Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 148 )  … حضرت سیِّدُناسعید بن مسیب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے وادیٔ بطحامیں   ایک جگہ اپنے ہاتھوں   سے مٹی ہموار کی پھر اس پر اپنی چادر کا ایک حصہ بچھا کر اس پر چِت لیٹ گئے اور اپنے دونوں   ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے دُعا مانگی :  ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ !  میں   بوڑھا ہو چکا ہوں   میرے اعصاب کمزور پڑگئے ،   میری رعایا پھیل چکی ہے ،  پس میرے ضائع کرنے اور زیادتی کرنے سے قبل تو مجھے اپنے پاس بلا لے ۔  ‘‘     ( [1] )

 ( 149 ) … حضرت سیِّدُناسلیم بن حنظلہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہدُعا مانگا کرتے تھے :  ’’ اللہمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ تَأْخُذَنِیْ عَلٰی غِرَّۃٍ اَوْتَذَرَنِیْ فِیْ غَفْلَۃٍ اَوْتَجْعَلَنِیْ مِنَ الْغَافِلِیْن یعنییااللہعَزَّوَجَلَّ !  میں    اچانک موت ،  غفلت کی موت اور غفلت کی زندگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں   ۔  ‘‘     ( [2] )

 ( 150 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن خراش رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ایک خطبہ میں   یہ دُعامانگی :  ’’ اللہمَّ اَعْصِمْنَابِحَبْلِکَ وَثَبِّتْنَا عَلَی اَمْرِکیعنی یااللہ عَزَّوَجَلَّ !   اپنی رسی کے ساتھ ہماری حفاظت فرما اور اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما ۔  ‘‘     ( [3] )

فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکاجنت میں   محل:

 ( 151 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : مجھے اس بات کی بہت خواہش تھی کہ مجھے کوئی امیر المؤمنین حضر ت سیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   بتائے ۔  پس میں   نے خواب میں   ایک محل دیکھاتوپوچھا :   ’’ یہ محل کس کا ہے  ؟  ‘‘  فرشتوں   نے مجھے بتایا کہ ’’  یہ محل عمر بن خطاب کاہے ۔  ‘‘ اتنے میں   امیرالمؤمنین  حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس محل سے اس حال میں   باہر تشریف لائے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہپر ایک چادر تھی گویا ابھی غسل فرمایا ہے  ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا  ؟  ‘‘ آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایاکہ ’’   اگر میرا ربعَزَّوَجَلَّمیری بخشش نہ فرماتا تو قریب تھا کہ میری خلافت مجھے لے ڈوبتی  ۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پوچھا :   ’’ مجھے تم سے جدا ہوئے کتنا عرصہ گزرا ہے  ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی: ’’  12 سال ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اب جاکر حساب وکتاب سے فارغ ہوا ہوں   ۔  ‘‘     ( [4] )

 ( 152 ) … حضرت سیِّدُناعباس بن عبدالمطلب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  : میں   امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُنا عمرِ فاروق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا پڑو سی تھا میں   نے کسی کو ان سے افضل نہیں   پایا،  ان کی رات عبادت میں   گزرتی تو دن روزے او ر لوگوں   کی ضروریات پوری کرنے میں   ۔  جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکاوصال ہواتو میں   نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کی کہ ’’   مجھے خواب میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زیارت نصیب فرما ۔  پس میں   نے دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمدینہ کے بازار کی طر ف سے سر پر عمامہ باندھے تشریف لارہے ہیں   ،  میں   نے سلام کیا ،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے میرے سلام کا جواب دیا پھر میں   نے پوچھا :  ’’  آپ کیسے ہیں    ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ میں   خیریت سے ہوں   ۔  ‘‘ میں   نے پوچھا :   ’’ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا  ؟  ‘‘  فرمایا: ’’  اب حساب وکتاب سے فارغ ہو ا ہوں   ۔ اگر ربِّ غفار عَزَّوَجَلَّمیری بخشش نہ فرماتاتو قریب تھا کہ میری خلافت مجھے لے ڈوبتی  ۔  ‘‘     ( [5] )

نظر فاروقی میں   دوستی کامعیار :  

 ( 153 ) … حضرت سیِّدُنامحمدبن شہابعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَہَّاب سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضر تِ سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  بے فا ئدہ کاموں   میں   مشغول نہ ہونا،   اپنے دشمن سے دُور رہنا ،   دوستی کے لئے صرف امانت دار شخص کا انتخاب کرناکیونکہ امانت دار کے برابر قوم کا کوئی شخص نہیں   ہوتا ،   فاجر شخص کی صحبت اختیار کرنے سے بچنا ورنہ وہ تمہیں   گناہ کے راستے پر لگا دے گا اور اسے کبھی بھی اپنا راز نہ بتانااور اپنے معاملات کا مشورہ ایسے لوگو ں   سے کرنا جو اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتے ہوں   ۔  ‘‘     ( [6] )

حق کابول بالاکرنے والے:

 ( 154 ) … حضرت سیِّدُناابن زبیر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّکے کچھ بندے ایسے ہیں   جو باطل کو چھوڑ کر اسے موت کی نیند سلادیتے اور حق کا بول بالا کر کے اسے جِلا بخشتے ہیں   ۔  انہیں   اللہ عَزَّوَجَلَّکی نعمتوں   کی طر ف رغبت دلائی جائے تو خوش ہوتے اورعذاب الٰہی سے ڈرایا جائے تو ڈرنے لگتے ہیں   ۔  وہ اللہ عَزَّوَجَلَّسے خوفزدہ ہونے کے بعد دوبارہ اطمینان کی سانس نہیں   لیتے اوربِن دیکھے لازوال یقین سے مالامال ہوتے ہیں   ۔ خوف نے ان کو ایسا خلوص بخشا کہ باقی رہنے والی زندگی کے مقابلہ میں   انہوں   نے ہر چیز سے جدائی اختیارکرلی ۔  زندگی ان کے لیے نعمت اور موت کرامت ہے ۔  حورعین سے ان کا نکاح ہو گا اور ہمیشہ رہنے والے نو عمر لڑکے ان کی خدمت پر مامور ہوں   گے ۔  ‘‘

٭٭٭٭٭٭

پیارے اسلامی بھائیو !

 



[1]    موطا للامام مالک  ،  کتاب الحدود  ،   باب ماجاء فی الرجم  ،  الحدیث : ۱۵۸۵ ، ج۲ ، ص۳۳۴۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  کلام عمربن خطاب ،  الحدیث : ۱۱ ، ج۸ ، ص۱۴۸۔

[3]    شرح اصول اعتقاد اھل السنۃ والجماعۃ  ،  باب جماع الکلام فی الایمان ،  قول عمرو معاذ ،  الحدیث : ۱۵۳۰ ، ج۱ ، ص۷۲۶۔

[4]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ،   الرقم ۵۲۰۶عمر بن الخطاب  ، ج۴۴ ، ص۴۸۳ بروایۃ عبداللہ بن عمرو۔

[5]    الطبقات الکبری لابن سعد  ،  رقم۵۶عمر بن خطاب ، ج۳ ،  ص۲۸۶