Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامتصوُّف کا معنی بیان فرماتے ہیں    کہ ’’   اللہ  عَزَّوَجَلَّ کاقرب پانے کی کوشش میں   لگے رہنے کا نام تصوُّف ہے ۔  ‘‘

 ( 67 ) …  حضرت سیِّدُنازید بن اَرقم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا ایک غلام تھا جو کما کر لایاکرتا تھا ۔  ایک رات جب وہ کھانا لایا توامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ابھی اس میں   سے ایک ہی لقمہ تناو ُل فرمایاتھا کہ غلام نے عرض کی :  ’’  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہررات مجھ سے دریافت کیا کرتے تھے کہ کھانا کہاں   سے آیاہے لیکن کیا بات ہے آج آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے یہ سوال کیوں   نہیں  کیا ؟  ‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناصدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ مجھے سخت بھوک لگی تھی اس وجہ سے نہ پوچھ سکااب بتاؤکہاں  سے لائے ہو  ؟  ‘‘  غلام نے عرض کی :  ’’ میں   نے زمانہ جاہلیت میں   منتر پڑھ کر کسی کا علاج کیا تھا اور انہوں   نے مجھے کچھ دینے کا وعدہ کیا تھا ،  آج جب میں   ان کے پاس سے گزراتو ان کے ہاں   شادی تھی انہوں   نے اس کھانے میں   سے مجھے بھی دے دیا ۔  ‘‘  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناصدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک کردیتا ۔  ‘‘ یہ کہہ کر انگلی منہ میں   ڈالی اور قے کرنے لگے،  لیکن کھانا نہ نکلا،  کسی نے کہا :   ’’ یہ پانی کے بغیر نہیں   نکلے گا ۔  ‘‘  توامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناصدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پانی منگوا یا اوراسے پی کر قے کرتے رہے یہاں  تک کہ اس کھانے کوپیٹ سے باہرنکال دیا ۔ کسی نے کہا :  ’’  اللہ  عَزَّوَجَلَّآپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہپر رحم فرمائے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ایک لقمے کی وجہ سے اتنی مشقت کیوں   اٹھائی ۔  ‘‘  فرمایا :   اگر یہ لقمہ میری جان لے کر نکلتا تب بھی اسے نکال کررہتا کیونکہ میں   نے حضورنبیٔ اکرم،   نور مجسم،   شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’ جو جسم حرام سے پلا بڑھا وہ آگ کے زیادہ لائق ہے ۔  ‘‘  ( [1] )پس مجھے خوف لاحق ہوا کہ کہیں   اس لقمے سے میرے جسم کی کچھ نشو ونما نہ ہو جائے  ۔

 آپ رَضِیَ اللہ عَنْہکاعشقِ رسول :  

            امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتکالیف کو برداشت کرنے میں  سب سے آگے ہوتے تھے کیونکہ اس میں   بلندیٔ درجات کی زیادہ امید ہوتی ہے ۔  جیسا کہ اہلِ تصوُّف ،  تصوُّف کا ایک معنی یہ بیان فرماتے ہیں   کہ محبوب کے دیدارکے لئے جلنے،   تڑپنے اور بے قرار رہنے میں   راحت و آرام محسوس کرنا تصوُّف کہلاتا ہے ۔

 ( 68 ) … حضرت سیِّدَتُنااسماء بنت ابو بکرصدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ ایک فریادی آلِ ابو بکر کے پاس آیا اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کی: ’’ اپنے رفیق کی خبر لو !  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فوراً ہمارے پاس سے تشریف لے گئے اورحالت یہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بال چار حصوں   میں   تقسیم تھے  ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہیہ کہتے ہوئے مسجد میں   داخل ہوئے تمہاری ہلاکت ہو،  کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رباللہہے اور بے شک وہ تمہارے رب کی طرف سے روشن نشانیاں   تمہارے پاس لائے ؟  پس وہ لوگ رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو چھوڑ کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہپر جھپٹ پڑے ۔ حضرت سیِّدَتُنا اسماء بنت ِ ابوبکرصدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتی ہیں   جب آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ واپس گھر تشریف لائے تو حالت یہ تھی کہ سرکے جس حصے پربھی ہاتھ پھیرتے توبال ہاتھ میں   آجاتے اور اس کے باوجود آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہیہ پڑھ رہے تھے :   تَبَارَکْتَ یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَام یعنی :   اے بزرگی وکرامت والے رب عَزَّوَجَلَّ !  تیری ذات بابر کت ہے ۔   ( [2] )

راہِ خدا  میں   خرچ کرنے کا جذبہ:

            امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبڑی چیز (  یعنی آخرت  )  کے بدلے میں   حقیر چیز  ( یعنی دُنیا )  کو قربان کردیتے تھے ۔ جیساکہ صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامتصوُّف کاایک معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ’’ اپنی تمام تر کوششوں   کو نعمتیں   عطا کرنے والے پَروَرْدْگار عَزَّوَجَلَّ کے لیے وقف کردینے کا نام تصوُّف ہے  ۔

 ( 69 ) …  حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنبی ٔکریم،   رَءُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں   صدقہ لے کر حاضر ہوئے اور اسے چھپاتے ہوئے عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ میر ی طر ف سے صدقہ ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کا مجھ پر اور بھی حق ہے ۔  ‘‘  کچھ دیر بعدامیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبارگاہِ رسالتعَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُوَ السَّلَاممیں   صدقہ لائے اور اسے ظاہر کرتے ہوئے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ میری طر ف سے صدقہ ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں   میرے لئے اس کابدلہ ہے ۔  ‘‘  حضورنبی ٔ  اَکرم،  نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :   ’’ اےعمر  !  تم نے بغیر دھاگے کے کمان پر تیر چڑھانے کی کوشش کی ہے اور تم دونوں   کے صدقے میں   ایسا ہی فر ق ہے جیسا کہ تمہارے کلام میں   ہے ۔  ‘‘   ( [3] )

صدقہ کرنے میں   سب سے آگے:

 ( 70 ) … حضر ت سیِّدُنازید بن اَرقم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنے والدسے روایت کرتے ہیں  کہ انہوں   نے  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو فرماتے ہوئے سناکہ رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکو صدقہ دینے کا حکم دیا،  اتفاق سے ا س وقت میرے پاس مال موجودتھا،   میں   نے  ( دل میں   ) کہا: ’’ اگر میں   کسی دن  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکرصدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے بڑھ سکتا ہوں   تووہ آج کا دن ہے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ میں   اپناآدھا مال لے کر بارگاہ ِنبوت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں   حاضر ہوگیا ۔  ‘‘ حضورنبی ٔاَکرم ،   رسولِ محترم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا :  ’’  گھر والوں   کے لئے کیا چھوڑا ہے  ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی:  ’’  آدھا مال گھر والوں   کے لئے چھوڑآیا ہوں   ۔  ‘‘ اتنے میں    امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صد یق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنا سارا مال لے کرحضور نبی ٔاَکرم ،  نورِ مجسّم ،   شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ



[1]    شعب الایمان للبیہقی ،   باب فی المطاعم والمشارب ،  الحدیث : ۵۷۶۰ ، ج۵ ، ص۵۶۔

[2]    المسندلابی یعلی الموصلی  ،  مسند ابی بکر الصدیق  ،  الحدیث : ۴۸ ، ج۱ ، ص۴۲۔

[3]    الفردوس بماثور الخطاب للدیلمی ،   باب الیاء  ،  الحدیث : ۸۲۸۳ ، ج۵ ، ص۳۱۰۔



Total Pages: 273

Go To