Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبد اللہ اَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں : امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہدین کااعلانیہ اظہار فرماتے اور نیک اعمال کو پوشیدہ رکھتے تھے ۔ جیساکہ کہا گیا ہے :   ’’ تصوُّف چھپے حق کو ظاہر کرنے کانام ہے ۔  ‘‘        

 ( 92 )  … حضرت سیِّدُناجابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  میرے اسلام لانے کی ابتدا کچھ یوں   ہوئی کہ میری ہمشیرہ دردِ زِہ میں   مبتلاتھیں   تو میں  سخت تارِیک رات میں   گھر سے نکلااور بیتُ اللہ شریف پہنچااور غلاف کعبہ کو تھام لیا ۔  اِسی دوران حضورنبی ٔرحمت،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے اور حجرِ اَسود کے پاس پہنچے ،   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنعلین شریف پہنے ہوئے تھے ،  جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّنے چاہا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز میں   مصروف رہے پھرواپس تشریف لے گئے ۔  اس کے بعد میں   نے ایک ایسی آواز سنی جواس سے پہلے نہیں   سنی تھی تو میں   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔ سرکارِ مدینہ ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا :   ’’ کون ؟  ‘‘  میں   نے کہا :   ’’ عمر ۔  ‘‘  فرمایا :  ’’  اے عمر  !  تو مجھے دن میں   چھوڑتا ہے نہ رات کو ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  : یہ سن کر میں   ڈر گیا کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے لئے بد دعانہ فرمادیں   تو میں   نے فوراً کہا :   ’’ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ وَاَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللہیعنی میں   گواہی دیتا ہوں   کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں   اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّکے سچے رسول ہیں   ۔  ‘‘ یہ سن کرآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :   ’’ اے عمر  !  اِسے ( یعنی ایمان کو )  چھپائے رکھنا ۔  ‘‘  لیکن میں   نے عرض کی :  ’’  اس ذات کی قسم  !  جس نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! میں   اِس کا اِسی طر ح اعلان کرو ں   گا جس طرح شِرْک کا اِعلانیہ اِرْتِکاب کرتا تھا ۔  ‘‘    ( [1] )

فاروق کا لقب کیسے ملا ؟

 ( 93 ) … حضرت سیِّدُناابنِ عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں   کہ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا: ’’ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو فاروق کیوں   کہاجاتاہے  ؟   ‘‘ فرمایا :   مجھ سے 3 دن پہلے حضرت سیِّدُناحمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اسلام قبول کیا پھر اللہ عَزَّوَجَلَّنے میرا سینہ اسلام کے لئے کھول دیا تو میں   نے کہا :   اللہ عَزَّوَجَلَّوہ ہے جس کے سوا کوئی معبو د نہیں   ،  تمام اچھے نام اسی کے لائق ہیں  ،   پس  رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں   حاضرہونا مجھے رُوئے زمین میں   سب سے زیادہ محبوب تھا ۔  میں   نے پوچھا:  ’’  رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکہاں   تشریف فرما ہیں   ؟  ‘‘  میر ی بہن نے کہا :   ’’ وہ صفا کے پاس دارِ اَرْقَم میں   ہیں   ۔  ‘‘  میں   سیدھا وہاں   پہنچا تو حضرت سیِّدُناحمزہ ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) دیگرصحابۂ کرام ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ) کے ساتھ وہاں   موجود تھے اورتاجداردوعالمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحجرے میں   تشریف فرماتھے،   میں   نے دروازہ کھٹکھٹایا تو تمام صحابۂ کرام  ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ) جمع ہوگئے ۔  حضرت سیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پوچھا :   ’’ کیا ہوا  ؟  ‘‘  توسب نے کہا :   ’’ عمر ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  آئے ہیں   ۔  ‘‘

            یہ سن کرحضور سیِّدعالمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمباہر تشریف لائے اورمیرے کپڑو ں   کو کھینچ کر چھوڑ دیامجھ پر اس قدر ہیبت طاری ہوئی کہ میں   گھٹنوں   کے بل گر پڑا،   پھرارشادفرمایا :   ’’ اے عمر  !  کیا با ز نہیں   آؤگے  ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  میں   نے فوراً پڑھا :  اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہ ۔  تو دارِ ارقم میں   موجود صحابۂ کرام رِضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم نے اس زور سے ’’ اللہ اَکْبَر ‘‘   کا نعرہ لگایا کہ مسجد والوں   نے سنا ،  میں   نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ہم زندہ رہیں   یا مریں   کیا حق پر نہیں   ہیں   ؟   ‘‘  ارشادفرمایا :   ’’ ہاں   کیوں   نہیں    ! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے  !  اگرچہ تم زندہ رہو یا وفات پاؤ حق پر ہو ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’  توپھرچھپیں   کیوں    ؟  قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! آپ ضرور نکلیں   گے ۔  ‘‘  پس حضورنبی ٔاَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں   دو صفوں   میں   نکلنے کاحکم دیا ،  ایک میں  حضرتِ سیِّدنا حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاور دوسری میں  ،   مَیں   تھا ۔  بِھیڑ کی وجہ سے ہم آٹے کی طر ح پِس رہے تھے یہاں  تک کہ ہم مسجدِ حرام میں   داخل ہوگئے،   جب قریش نے مجھے اور حضرت سیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو دیکھا تو انہیں   ایسی تکلیف پہنچی جو پہلے کبھی نہ پہنچی تھی پس رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس وجہ سے مجھے ’’ فاروق ‘‘  کالقب دیا اور اللہ    عَزَّوَجَلَّنے حق وبا طل کے درمیان فرق فرما دیا  ۔     ( [2] )

 ( 94 ) … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’  میں   نے دیکھا کہ ابھی تک حضور نبی ٔ اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ 39 افراد مسلمان ہوئے تھے اور میں   چالیسواں   مسلمان تھا ،   پس اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے اپنے دین کو غلبہ عطا فرمایا اور اپنے نبیعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مدد فرمائی اور اسلام کو عزت بخشی ۔  ‘‘     ( [3] )

اسلام کے لئے مصائب برداشت کئے:

{95 ) … حضرت سیِّدُنااُسامہ بن زید بن اَسلمرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ہم سے فرمایا: ’’ کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں   تمہیں   اپنے ابتدائے اسلام کاواقعہ بتاؤں    ؟  ‘‘  ہم نے عرض کی :  ’’ جی ہا ں   ۔  ‘‘ توفرمایا :   میں   لوگو ں   میں   رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دشمنی میں   سب سے زیادہ سخت تھا،   ایک مرتبہ صفا کے پاس ایک گھر میں   حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر ہوا اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے بیٹھ گیا،   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میر ی قمیص کھینچی اور فرمایا :  ’’  اے ابن خطاب  !  اسلام لے آ ! پھر دعا کی :  یااللہعَزَّوَجَلَّاسے ہدایت عطا فرما  ۔  ‘‘  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : پھر میں   نے پڑھا ’’  اَشْھَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللہ وَاَشْھَدُاَنَّکَ رَسُوْلُ اللہ ‘‘ مسلمانوں   نے اس زور سے ’’ اللہ اَکبر  ‘‘  کا نعرہ لگایا کہ مکہ کی گلیاں   گونج اٹھیں   ،   اس وقت



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،   کتاب المغازی  ،  باب اسلام عمر بن الخطاب  ،  الحدیث : ۱ ، ج۸ ، ص۴۵۲۔

[2]    صفۃالصفوۃ ،  عمربن الخطاب ، ج۱ ، ص۱۴۱ ، تاریخ الخلفائ ،  عمربن الخطاب ،  ص۱۱۳۔

[3]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر