Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

پشت سے چادر اتار کر اپنے اورمدنی آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درمیان بچھا دی اور اسے اس قدرغورسے دیکھنے لگاگویامیں   اس پرچلتی کسی جُوں   کودیکھ رہاہوں   ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے گفتگو فرمائی جسے میں   نے محفوظ کر لیا ۔ پھرارشادفرمایا :   ’’ چادر سمیٹ کراپنے سینے سے لگا لو ۔  ‘‘ اس کے بعد سے میں   آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ارشادات مبارَکہ میں   سے ایک حرف بھی نہیں   بھولا ۔  ‘‘    ( [1] )

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاعلمِ حدیث :  

 ( 1319 ) … حضرت سیِّدُنا یزیدبن اَصَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم بیان کرتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے سناکہ ’’  لوگ کہتے ہیں :  اے ابوہریرہ !  آپ اتنی کثرت سے احادیث کیوں   بیان کرتے ہیں   ؟  اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے !  اگر میں   وہ تمام احادیث جومیں   نے سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی ہیں   تمہیں   سنادوں   توتم لوگ مجھے ٹھیکریوں   سے مارنے لگواورپھرتم میرا سامنا نہ کر سکو گے ۔  ‘‘    ( [2] )

  ( 1320 ) … حضرت سیِّدُناعمرعبداللہرُوْمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے 5 تھیلوں   کی مقدار احادیث یاد کی ہیں   جن میں   سے صرف 2تھیلوں   کی مقدار اَحادیث تمہارے سامنے بیان کی ہیں   ۔  اگر میں   تیسری تھیلی کی مقدار بھی بیان کر دوں   تو تم مجھے سنگسار کر دو ۔  ‘‘    ( [3] )

ٹھنڈی غنیمت :  

 ( 1321 ) … حضرت سیِّدُنااَنس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے

 

فرمایا :  ’’ کیا میں   تمہیں   ٹھنڈی غنیمت کے بارے میں   نہ بتاؤں   ؟  ‘‘  لوگوں   نے پوچھا :   ’’  اے ابوہریرہ !  وہ کیا ہے ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ سردیوں   میں   روزے رکھنا ۔  ‘‘    ( [4] )

ہرمہینے تین روزے:

 ( 1322 ) … حضرت سیِّدُناابوعُثْمَان نَہْدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ میں   سات روز تک حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کامہمان رہا ۔ میں   نے پوچھا :  ’’ اے ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  !  آپ کس طرح روزے رکھتے ہیں   یا آپ کے روزے کیسے ہوتے ہیں   ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’ میں   ہرمہینے کے آغازمیں   تین روزے رکھتاہوں  اور اگرکوئی عارضہ پیش آ جاتاہے تومہینے کے آخرمیں   تین روزے رکھ لیتاہوں   ۔  ‘‘    ( [5] )

ساراسال روزوں   کاثواب :  

 ( 1323 ) … حضرت سیِّدُناابوعُثْمَان نَہْدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک سفرپرتھے ۔  جب قافلے والوں   نے ایک مقام پر پڑاؤ کیا تو دسترخوان بچھایا ۔  پھر ایک شخص کو حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبلانے کے لئے بھیجا  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس وقت نماز میں   مصروف تھے  ۔  بعد ِ نمازپیغام ملنے پرفرمایا :  ’’ میں   روزے سے ہوں   ۔  ‘‘  اور جب لوگ کھانے سے فارغ ہونے کے قریب تھے توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے آ کر کھانا شروع کر دیا ۔  لوگ اس شخص کوگھورنے لگے جوانہیں  کھانے کے لئے بلانے گیا تھا ۔  اس نے کہا :   ’’ تم مجھے کیوں   گھوررہے ہو ؟  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  اِنہوں   نے مجھے بتایا تھا کہ میں   روزے سے ہوں   ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ یہ سچ کہتا ہے ۔  بے شک میں   نے حضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشادفرماتے سنا کہ ’’  ماہِ رمضان کے روزے اور ہر ماہ تین روزے رکھناسارا سال روزے رکھنے کی طرح ہے ۔  ‘‘   اور چونکہ میں   اس مہینے کے شروع میں   تین روزے رکھ چکا ہوں   پس اب میں   اللہعَزَّوَجَلَّ کی عطاکردہ تخفیف میں   کھا رہا ہوں   اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے اجر روزہ دار کاپا رہا ہوں   ۔  ‘‘    ( [6] )

 

 ( 1324 ) … حضرت سیِّدُناابومُتَوَکِّلرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اورآپ کے رُفقا روزہ رکھتے تومسجدمیں   بیٹھ جاتے اور کہتے :  ’’  ہم اپنے روزے کوپاک کررہے ہیں   ۔  ‘‘    ( [7] )

نفل روزے کی نیت:

 ( 1325 ) … حضرت سیِّدُناسَعِیْدبن مُسَیَّب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو دیکھا کہ بازار جاتے ۔  جب گھرآتے تو پوچھتے: ’’ کیا تمہارے



[1]    سیراعلام النبلاء ،  الرقم۲۲۲ابوہریرۃ ، ج۴ ، ص۱۸۵۔

[2]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،   ذکرمن جمع القرآن علی عہد رسول اﷲ ،  ابو ہریرۃ ، ج۲ ، ص۲۷۸۔

[3]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب کان ابوہریرۃاحفظالخ ،  الحدیث : ۶۲۱۸ ، ج۴ ، ص۶۵۰ ، مفہومًا۔

[4]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  زہدابی ہریرۃ ،  الحدیث : ۹۸۶ ، ص۱۹۷۔

[5]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  مسندابی ہریرۃ ،  الحدیث : ۸۶۴۱ ، ج۳ ، ص۲۶۸ ، بتغیرٍ۔

[6]    مسندابی داؤدالطیالسی ،  ابوعثمان النہدی عن ابی ہریرۃ ،  الحدیث : ۲۳۹۳ ، ص ۳۵۱ ، مفہومًا۔

[7]

Total Pages: 273

Go To