Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 122 )  … حضر تِ سیِّدُنا سعید بن ابوبُرْدَ ہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوایک خط لکھا جس میں   حمدوصلاۃ کے بعد فرمایا:  ’’ خوش بخت حکمران وہ ہے جس کی وجہ سے اس کی رعایاخوش حال ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک بد بخت حکمران وہ ہے جس کی وجہ سے اس کی رعایا کا برُاحال ہو ۔ خوش حال زندگی گزارنے سے اجتنا ب کرناورنہ تمہارے مقرر کردہ عامل بھی خوشحالی کو پسند کریں   گے ا ور اللہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں   تیری مثال اس جانور کی طر ح ہو گی جو سبزے کو دیکھتے ہی اس پر ٹو ٹ پڑتا ہے کہ کھا کر موٹا ہوجائے اور پھر اس کا موٹا ہونا ہی اس کی موت کا با عث بن جائے  ۔  ‘‘   وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ ۔  ( [1] )

 ( 123 ) … حضرت سیِّدُناعامرشعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف ایک خط لکھا،  اس میں   فرمایا :   ’’ جس شخص کی نیت دُرُست ہو اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے اور لوگو ں   کے درمیان معا ملات کے لئے کافی ہوجاتا ہے اور جو لوگوں   کی  خاطر ایسی چیزسے زینت حاصل کرے جس کی حقیقت اللہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں   کچھ اورہو تو ایسے شخص کو اللہ عَزَّوَجَلَّ رُسوا کر دیتا ہے اور تمہارا کیا خیال ہے جلد حاصل ہونے والے معمولی رزق اور اللہعَزَّوَجَلَّکی رحمت کے خزانوں   میں   سے کون سی چیز افضل ہے ؟  ‘‘ والسَّلا م ۔  ( [2] )

فرامینِ فاروق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے انمول ارشادات وفرامین ان کے احوال کی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں   ۔

 ( 124 ) … حضرت سیِّدُنامجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ ہم نے صبرکواپنی زندگی کی بہترین چیز پایا  ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 125 ) … حضرت سیِّدُناہشام بن عروہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’  تم جانتے ہو کہ لالچ محتاجی   کا باعث ہے اور لوگوں   سے مایوس ہوجانا مالداری کا سبب ہے اوربلاشبہ انسان جب کسی چیز سے مایوس ہوتا ہے تو اس سے بے نیاز ہوجاتا ہے ۔  ‘‘      ( [4] )

 ( 126 ) … حضرت سیِّدُناعامر شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  میرا دل اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے مکھن سے بھی زیادہ نرم ہوگیاہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے پتھر سے بھی سخت تر ہو گیا ( یعنی ذاتی معاملہ میں   دل نرم اورحُدُوْدِالٰہی کے معاملہ میں   سخت ہوگیا )  ۔  ‘‘  

تائبین کی صحبت میں   بیٹھو :  

 ( 127 ) … حضر ت سیِّدُنا عون بن عبد اللہ بن عُقْبَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  تو بہ کر نے والوں   کی صحبت میں   بیٹھو کہ وہ سب سے زیادہ نرم دل ہوتے ہیں   ۔  ‘‘   ( [5] )

 ( 128 )  … حضرت سیِّدُناابو خالدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاجِدسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ قرآنِ کریم کو یاد کرنے والے اورعلم کا سر چشمہ بن جاؤ اور اللہ عَزَّوَجَلَّسے آج کے دن  کاہی رزق طلب کرو ۔  ‘‘     ( [6] )

صبروشکراِختیارکرو :  

 ( 129 )  … حضرت سیِّدُناابراہیم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ایک شخص کواس طرح دعا مانگتے سنا :  ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ !  میں   تیرے راستے میں   اپنی جان ومال خرچ کرنا چاہتاہوں   ۔  ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے فرمایا :  ’’  تم میں   سے کوئی خاموش کیوں   نہیں   ہوتا کہ اگر آزمائش میں   ڈالا جائے تو صبر کرے اور عافیت پائے تو شکر بجالائے ۔  ‘‘     ( [7] )

 ( 130 ) … حضرت سیِّدُنایحییٰ بن جَعْدَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  اگریہ 3 چیزیں   یعنی  ( ۱ ) اللہ عَزَّوَجَلَّکے لیے پیشانی جھکانا  ( ۲ ) ایسے اجتماعات میں   شرکت کرناجن میں   اچھی باتیں   اس طرح چننے کو ملتی ہیں   جس طر ح عمدہ کھجوروں   کو چنا جاتا ہے اور  ( ۳ )  راہ خدامیں   سفر کرنانہ ہوتا تو میں   اللہ عَزَّوَجَلَّسے ملاقات کو اور زیادہ پسند کرتا ( [8] ) ۔  ‘‘     ( [9] )

 



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  باب کلام عمربن الخطاب  ،   الحدیث : ۷ ،  ج۸ ،  ص۱۴۷۔

[2]    الزھد لھناد بن السری  ،  باب الریاء  ،  الحدیث : ۸۵۹ ، ج۲ ، ص۴۳۶۔

[3]    صحیح البخاری  ،  کتاب الرقاق  ،  باب الصبر عن محارم اللہ ، ص۵۴۳۔

[4]    الزھد للامام احمد بن حنبل  ،  زھد عمر بن الخطاب  ،  الحدیث : ۶۱۳ ، ص۱۴۶۔

[5]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،  کتاب الزھد  ،  باب کلام عمر بن الخطاب

Total Pages: 273

Go To