ،  ص ۲۰۳۳ ، بتغیرٍقلیلٍ۔

[3]    فضائل الخلفاء الراشدین لأبی نعیم الأصبہانی  ،  فضیلۃ لذی النورین عثمان بن عفان  ،  الحدیث۷ ، ص۱۱۔

[4]