Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

توان کے لئے کوئی مشکل نہیں   کہ کچھ کہے بغیر مجھے پاؤں   سے گھسیٹتے ہوئے بقیع تک لے جائیں   ۔  ‘‘     ( [1] )

مثالی شخصیت

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبد اللہ اَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں :  ’’ شرک وعناد سے پاک اور معرفت و محبت سے لبریز بندگا نِ خدا کا یہی راستہ ہے کہ کوئی با طل قول یافعل انہیں   اللہعَزَّوَجَلَّکی یاد سے غافل نہیں   کر سکتااور کوئی حالت انہیں   حق کی جانب متوجہ ہونے سے غافل نہیں   کر سکتی ،  وہ ہمیشہ کامل الحال اور مضبوط دل کے ساتھ حق کے رفیق ہوتے ہیں   ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمشکلات میں   بھی اپنے عزت و قوت والے رب عَزَّوَجَلَّ ( کی رضاو خوشنودی  )  کے طالب رہتے اور احکاماتِ خداوندی کی بجاآوری میں   خوشحالی و بد حالی کی پرواہ نہیں   کرتے تھے ۔  اور کہا گیا ہے کہ :  ’’  تصوُّف دنیاوی مراتب سے منہ موڑ کر آخرت کے اَرفع و اعلیٰ مراتب کی طرف متو جہ ہونے کانام ہے ۔  ‘‘

عاجزی وانکساری:

 ( 111 ) … حضرت سیِّدُناطارق بن شہاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَہَّاب  سے مروی ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہملکِ شام کی جانب تشریف لاتے ہوئے راستے میں   ایک دریائی گزر گاہ پر پہنچے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنے اونٹ سے اترے،  جوتے ہاتھ میں   پکڑکر اونٹ کو ساتھ لئے پانی میں   اتر گئے  ۔  حضرتِ سیِّدُنا ابو عبیدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :  ’’  آج آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اہلِ زمین کے نزدیک بہت بڑا کام کیا  (  یعنی یہ آپ کی شایانِ شان نہیں   ) ہے ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضرتِ سیِّدُناابو عبیدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سینے پر ہاتھ مارااور فرمایا :   ’’ اے ابو عبیدہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  ! کا ش  !  یہ بات تمہارے علاوہ کوئی اور کہتا،   بے شک تم انسانوں   میں   سے ذلیل ترین لوگ تھے پھر اللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے تم کو معزز بنا دیا لہٰذا جب بھی تم اسے چھوڑ کر کہیں   اور عزت تلاش کرو گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّتمہیں   ذلّت و خواری میں   مبتلا فرمادے گا ۔  ‘‘     ( [2] )

 ( 112 ) … حضرت سیِّدُناقیس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں  :  جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہملک شام تشریف لائے اور لوگ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا اِستقبال کرنے نکلے تواس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنے اُ ونٹ پر سوار تھے ۔ لوگوں   نے عرض کی :  ’’ یا امیر المؤمنین  !  چونکہ قوم کے سرداراور عظیم لوگ بھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی ملاقات کو آئیں   گے اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتُرکی گھوڑے پر سوار ہوجائیں    ۔   ‘‘  خلیفہ ٔثانی امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ میں   تمہیں   وہاں   نہیں   پاتا ۔  ‘‘ یہ کہنے کے بعد آسمان کی طر ف ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا :  ’’ بے شک اصل معاملہ تووہاں   ہے اس لئے تم مجھے میرے اونٹ پر ہی رہنے دو ۔  ‘‘     ( [3] )

رعایا کی خبر گیری :  

{113 ) …  حضرت سیِّدُنایحییٰ بن عبد اللہ اَوزَاعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہرات کے اندھیرے میں   اپنے گھر سے نکل کرایک گھر میں   داخل ہوئے پھر کچھ دیر بعد وہاں   سے نکلے اور دوسرے گھر میں   داخل ہوئے،   حضرت سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہیہ سب دیکھ رہے تھے ۔  چنانچہ ،   صبح جب حضرت سیِّدُناطلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس گھر میں  جاکر دیکھا تووہاں  ایک نابینااوراپاہج بڑھیا کو پایا اور ان سے دریافت فرمایا :  ’’ اِس آدمی کا کیا معاملہ ہے جو تمہارے پاس آتا ہے  ؟  ‘‘ بڑھیا نے جواب دیا :  ’’  وہ اتنے عرصہ سے میری خبر گیری کر رہا ہے اور میرے گھر کے کام کاج کے علاوہ میری گندگی بھی صاف کرتا ہے ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناطلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ( اپنے آپ کومخاطب کرکے  )  کہنے لگے :  ’’ اے طلحہ  !  تیری ماں   تجھ پر روئے ،  کیا توامیر المؤمنین عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے نقش قد م پرنہیں   چل سکتا ۔  ‘‘     ( [4] )

 ( 114 ) … حضرت سیِّدُناحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہایک کُوڑاخانہ کے پاس سے گزرے تو وہاں   رُک گئے ۔ رُفقا کو اس کی بد بُو سے اَذِیّت ہوئی توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  یہ تمہاری دنیا ہے جس کی تم حِرص ولا لچ کرتے اور اس کے گُن گاتے ہو ۔  ‘‘     ( [5] )

عیش وعشرت سے پاک زندگی

            امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہعیش وعشرت سے کو سو ں   دور بھاگتے اور ہمیشہ رہنے والی آخرت کی زندگی کی بہتری کے خواہاں   رہتے تھے ۔  ہمیشہ مشقت برداشت کرتے اور شہوات وخواہشات سے دُور رہتے اور کہا گیا ہے کہ ’’   نفس کو سختیاں   اورمشقت بر داشت کرنے کا عادی بنانے کا نام تصوُّف ہے ‘‘  اور یہی عمدہ مقام ہے ۔

نفس پرسختیاں :

 ( 115 )  … حضرت سیِّدُنااَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان فرماتے ہیں   کہ قحط سالی کے دن تھے،   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے نفس کو گھی سے روک رکھا تھا اور صرف زیتون پر گزار ا کیاکرتے تھے جس کی وجہ سے ایک دن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پیٹ  میں   تکلیف ہونے لگی توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پیٹ پر اُنگلی ماری اور کہا ’’  تجھے جتنی



[1]    المعجم الکبیر  ،  الحدیث : ۸۱۹ ، ج۱ ، ص۲۸۲۔

[2]    شعب الایمان للبیھقی ،  باب فی حسن الخلق  ،  فصل فی التواضع  ،   الحدیث۸۱۹۶ ،  ج۶ ، ص۲۹۱۔

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،  کتاب الزھد  ،  باب کلام عمر بن الخطاب  ،  الحدیث : ۲ ، ج۸ ، ص۱۴۶۔

[4]    صفۃ الصفوۃ  ،  ابو حفص عمر بن الخطاب  ،  ذکر اھتمامہ برعیتہ  ، ج۱ ، ص۱۴۶۔

[5]    الزھد للامام احمد بن حنبل ،   زھد عمر بن الخطاب  ،  الحدیث : ۶۱۶ ، ص۱۴۶۔



Total Pages: 273

Go To