Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

خدمت میں   حاضرہوااور عرض کی :  

 ’’  یاامیرالمؤمنین ! خوشخبری ہو اللہ عَزَّوَجَلَّنے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ذریعے شہر فتح  کر وائے،   نفاق کا خاتمہ کیا اور رزق کے دروازے کھول دیئے  ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے استفسار فرمایا :  ’’  اے ابن عباس  !  کیا آپ حکومت  سے متعلق میری تعریف کررہے ہیں   ؟  ‘‘ میں   نے عرض کی کہ ’’   امارت کے علاوہ بھی  ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے !  میں   چاہتاہوں   کہ خلافت سے اس طر ح نکل جاؤں   جس طرح اس میں   داخل ہوا تھااور میرے لئے اس پر کوئی ثواب ہو نہ عذاب ۔  ‘‘     ( [1] )

خلیفۂ وقت کی چادرمیں   بارہ پیوند :  

 ( 140 )  … حضرت سیِّدُناحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے مروی ہے کہ ’’   ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے دورِ خلافت میں   خطبہ دیا اور اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے جو چادر پہنی ہوئی تھی اس میں   بارہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے ۔  ‘‘     ( [2] )

احساسِ ذمَّہ  داری :  

 ( 141 ) … حضرت سیِّدُناداؤد بن علیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اگر نہر فرات کے کنارے ایک بکری بھی بھوکی مرگئی تو مجھے اندیشہ ہے کہ بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّمجھ سے اس کے بارے میں   باز پُرس فرمائے گا ۔  ‘‘

رحمت ِ الٰہی کی امید :  

 ( 142 )  … حضرت سیِّدُنایحییٰ بن ابی کثیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَدِیْر سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: اگر کوئی مُنادِی آسمان سے ندا دے کہ ’’   اے لوگو !  تم سب جنت میں   جاؤ گے سوائے ایک شخص کے ‘‘  تو مجھے خوف ہے کہ وہ شخص کہیں   میں   نہ ہوں   اور اگر کوئی مُنادِی ندادے کہ ’’   اے لوگو  !  تم سب جہنم میں   جاؤگے سوائے ایک شخص کے  ‘‘  تو مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں   ہوں   گا ۔

 ( 143 ) … حضرت سیِّدُنانافع  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے صاحبزادے  ( حضرت سیِّدُناعبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کی نیکی کرنے میں   کوئی فر ق نہ ہوتاتھا یہاں   تک کہ کوئی بات یا عمل ایسا نہ کرتے جس سے دونوں   میں   امتیاز ہوسکے ۔  ‘‘     ( [3] )

فاروق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی دُعائیں 

 ( 144 ) … حضرت سیِّدُناابن عکیمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْحَکِیْمسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   مجھ سے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :   یہ دعا مانگا کرو ’’ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ سَرِ یْرَتِیْ خَیْرًا مِّنْ عَلَانِیَّتِیْ وَاجْعَلْ عَلَانِیَّتِیْ حَسَنَۃیعنی :   یااللہعَزَّوَجَلَّ !  میرے باطن کو میرے ظاہر سے بھی بہتر بنادے اور میرے ظاہر کواوراچھا کر دے  ۔  ‘‘     ( [4] )

 ( 145 )  … حضرت سیِّدُنااسود بن بلال محاربی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہخلیفہ بنے تو منبر پر کھڑے ہوکر اللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد وثناکی پھر فرمایا :  ’’  اے لوگو  !  میں   دُعا مانگتا ہوں  ،   تم آمین کہتے جاؤ ! پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے یہ دعا کی :   یااللہعَزَّوَجَلَّ !  میں   سخت ہوں  ،   مجھے نرم کر دے  ۔  میں   بخیل ہوں  ،   مجھے سخی بنادے ۔  میں   کمزور ہوں  ،   مجھے قوت عطا فرما ۔  ‘‘     ( [5] )

 ( 146 ) … حضرت سیِّدُنازید بن اَسلم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم   اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ انہوں   نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکویوں   دُعا کرتے ہوئے سنا :  ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ !  میری شہادت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں   نہ ہو جس نے تجھے سجدہ کیا ہوکہ کہیں   وہ اس وجہ سے بروزِ قیامت مجھ سے جھگڑا نہ کرے ۔  ‘‘     ( [6] )

 ( 147 ) … اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُناحفصہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو یہ دُعا مانگتے ہوئے سنا :  ’’  اللہمَّ قَتْـلًا فِیْ سَبِیْلِکَ،   وَوَفَاۃً فِیْ بَلَدِنَبِیِّکَیعنی یااللہعَزَّوَجَلَّ !  مجھے اپنی راہ میں   شہادت کی موت عطافرما اور اپنے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے شہر میں   مرنانصیب فرما ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’  یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا :  ’’  جب اللہ عَزَّوَجَلَّچاہے گا تو ایسا ہوگا  ۔  ‘‘     ( [7] )

 



[1]    السنن الکبری للبیھقی ،  کتاب آداب القاضی ،   باب کراھیۃ الامارۃالخ ،   الحدیث : ۱۰۲۲۸ ، ج۱۰ ، ص۱۶۶۔

[2]    الزھد للامام احمد بن حنبل ،   زھد عمر بن الخطاب ،   الحدیث : ۶۵۸ ، ص۱۵۲۔

[3]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،   الرقم۵۶عمربن الخطاب ،   باب ذکراستخلاف عمربن الخطاب ، ج۳ ، ص۲۲۱۔

[4]    جامع الترمذی ،  کتاب الدعوات ،  باب دعاء اللہم اجعل سریرتی خیرامن علانیتی ،   الحدیث : ۳۵۸۶ ، ص۲۰۲۱۔

[5]    الطبقات الکبری لابن سعد ،  رقم۵۶عمربن خطاب ،  باب ذکراستخلاف عمربن خطاب ، ج۳ ، ص۲۰۸