Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

سرورِ دوعالم ،  نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد

 فرمایا :   ’’ طَلَـبُ الْــعِـلْمِ فَـرِ یْضَۃٌ عَــلٰی کُلِّ مُسْلِم یعنی :   عِـــــلْــــم کا طلب

کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے  ۔  ‘‘

 ( سنن ابن ماجہ،   الحدیث۲۲۴،  ج ۱،  ص۱۴۶ )

امیرالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعُثمان بن عَفانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے کمالِ انکساری کے ساتھ اظہارِ بندگی کرنے والے  ۔ ذو النورین ( [1] )کا لقب پانے والے ۔ خوف خدا رکھنے والے  ۔ راہِ خدامیں   دو مرتبہ ہجرت کرنے والے ۔  دونوں   قبلوں   ( بیت المقدس اورخانہ کعبہ  ) کی طر ف نماز پڑھنے کا شر ف حاصل کرنے والے ۔ مسلمانوں   کے تیسرے عظیم الشان خلیفہ تھے  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہان لوگوں   میں   سے ہیں   جن کے بارے میں   اللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا :

اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْاؕ- ( پ۱۰،   الما ئدۃ :    ۹۳ )

ترجمۂ  کنزالایمان :  ایمان رکھیں   اور نیکیاں   کریں   پھر ڈریں   اور ایمان رکھیں   پھر ڈریں   اور نیک رہیں   ۔

            امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکاشمار اللہ عَزَّوَجَلَّکے ان عبادت گزار بندوں   میں  ہوتا ہے جو ساری ساری رات اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   سجدہ وقیام کی حالت میں   رہتے ۔  آخرت سے ڈرتے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی رحمت کی آس لگائے رکھتے ہیں   ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خصوصی صفات میں   سخاوت وحیا ،   خوف ِخدا اور رحمت ِ خداوندی کی ہمیشہ امید رکھناشامل ہیں   ۔ دِن سخاوت وروزہ کی حالت میں   گزرتا تو رات بارگاہ ِخدا وندی میں   سجدہ وقیام میں   کٹ جاتی ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو مصیبتیں   آنے اور ان پر صبر کرکے جنت پانے کی خوشخبری سنائی گئی ۔  کہا گیا ہے کہ ’’   تصوُّف راہ حق میں   مصروفِ عمل رہ کر منزل تک رسائی پانے کا نام ہے ۔  ‘‘

عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے فضائل پرآیات مبارَکہ:

 ( 155 ) …  حضرت سیِّدُنامحمد بن حَاطِب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکاذکر خیرہونے لگاتوحضرت سیِّدُنا حسن بن علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :   ’’ ابھی امیر المومنین تشریف لائیں   گے ۔  چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم تشریف لائے اور فرمایا :   ’’ حضرت سیِّدُناعثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہان خوش بختوں   میں   سے ہیں   جن کی شانِ عظمت نشان میں   رحمن عَزَّوَجَلَّکا یہ فرمان نازل ہو ا  :

اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠(۹۳) ( پ۷،   المائدۃ :    ۹۳ )

 ترجمۂ کنزالایمان: ایمان رکھیں   اور نیکیاں   کریں   پھرڈریں   اور ایمان رکھیں   پھرڈریں   اور نیک رہیں   اوراللہ نیکوں   کو دوست رکھتا ہے ۔   ( [2] )

 ( 156 ) … حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا یہ فرمان امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   ہے :

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآىٕمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖؕ     ( پ۲۳،   الزمر :    ۹ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  کیا وہ جسے فرمانبردار ی میں   رات کی گھڑیاں   گزریں   سجود میں   اور قیام میں   آخرت سے ڈرتااوراپنے رب کی رحمت کی آس لگائے ۔   ( [3] )

عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی شرم و حیا

 ( 157 )  … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیب ،   حبیب لبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  میری امت میں  سب سے زیادہ پیکرشرم و حیا اور معزز ومکرم عثمان بن عفان ہیں    ۔  ‘‘     ( [4] )

 ( 158 ) … حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ کریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  میری امت میں   سب سے زیادہ با حیا انسان عثمان بن عفان ہیں   ۔  ‘‘     ( [5] )

 ( 159 ) … حضر ت سیِّدُناحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاور ان کی شرم و حیا کی شدت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’   اگر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکسی کمرے میں   ہوتے اوراس کا دروازہ بھی بند ہوتا تب بھی نہانے کے لئے کپڑے نہ اتارتے اورحیا کی وجہ سے کمر سیدھی نہ کرتے تھے ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 160 ) … حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں   کہ ’’   قریش کے 3 شخصوں   کا چہرہ سب سے روشن و پیارا ہے ۔ ان کے اخلاق بھی سب سے اچھے ہیں   اور شرم و حیا



[1]    امیرالمؤ منین حضرت سیِّدُناعثمان غنی  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو ذوالنورین  ( یعنی دونوروں  والا ) اس لیے کہا جاتا ہے کہ سیِّدِعالَم  ، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی 2 شہزادیاں   حضرتِ سیِّدتُنارقیہ اورحضرتِ سیِّدتُناامِ کلثوم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا یکے بعددیگرے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے نکاح میں   آئیں   تھیں  ۔ ( عامہ کتب سیرت )

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،  کتاب الفضائل  ،  ما ذکر فی فضل عثمان بن عفان  ،  الحدیث۳۸ ،  ج۷ ، ص۴۹۳۔

[3]

Total Pages: 273

Go To