Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

ان کے ساتھ نہیں   ہوگا اور بندے کو چاہئے کہ وہ امید اور ڈر کے درمیان رہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّپر بے جا امید یں   باندھنے سے باز رہے اور اس کی رحمت سے ناامید بھی نہ ہو اگر تم نے ان باتوں   کو یاد رکھا تو آنے والی موت سے زیادہ کوئی چیز تمہیں   محبوب نہ ہوگی ۔  اگر میری وصیت کو ضائع کردیاتوموت سے زیادہ کوئی چیز تمہیں   ناپسند نہ ہوگی حالانکہ تم موت سے چھٹکارا نہیں   پاسکتے ۔  ‘‘   ( [1] )

اولادکی تربیت:

 ( 84 ) … حضرت سیِّدُناعلقمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی والدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے ،   فرماتی ہیں :  اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا :   ایک مرتبہ جب میں   نے کپڑے پہنے اور گھرمیں   آتے جاتے  اپنے دامن کو دیکھنے لگی اور اس طرح میری توجہ کپڑو ں  کی طر ف ہوگئی تو میرے والدِگرامی،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمیرے پاس تشریف لائے اور فرمایا :  ’’  اے عائشہ  !  کیا تمہیں   معلوم ہے کہ اب اللہ عَزَّوَجَلَّ تم سے اپنی نظرِ رحمت ہٹالے گا ؟  ‘‘   ( [2] )

 ( 85 ) … حضرت سیِّدُناعروہ بن زبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :  ایک مرتبہ میں   نے اپنی ایک نئی چادر زیب تن کی اوراس کی طرف دیکھ کر خوش ہونے لگی تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  کیا دیکھ رہی ہو  ؟  اللہعَزَّوَجَلَّتیری طرف نظر ِ رحمت نہیں   فرمائے گا  ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی: ’’ وہ کیوں    ؟  ‘‘  تو فرمایا :  ’’  کیا تجھے معلوم نہیں   کہ جب کسی بندے کے دل میں   دنیاوی زیب و زینت کے باعث  عُجُب ( یعنی خود پسندی )  پیدا ہو جائے تواللہعَزَّوَجَلَّاس سے ناراض ہوجاتا ہے ۔  یہاں   تک کہ وہ اس زینت کو تر ک کر دے  ۔  ‘‘ اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :  میں   نے وہ چادر اُتا رکرراہِ خدا میں   صدقہ کردی توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’  امید ہے کہ اب یہ عمل تیرے لئے کفارہ بن جائے ۔  ‘‘

 ( 86 ) … حضرت سیِّدُناابن حبیب بن ضمرہ  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکاایک بیٹا اپنے مرض الموت میں   باربار تکیے کی طر ف دیکھتاتھا ۔ جب اس کا انتقال ہو چکا تولوگوں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں   عرض کی کہ ’’  ہم نے آپ کے بیٹے کو دیکھا کہ وہ بار بار تکیے کی طر ف دیکھتا تھا ؟  ‘‘ جب لوگوں   نے اس تکیے کو اٹھایا تواس کے نیچے 5یا6دینار پڑے تھے ۔ یہ دیکھ کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ پڑھ کر فرمایا :  ’’  میں   نہیں   سمجھتا کہ تیری جِلد اس کی سزا برداشت کر سکے گی ۔  ‘‘  ( [3] )

 ( 87 ) …  حضرت سیِّدُناابو بکر بن محمدانصاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے کہا گیا :  ’’  اے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خلیفہ !  آپ اہل بدر کو  عامل ( یعنی گورنر )  کیوں   مقررنہیں   فرماتے  ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  میں   ان کی قدر و منزلت جانتا ہوں   لیکن مجھے یہ پسند نہیں   کہ میں   انہیں   دنیا کی آلودگیوں   میں   ملوث کردوں   ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 88 ) … حضرت سیِّدُناقیس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنابلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو 5اوقیہ ( [5] )سونا دے کر خریدا  ۔ انہیں   پتھرو ں   کے ساتھ مارا جاتا تھا تو فروخت کرنے والوں   نے کہا :  ’’  اگر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہایک اوقیہ پر ٹھہرجاتے تو ہم اسے ایک اوقیہ میں   ہی فروخت کر دیتے  ۔  ‘‘  تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  اگر تم 100اوقیہ سے کم پر راضی نہ ہوتے تو پھر بھی میں   اتنے سونے کے عوض خرید لیتا ۔  ‘‘   ( [6] )

٭٭٭٭٭٭

غیبت کے خلا ف جنگ

ہم نہ غیبت کریں   گے نہ سنے گے

اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِ فاروقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            مسلمانوں   میں   دوسرے عظیم الشان انسان امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِ فاروق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہیں   جو پسندیدہ اور بلندمقام ومرتبہ پر فائز تھے ۔ انہیں  اللہ عَزَّوَجَلَّنے صادق ومصدوق نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعوت ِ (  توحید ) کے غلبے اورحق وباطل کے درمیان فرق کرنے کاذریعہ بنایا ۔  انہی کے ذریعے ہادی ٔ برحقصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے تو حید کے میدان ہموارفرمائے ،  مصائب کے منہ بند کئے ،  جس سے دعوت اِسلام پھیل گئی اور اللہ عَزَّوَجَلَّکا کلمہ مضبوط ہوگیا ۔

              اللہ عَزَّوَجَلَّنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو عسکری شان وشوکت عطا فرمائی جس کی بدولت دنیا میں   اسلامی حکومت رائج ہوئی  ۔ چنانچہ ،  تو حید کے ساتھ



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،   کتاب المغازی ،  باب ماجاء فیالخ ،  الحدیث : ۱ ، ج۸ ، ص۵۷۴ ،  بتغیرٍقلیلٍ۔

[2]    الزھد لابن المبارک  ،  باب فی التواضع  ،  الحدیث : ۳۹۸ ، ص۱۳۴ ، بتغیرٍ۔

[3]    الزھد للامام احمد بن حنبل  ،  زھد ابی بکر الصدیق  ،  الحدیث : ۵۸۹ ، ص۱۴۲۔

[4]    تاریخ الخلفاء للسیوطی ،  ابوبکر الصدیق  ، فصل ، ص۱۰۶۔

[5]    اس کی مقدار ایک اونس ، 12 / 1پاؤنڈ ہے۔ ( القاموس )

[6]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،