Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

موت کے قریب ہوتے جارہے ہیں  ،  عنقریب ہمیں   اندھیری قبر میں   اُتار دیا جائے گا ۔  نجات تمام جہانوں   کے پالنے والے خدائے اَحکم الحاکمین جَلَّ جَلَا لُہُ کی اطاعت اور مؤمنین پر رحم و کرم فرمانے والے رسولِ کریم،   رَء ُ وف رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں   کی اتباع میں   ہے ۔

            اللہ عَزَّوَجَلَّقرآنِ پاک میں   ارشاد فرماتا ہے :   وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹)

ترجمۂ کنز الایمان :  اورجواللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہنے فضل کیا یعنی انبیاء اورصدیق اور شہید اور نیک لوگ اوریہ کیاہی اچھے ساتھی ہیں ۔ (پ،۵ النساء: ۶۹)

            حکیم الا ُمت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس آیت ِ مبارکہ کی تفسیر کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ’’ جو مسلمان صحیح معنی میں   اللہورسول  عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطاعت کرے گاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرائض پر کاربند ہو گا،   اس کی منع کی ہوئی چیزوں   سے بچے گا اور رسول ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )  کی سنتوں   کا مُتَّبِع  ( یعنی پیروکار )  ہوگا وہ کل قیامت اور جنت میں   یا قبر وحشرو جنت میں   نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،   ابوبکرصدیق،   عمر وعثمان وعلی اور تمام مہاجرین وانصار صحابہ  ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ) کے ساتھ ہوگا،    ( اور ) ساتھ رہے گا کہ اسے ہر وقت ان محبوبوں   کے جمال کی زیارت،   ان کی ملاقات،   ان سے گفتگو میسر رہے گی اور یہ دین ودنیا میں   بڑے اچھے،   نرم،   نفع پہنچانے والے ساتھی ہیں   کہ ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ  ان کے ساتھیوں   پر بھی مہربانی فرما دیتا ہے ۔  یہ محبوبوں   کی ہمراہی،   ان کا قرب اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے جو اس کے کرم سے ہی ملتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے وہ جانتا ہے کہ کون ان بزرگوں   کی صحبت کے لائق ہے کون نہیں   ۔  ‘‘    ([1])

           میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ آیت مبارکہ اور اس کی تفسیر واضح کررہی ہے کہ اللہ ورسول  عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت کرنے والے اہلِ ایمان کو حضرات انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام،   صدیقین،   شہدا اور صالحین رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکی رفاقت ملے گی مگر چونکہ اِطاعت ومعصیت کاانسان کو اختیاردیاگیاہے اور ساتھ ہی نفس وشیطان کو اسے بہکانے کی قدرت بھی دی گئی ہے ۔  لہٰذا جب اُسے دُنیوی راحتیں   اور فانی آسائشیں   ملتی ہیں   تو اسے راہِ راست سے ہٹاکرگمراہی ،  سرکشی اورنافرمانی کی راہ پرڈال دیتی ہیں   اور نفسانی وشیطانی خواہشات اس کے نورِایمان کوبجھانے کی سرتوڑکوششیں   کرتی ہیں   ۔  اوروہ عالیشان محلات اور عمدہ وپختہ مکانات کی تعمیراوراہل وعیال کی دنیاوی راحتوں  کی خاطر ہر جائزوناجائز طریقوں   سے مال کمانے میں   دن رات مصروف رہ کر اپنی آخرت کو بھول جاتا ہے ۔  اورنفس وشیطان کی حیلہ سازیوں   کا شکار ہوکر گناہوں  کاایسا عادی ہوجاتا ہے کہ انہیں   چھوڑنے پرآمادہ نہیں   ہوتا ۔

