Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

 

شیطانی بول کی مذمت :  

 ( 107 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں   عراق سے مال بھیجا گیا ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اسے تقسیم کرنا شروع کر دیا،   اتنے میں   ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کی :   ’’ اے امیر المومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  اگرکچھ مال دشمن یاکسی نازل ہونے والی مصیبت سے بچاؤکے لئے باقی رکھ لیں   تو بہتر ہوگا ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے ہلاک کرے !  توشیطانی بولی بول رہا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّنے اس مال کے بارے میں   مجھے حجت سکھائی ہے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  میں   آنے والے کل کی خاطر آج اللہ عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی نہیں   کر سکتا،   ایساہرگزنہیں   ہوسکتامیں   تو مسلمانوں   کے لئے وہی کروں   گا جو رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے لئے کیا ۔   ‘‘  

فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی ایک خصلت:

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحق وثابت باتوں  کا اعتراف کرتے اور بے بنیاد باتوں   سے کنارہ کش رہتے اور کہا گیا ہے کہ ’’ تصوُّف کھرے کے لئے کھوٹے کو چھوڑدینے کا نام ہے ۔   ‘‘

 ( 108 ) … حضرت سیِّدُنااَسْوَد بن سر یعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،  فرماتے ہیں : میں   ایک مرتبہ حضورنبی ٔ اَکرم،   نُور مجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ اقدس میں   حاضر ہوا اور عرض کی :   ’’ میں   اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی حمد وثنا کرتاہوں   اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بھی تعریف کرتا ہوں   ۔  ‘‘ ارشاد فرمایا :   ’’ بے شک تیرا رب عَزَّوَجَلَّحمد کو پسند فرماتا ہے ۔  ‘‘  حضرتِ سیِّدُنا اَسود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  : پھر میں   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کواشعار سنانے لگاکہ اتنے میں   ایک لمبے قد والے شخص نے اجازت چاہی توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے خاموش کرادیا ۔ وہ شخص آیا ،   کچھ دیر بات چیت کی اورچلاگیا  ۔  اس کے چلے جانے کے بعدمیں   نے دوبارہ اشعار کہنے شروع کئے تووہ پھر آگیا اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے خاموش کرادیا  ۔ کچھ دیر گفتگو کرکے وہ چلا گیا تومیں   نے پھراشعار کہے  ۔  ایسا دو تین مرتبہ ہوا تومیں   نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  یہ کون تھا جس کے لئے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے خاموش کرا دیاکرتے تھے ؟  ‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  ’’ یہ عمرہیں   جو باطل کو پسند نہیں   کرتے ۔  ‘‘     ( [1] )

 ( 109 ) … حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت اسود تمیمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ میں   ایک مرتبہ حضورِاَکرم ،  نُوْرِمُجَسَّم،   شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں   حاضر ہوا اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اشعار سنانے میں   مصروف ہو گیا ۔  پھر ایک لمبے قد والے شخص نے اجازت طلب کی توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے خاموش کروا دیا  ۔ جب وہ چلا گیا تو رحمتِ عالم ،   نورِ مجسم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  ’’  سناؤ ۔  ‘‘ میں   پھر اشعار سنانے میں   مصروف ہو گیا ۔  کچھ دیر کے بعد وہ پھر آگیا تو رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے خاموش کرا دیا،   جب وہ چلا گیا تو رحمتِ عالم ،  نُوْرِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ’’  سناؤ ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’  یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ کون شخص ہے ؟  جب آتاہے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے خاموش ہو نے کا حکم فرماتے ہیں   اور جب چلا جاتا ہے تو دوبارہ سنا نے کا ارشاد فرماتے ہیں   ۔  ‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ یہ عمر بن خطاب  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  ہیں   جو باطل سے جدا ہیں   ۔  ‘‘     ( [2] )

حمدونعت سنناجائزہے:

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبد اللہ اَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں  : ’’ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حمد و نعت کا سننا جائز اورمبا ح ہے  ۔ کیونکہ ان کے اشعار اللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد و ثنا اورنورکے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   دوجہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مدح و توصیف پر مشتمل تھے اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرماناکہ ’’   عمر  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  با طل کو پسند نہیں  کرتے ‘‘  اس سے وہ شخص مراد ہے جو بادشاہوں  اور مالداروں   کی مدح سرائی کو کمائی کا ذریعہ بنالیتا ہے اورمال کی حرص و طمع کی وجہ سے خوشامد پسند لوگو ں   کے آس پاس گھومتا رہتا ہے اور اپنے جھوٹ سے وہ ساری محافل و مجالس کو عیب دار بنا دیتا ہے کیونکہ وہ کسی کی ایسی تعریف بھی کرگزرتا ہے جس کا وہ مستحق نہیں   ہوتا اور اگر کوئی عطیہ نہ دے تو رتبے والے شخص کی شان کم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

 تو اس قسم کی کمائی وپیشہ با طل ہے اسی لیے حضورنبی ٔاَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاکہ ’’   عمر  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  باطل کو پسند نہیں   کرتے ‘‘  جبکہ صحیح ا شعارحکمتوں   سے بھرپور،   خوبصورت خزانہ ہے جس کے کہنے کی صلاحیت اللہعَزَّوَجَلَّ  ماہر علم وفن کو عطافرماتاہے اور خود امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر اورامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم بھی اشعار کہا کرتے تھے ۔  ‘‘  

 ( 110 )  … حضرت سیِّدُنااَسود بن سر یع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ میں   رسولِ اَکرم،  نور مجسم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اشعار سنایاکرتا تھااور مجھے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابہ کی پہچان نہ تھی،   ایک بار آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ بابرکت میں   ایک ایسا شخص حاضر ہواجس کے شانے چوڑے اور سر کے اگلے حصے پر بال نہیں   تھے کسی نے دوبار مجھے خاموش ہونے کا کہا تومیں   نے کہا :   ’’ اس کی ماں   اسے گم کرے !  یہ کون ہے جس کی وجہ سے میں   حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اشعار سنانے سے خاموش ہوجاؤں    ؟  ‘‘  کسی نے کہا :  ’’  یہ حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہیں   ۔  ‘‘  ( حضرتِ سیِّدُنااسود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   ) پھر میں   سمجھ گیا :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  اگروہ مجھے شعر کہتے ہوئے سن لیں   



[1]    الادب المفرد للبخاری  ،  باب من مدح فی الشعر  ،  الحدیث : ۳۴۵ ، ص۱۰۶۔

[2]    المعجم الاوسط  ،  الحدیث : ۵۷۹۴ ، ج۴ ، ص۲۲۴۔



Total Pages: 273

Go To