Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

میں   حاضر ہوگئے  ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے دریافت فرمایا :  ’’ گھر والوں   کے لئے کیا چھوڑا ہے  ؟  ‘‘  انہوں   نے عرض کی :  ’’ ان کے لئےاللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافی ہیں    ۔  ‘‘   امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : میں   نے ( دل میں   ) کہا :  ’’ میں  کبھی بھی کسی معاملے میں   امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے آگے نہیں   بڑھ سکتا ۔  ‘‘    ( [1] )

اپنی جان آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر قربان :   

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسچے دوست اور بھائی چارگی  کو نبھاتے تھے ۔  جیساکہ علمائے تصوُّف رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیفرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی محبت میں   در پیش مشکلات کوخوش دلی سے سینے لگانے اور تمام امور کو دلوں   کی صفائی پر صَرف کرنے کا نام تصوُّف ہے ۔  ‘‘

 ( 71 ) … حضر ت سیِّدُنااَنس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ غارِثور والی رات  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  مجھے آپ پہلے غارمیں   داخل ہونے کی اجازت عطا فرمائیں   تا کہ اگر کوئی سانپ یا موذی چیز ہوتو پہلے مجھے نقصان پہنچا ئے ۔  ‘‘ مؤمنین پر رحم و کرم فرمانے والے نبی ٔکریم،  رَءُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اجازت عطا فرمادی توعاشق اکبر  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناصدیق اکبر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاندرداخل ہوئے اور اپنے ہاتھوں   سے سوراخ تلاش کرتے اورجو بھی سوراخ ملتا اپنا کپڑا پھاڑ کر اسے بند کر دیتے،   یہاں   تک کہ کپڑا ختم ہوگیامگر ایک سوراخ ابھی باقی تھا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس پر اپنے پاؤں   کی ایڑی رکھ دی پھر اللہ عَزَّوَجَلَّکے حبیب،  حبیب ِلبیب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغار میں   داخل ہوئے ۔  صبح ہوئی توحضورنبی ٔ رحمت ،   شفیعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا :   ’’ اے ابوبکر  !  تمہارا کپڑا کہا ں   ہے  ؟  ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے سارا واقعہ عرض کر دیا توحضور نبی ٔاکرم،   رسولِ محتشم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بارگاہ خداوندی میں   اپنے ہاتھوں   کو بلند فرمایا اوریہ دعا کی:    ’’ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ اَبَا بَکْرٍ مَعِیَ فِیْ دَرَجَتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃیعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !  قیامت کے دن ابو بکر کوجنت میں   میرے ساتھ جگہ عطا فرما ۔  ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے حبیب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طر ف وحی فرمائی کہ ’’   بے شک تمہارے رب نے تمہاری دعا قبول فرمالی ہے ۔  ‘‘  ( [2] )

اپنا مال آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر قربان :  

 ( 72 ) … حضرت سیِّدَتُنااَسماء بنت ابی بکر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتی ہیں : ’’ جب حضورنبی ٔ اَکرم،  رسولِ محتشم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماو ر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حج کیا تو حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا مال نبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تصرف میں   تھا ۔  ‘‘

زبان کی حفاظت:

 ( 73 ) …  حضرت سیِّدُنازید بن اسلم  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین  حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں   حاضر ہوئے تو دیکھا کہ  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنی زبان پکڑ کر کھینچ رہے ہیں    ۔  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّآپ کی بخشش فرمائے ۔ اسے چھوڑ دیجئے  !   ‘‘  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ اس نے مجھے ہلاکت میں   ڈال دیا ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 74 ) … حضرت سیِّدُناطا رق بن شہاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّاب سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ اس شخص کے لئے بشارت ہے جو ’’  نَأْنَاۃ ‘‘ میں   فوت ہوا  ۔  ‘‘ عرض کی گئی :  ’’ یہ ’’ نَأْنَاۃ ‘‘ کیا ہے ؟  ‘‘   فرمایا :   ’’ ابتدائے اسلام ( یعنی جب اسلام کمزورتھا اور اس کے مددگار کم تھے )  ۔  ‘‘   ( [4] )

مضبوط ومطمئن دل کے مالک :  

 ( 75 ) … حضرت سیِّدُناابو صالح  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے زمانۂ خلافت میں   اہل یمن کا ایک وفد حاضر ہواجب انہوں   نے قرآن سنا تو رو نے لگے  ۔  امیر المؤمنین ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  پہلے ہماری بھی یہی حالت تھی لیکن اب دل سخت ہوگئے ہیں   ۔  ‘‘   ( [5] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں :  ’’ امیر المؤ منین حضر ت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے فرمان ’’  دل سخت ہو گئے  ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ دل مضبوط اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی معرفت سے مطمئن ہوگئے ۔  ‘‘

صدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کی حیا :  

 (  76 ) … حضرت سیِّدُناعروہ بن زبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے لوگو ں   کو خطبہ دیتے



[1]    سنن ابی داؤد ،  کتاب الزکاۃ  ،  باب الرخصۃ فی ذلک  ،  الحدیث : ۱۶۷۸ ، ص۱۳۴۸۔

[2]    صفۃ الصفوۃ  ،  ابو بکر الصدیق  ،  سیاق افعالہ الجمیلۃ  ، ج۱ ، ص۱۲۵۔