            گویاجب دنیامیں   ہر طرف سے خوشیوں   ،  راحتوں   ،  نعمتوں   ،   آسائشوں   اور مال و دولت کی فراوانی کی ٹھنڈی ،   مَہکی ،   مَہکی مگر عارضی ہوائیں   چلتی ہیں   تو انسان اس دنیا کو دائمی سمجھ بیٹھتاہے ۔ تو ایسے میں   بیان کردہ نجات کے طریقے یعنی خدائے اَحکم الحاکمین جَلَّ جَلَا لُہُ کی اِطاعت اور مؤمنین پر رحم و کرم فرمانے والے رسولِ کریم،  رَء ُوف رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں   کی اِتباع پر اِستقامت پانے کے لئے صحابۂ کرام اورسلف صالحین رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے حالات و واقعات کا مُطَالَعَہ کرنا از حد ضروری ہے  ۔  یقینا ان حضرات نے اپنی زندگیاں   خدائے اَحکم الحاکمین جَلَّ جَلَالُہُ کی اِطاعت اور رسولِ کریم،  رَء ُوف رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں   کی اِتباع میں   گزاریں    ۔ ان کا زُہدوتقویٰ بے مثال تھا ۔ وہ مال میں  رغبت رکھتے نہ دنیاسے محبت ۔ جذبۂ عبادت ،  شوقِ تلاوت اور فقروفاقہ گویا ان کا لبادہ تھا ۔  خوفِ خداایساکہ انہیں  خشیت الٰہی میں   روتادیکھ کرلوگ بھی رونے لگتے ۔  عشقِ مصطفی   ایسا کہ اپنے آقاومولیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے رُخِ روشن کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ہر وقت بے تاب رہتے ۔ یہ نُفُوس قُدسیہ نجات پانے کے لئے اپنے ظاہر و باطن کی اِصلاح میں   لگے رہے اور اپنی اِصلاح کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے لوگوں   کی اِصلاح کی کوشش کے مقدس جذبے کے تحت حتی الْمَقْدُور دوسروں   پر بھی اِنفرادی کوششیں   کرتے رہے ۔ نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے راہِ خدا میں   سفر کرکے نہ صرف اپنے مال کی قربانیاں   دیں   بلکہ اس عظیم کام کے لئے اپنی جانیں   تک قربان کر دیں   ۔ انہیں   ڈرایا گیا،   دھمکایا گیا،  مارا گیا،  سخت گرمیوں   کی کڑکتی دھوپ میں   تپتی ریت پر لٹایا گیا،   بھوکا،  پیاسا رکھا گیا،   قید کیاگیا،   سولی پر چڑھایا گیااور گلے میں   رسیاں   ڈال کر گلیوں  میں   گھسیٹا گیااَلغرض ہر طرح سے اَذیت وتکلیف پہنچائی گئی لیکن اس کے باوجود وہ  دینِ اِسلام کی ترویج واِشاعت سے پیچھے نہ ہٹے اوراس راہ میں   اپنا تن،  من،   دَھن سب قربان کر دیاگویا وہ  ان اَشعار کے حقیقی مِصداق تھے :  

؎ ارادے جن کے پختہ ہوں   نظر جن کی خدا پر ہو    تلاطُم خیز موجوں   سے وہ گھبرایا نہیں   کرتے

غلامانِ محمد جان دینے سے نہیں   ڈرتے          یہ سرکٹ جائے یارہ جائے وہ پرواہ نہیں   کرتے

زباں   پر شکوۂ رَنج و اَلم لایا نہیں   کرتے         نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں   کرتے

            اَلغرض ان نُفُوس قُدسیہ نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے دین کی سربلندی کی خاطر قربانیاں   دیں   اور اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے انہیں   دنیاوآخرت میں   عزت وکرامت سے سرفرازفرمایا ۔ بالخصوص ،  حضراتِ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اور ان کی عظمت وشان کے کیا کہنے !  مصطفی جانِ رحمت،  شمع بزم ہدایت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے جابجا ان کی عظمت وشان بیان فرمائی ۔ چنانچہ، 

            حضرت سیِّدُنا جابر بن عبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:  ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّنے میرے صحابہ ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم )  کو نبیوں   اور رسولوں    ( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) کے علاوہ تمام جہانوں   پرفضیلت دی ہے ۔  ‘‘  ( [2] )

            حضورنبی ٔکریم ،  رَء ُ وف رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے عداوت وبرائی دونوں  جہاں   میں   خسارے کاباعث ہے ۔  چنانچہ،  حضرت



[1]     تفسیر نعیمی ، سورۃ النساء ،  تحت الآیۃ : ۶۹ ، ج۵ ،  ص۲۰۸۔

[2]     مجمع الزوائد ،  کتاب المناقب ،   باب ماجاء فی اصحاب رسول اللہ ،  الحدیث : ۱۶۳۸۳ ، ج۹ ، ص۷۳۶۔



Total Pages: 273

Go To