Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

 

سردی کاموسم غنیمت ہے :  

 ( 131 ) … حضرت سیِّدُناابو عثمان ہندیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ سردی کا موسم عبادت گزاروں   کے لئے غنیمت ہے ۔  ‘‘     ( [1] )

فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی گریہ و زاری:

 ( 132 ) … حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عیسٰیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ’’   امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے چہرۂ اَقدس پربہت زیادہ گریہ وزاری کے سبب دوسیاہ لکیریں   پڑگئی تھیں   ۔  ‘‘     ( [2] )

 ( 133 ) … حضرت سیِّدُناہشام بن حسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ’’   امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجب قرآنِ کریم کی کوئی آیتِ کریمہ تلاوت کرتے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا سانس رُک جاتااور اس قدر روتے کہ زمین پر تشریف لے آتے پھر گھرسے باہر تشریف نہ لاتے یہاں   تک کہ لوگ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو مریض سمجھ کرعیادت کے لئے آتے ۔  ‘‘     ( [3] )

 ( 134 ) … حضرت سیِّدُناا بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں   کہ ’’  میں   نے امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پیچھے نماز پڑھی توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے رونے کی آواز تین صفوں   کے پیچھے تک سنی ۔  ‘‘     ( [4] )

حساب آخرت کاخوف:

 ( 135 ) … حضرت سیِّدُناثابت بن حجاج رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ اپنے ( اعمال کا )  وزن کرلو اس سے پہلے کہ ان کا وزن کیا جائے اوراپنا محاسبہ کرلو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے ۔  بے شک یہ تم پرقیامت کے دن کے حساب سے آسان ہے اور بڑی پیشی کے لیے تیار ہو جاؤ جس کے بارے میں   اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان ہے :  

یَوْمَىٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ(۱۸) ( پ۲۹،   الحاقۃ :    ۱۸ )

ترجمہ کنزالایمان:  اس دن تم سب پیش ہوگے کہ تم میں   کوئی چھپنے والی جان چھُپ نہ سکے گی ۔  ( [5] )

 ( 136 ) … حضرت سیِّدُناضحاک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکافرمان ہے :  ’’  اے کاش  !  میں   اپنے گھر والوں   کے لئے ایک مینڈ ھاہوتا وہ ایک عرصہ تک مجھے کھلا پلا کر موٹاتازہ کر تے حتی کہ میں   خوب فربہ ہوجاتااورگھر والوں   کے کچھ مہمان آتے تو وہ میرا کچھ حصہ بھون لیتے اور کچھ حصے کا سالن بنالیتے پھرمجھے کھاتے اور پیٹ سے نکال دیتے  (  اے کاش !  )  میں   انسان نہ ہوتا  ۔  ‘‘     ( [6] )

بوقت شہادت عاجزی وانکساری:

 ( 137 ) … حضرت سیِّدُناعبد اللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکاسر ان کے مرض الموت میں   میری ران پر تھا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مجھ سے فرمایا :   ’’ میرا سر زمین پر رکھ دو ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ آپ کیوں  پریشان ہوتے ہیں   سر میری ران پررہے یا زمین پر ؟   ‘‘  فرمایا :  ’’  اسے زمین پر رکھ دو !   ‘‘ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  : میں   نے آ پ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا سر زمین پر رکھ دیا ۔ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  ہلاکت ہو میرے اورمیری ماں   کے لئے اگر میرا رب عَزَّوَجَلَّمجھ پر رحم نہ فرمائے  ۔  ‘‘     ( [7] )

 ( 138 ) … حضرت سیِّدُنامِسْوَربن مَخْرَمَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا  عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو نیزہ مارا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  اگر میرے پاس زمین کے برابر بھی سونا ہوتا تومیں   اللہ عَزَّوَجَلَّکے عذاب کو دیکھنے سے قبل ہی سارا سو نا اس کے عوض قربان کردیتا  ۔  ‘‘     ( [8] )

  ( 139 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو نیزہ مارا گیاتو میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی



[1]    موسوعۃ لابن ابی الدنیا  ،  کتاب التہجد وقیام اللیل ،  الحدیث : ۴۲۱ ، ج۱ ، ص۳۳۲۔

[2]    الزھد للامام احمد بن حنبل ،  زھدعمر بن الخطاب ،  الحدیث : ۶۳۸ ، ص۱۴۹۔

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،  کتاب الزھد ،  باب کلام عمر بن الخطاب  ،  الحدیث : ۱۶ ، ج۸ ، ص۱۴۹۔

[4]    موسوعۃ لابن ابی الدنیا  ،  کتاب الرقۃ والبکاء  ،  الحدیث : ۴۱۶ ، ج۳ ، ص۲۵۳ ، بتغیرٍقلیلٍ۔

[5]    الزھد للامام احمد بن حنبل  ،   زھد عمر بن الخطاب  ،

Total Pages: 273

Go To