Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ      ( پ۱۰،   التوبہ :    ۸۴ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اوران میں   سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا ۔

            اس کے بعدآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی وفات ِظاہری تک کسی منافق کی نماز ِجنازہ نہ پڑھائی ۔    ( [1] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں : ’’  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں   سے دور رہنے کی بھر پور کوشش کی لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّنے ان کی موافقت میں   حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو منافقین کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے روک دیا اور سابقہ لکھے ہوئے علم کی وجہ سے فدیہ لینے کے معاملہ میں   مسلمانوں   سے درگزر فرمایا ۔  یہی اس شخص کا راستہ ہے جو فتنہ میں   مبتلا لوگو ں   سے فراق کا اعتقاد رکھتااور چاہتاہے کہ اکثر باتوں   میں   اس سے اتفاق کیا جائے اور اپنے اکثر احوال وافعال میں   مخالفت سے محفو ظ رہے ۔

ہرمعاملہ میں   اتباعِ رسول :  

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہرسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارَک زندگی میں   ساتھ رہے تو وفاتِ ظاہری کے بعد بھی ساتھ ہیں  اور وہ سوتے جاگتے ہرحالت میں   حضورنبی ٔاَکرم،   رسولِ اَعظم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی کرتے رہے اور تمام افعال میں   آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت کے پیکر رہے ۔

            عُلمافرماتے ہیں   کہ ’’ صراطِ مستقیم پراِستقامت اختیار کرنے اور درست منزل تک پہنچنے کانام تصوُّف ہے ۔  ‘‘

{104 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں : میں   اپنے والد محتر م کی خدمت میں   حاضر ہوکر عرض گزارہواکہ ’’  میں   نے لوگو ں   کو آپس میں   ایک بات کرتے دیکھا تو بہتر سمجھا کہ آپ کی بارگاہ میں   عرض کردو ں  ،   لوگو ں   کا خیال ہے کہ آپ  ( اپنے بعد )  خلافت کے لئے کسی کو مقرر نہیں   فرمارہے حالانکہ آپ کا کوئی اونٹوں   یا بکریوں   کا چرواہا ہو اور وہ انہیں   چھوڑ کر آپ کے پاس چلا آئے تو آپ ضرور سمجھیں   گے کہ اس نے جانوروں   کو ہلاک کر دیاجبکہ لوگوں   کی حفاظت ورعایت جانوروں   سے بڑھ کر ہونی چاہئے ۔  ‘‘ یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے کچھ دیر کے لئے سر جھکا یا پھر سر مبارَک اُٹھا کر فرمایا :  ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے دین کی حفاظت فرمائے ،   میں   کسی کو اپنا خلیفہ منتخب نہیں   کرو ں   گا  ۔ بے شک رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی کو خلیفہ نامزد نہیں   فرمایااور اگرمیں   کسی کوخلیفہ نامز د کروں   تویہ بھی درست ہے کیونکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے خلیفہ منتخب فرمایا ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  سرورِ ِکائنات ،   شہنشاہِ موجوداتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر کرنے سے میں   نے جا ن لیا کہ آپ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مقابلے میں   کسی کی پیروی نہیں   کریں   گے اور کسی کو خلیفہ نامز د نہیں   کریں   گے ۔  ‘‘  ( [2] )

  ( 105 ) … حضرت سیِّدُناسالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   میں   خواب میں   حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت سے مشرف ہوا تو دیکھا کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیری طر ف اِلتفا ت  ( یعنی توجہ )  نہیں   فرما رہے،   میں   نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  مجھ سے ایسا کون سافعل سرزد ہوا ہے جو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیری طرف توجہ نہیں   فرمارہے ہیں   ؟  ‘‘  سرکارمدینہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  ’’  کیا تم رو زے کی حالت میں    ( اپنی زوجہ کا ) بو سہ ( [3] )نہیں   لیتے  ؟  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’  اس ذات کی قسم !  جس نے آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا  ! میں   آئند ہ کبھی بھی رو زے کی حالت میں   بوسہ نہیں   لوں   گا ۔   ‘‘     ( [4] )

 چھوٹی بڑی آ ستینوں   والی قمیص :  

 ( 106 ) … حضرت سیِّدُناعبیداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے نئی قمیص زیبِ تن فرمائی پھر مجھے چھری لانے کو کہااور فرمایا :  ’’  اے بیٹے  !  میری آستینوں  کو کھینچو اورانگلیوں   کے پوروں   سے زائدحصہ کاٹ دو ۔  ‘‘ میں   نے دو نوں   آ ستینو ں   کا بڑھا ہوا حصہ کا ٹاتو آستینیں   چھوٹی بڑی ہو گئیں   ۔  میں   نے عرض کی :  ’’  ابا جان  !  اگر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاجازت دیں   تومیں   قینچی سے دونوں   کوکاٹ کر برابر کردو ں    ؟  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  اے بیٹے  !  رہنے دو کیونکہ میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اسی طرح دیکھا ہے ۔  ‘‘  وہ قمیص امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہزیبِ تن فرماتے رہے یہاں   تک کہ پھٹ گئی اورمیں   اکثر اس کے دھاگے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے قدموں   پر گِرتے دیکھا کرتا تھا ۔     ( [5] )

 



[1]    جامع الترمذی  ،  ابواب تفسیر القرآن  ،  باب و من سورۃ التوبۃ  ،  الحدیث : ۳۰۹۷ ، ص۱۹۶۴۔

[2]    صحیح مسلم  ،  کتاب الامارۃ  ،  باب الاستخلاف وترکہ  ،  الحدیث : ۴۷۱۴ ، ص۱۰۰۵۔

[3]    یہ عمل امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے تقویٰ کے خلاف تھا جس پر حضور غیب داں   ، سردارِ دوجہاں   ، محبوبِ رحمن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تنبیہ فرمائی ورنہ روزے کی حالت میں   اگر انزال ہونے اور جماع میں   پڑھنے کا اندیشہ نہ ہو تو بیوی کا بوسہ لینے میں   کوئی حرج نہیں  ۔ جیسا کہ شیخِ طریقت ،  امیرِ اہلِ سنت  ،  بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تصنیف فیضانِ سنت کے باب فیضانِ رمضان میں   احکامِ روزہ کے تحت ردالمحتار ج۳ص۳۹۶کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں   : ’’بیوی کا بوسہ لینااور گلے لگانااوربدن کو چھونامکروہ نہیں  ۔ہاں  اگریہ اندیشہ ہوکہ انزال ہوجائے گایاجماع میں   مبتلاہوگا  ( تومکروہ ہے ) ۔‘‘ ( فیضان سنت ،  تخریج شدہ ،  جلد اول ،  باب فیضانِ رمضان‘‘صفحہ۱۰۵۷ )

[4]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الایمان والرؤیا  ،  باب ما عبّرہ عمر  ،  الحدیث : ۴ ، ج۷ ، ص۲۴۱۔

[5]    المستدرک