Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’  اے مسلمانو ! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیا کرو ،  اس ذات کی قسم !  جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے جب میں   کھلی فضا میں   قضائے حاجت کے  لئے جاتا ہوں   تو اللہ عَزَّوَجَلَّسے حیا کی وجہ سے اپنے اوپر کپڑا ڈال لیتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 77 ) … حضرت سیِّدُناابو سفررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیمار ہوئے تو لوگ آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے اور عرض کی :  ’’  کیاہم آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے لئے کسی طبیب کو نہ بلالائیں    ؟   ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ارشادفرمایا :  ’’  طبیب مجھے دیکھ چکاہے ۔  ‘‘  لوگوں   نے استفسار کیاکہ ’’   اس نے کیا کہاہے  ؟  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  اس نے کہا ہے کہ میں   جوچاہتا ہوں   کرتا ہوں    ( آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے طبیبِ حقیقی یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّکے بارے میں   یہ با ت کہی  )  ۔  ‘‘    ( [2] )

دُنیاکے بارے میں   نصیحت :  

 ( 78 ) … حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  :  میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے مرض الموت میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت اَقدس میں   حاضر ہوااور سلام عرض کیا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے جواب دینے کے بعد فرمایا :  ’’ میں   دیکھ رہاہوں   کہ دنیا ہماری طرف متو جہ ہو چکی ہے لیکن ابھی پوری طر ح نہیں   بلکہ آنے ہی والی ہے ۔ بہت جلد تم ریشم کے پردے اوردیبا ج کے تکیے اپناؤگے اور اُونی بستروں   پر اس طرح تکلیف محسو س کرو گے جس طرح ’’  سعدان ‘‘ کے کانٹوں   پر محسوس کرتے ہو اوراللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! اگر تم میں   سے کوئی اس دنیا کی طرف لپکے اور اس کی ناحق گردن ماردی جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ دنیا کی تاریکیوں   میں   بھٹکتا پھرے ۔  ‘‘   ( [3] )

خلیفہ اوّل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے خطبات

بادشاہوں   کااَنجام :  

 ( 79 ) … حضرت سیِّدُنایحییٰ بن ابو کَثیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَدِیْر سے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنے خطبہ میں   اکثر یہ فرمایا کرتے تھے: ’’ کہاں   ہیں   خوبصورت چہرو ں   والے ! جنہیں   اپنی جوانیوں   پہ نازتھا ؟ اورکہاں  ہیں   وہ بادشاہ !  جنہوں   نے شہربنائے اور ان کی حفاظت کے لئے فصیلیں   ( بلندو مضبوط دیواریں   )  تعمیر کروائیں    ؟  کہا ں   ہیں   وہ فاتحین !  جنگوں   میں   کامیابی جن کے قدم چومتی تھی ؟  زمانے نے ان کا نام و نشان تک مٹا ڈالا،   اب وہ قبر کے اندھیروں   میں   پڑے ہیں   ۔  جلدی کرو جلدی  !  نجات حاصل کرو نجات !   ‘‘   ( [4] )

قبروحشر کی تیاری:

 ( 80 ) …  حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عکیم  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْحَکِیْم سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ہمیں   خطبہ دیا اور حمد وصلوٰۃ کے بعد ارشاد فرمایا :   ’’  میں   تمہیں   اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں   اور تمہیں   تاکید کرتا ہوں   کہ اس کی حمد و ثنا اس طرح کرو جس طرح کرنے کا حق ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   خوف اورامید کے ساتھ کثرت سے دعا کیاکرو کیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّنے حضرت سیِّدُنازکریاعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِالصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام اور ان کے گھر والوں   کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا :

اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًاؕ-وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰) ( پ۱۷،  الانبیاء :  ۹۰ )

ترجمۂ کنز الایمان :  بے شک وہ بھلے کاموں   میں  جلدی کرتے تھے اور ہمیں   پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑگڑ اتے ہیں   ۔

                اللہعَزَّوَجَلَّکے بندو !  جان لو بے شک اللہعَزَّوَجَلَّنے اپنے حق کے عوض تمہاری جانوں   کو گر وی رکھاہے اور اس پر تم سے پختہ وعدہ لیاہے اور تم سے قلیل و فانی زندگی کو ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے بدلے میں   خرید لیاہے اور تمہارے پاساللہعَزَّوَجَلَّکی کتاب ہے جس کے عجائبات کبھی ختم نہیں   ہوسکتے اور نہ ہی اس کا نور بجھا یا جا