Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

جائے نماز بنالیا،   اسی جگہ نماز پڑھتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے لیکن یہاں   بھی مشرکین کی عورتوں   اور بچوں   کاازدھام لگا رہتا وہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو دیکھ دیکھ کر حیرت و تعجب کرتے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا یہ حال تھا کہ جب قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو اپنے آنسو ؤں   پرقا بو نہ رکھ پاتے اورخوب آنسو بہاتے  ۔

            اس بات سے سر دارانِ قریش بہت پریشان تھے  ( کہ کہیں   ان کی عورتیں   اور بچے اسلام کی طر ف مائل نہ ہوجائیں    )  چنانچہ ،   انہوں   نے ابن دَغِنَہ کو بلا کر اپنی تشویش کا اظہار کیاتو ابن دَغِنَہامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس آیااور کہا :  ’’  اے ابو بکر  !  جس بات پر میں   نے آپ کی ذمہ داری قبول کی ہے وہ آپ کو معلوم ہے لہٰذ اآپ اسی پر قائم رہیں   یا میراذمہ چھوڑدیں   کیونکہ مجھے یہ پسند نہیں   کہ قریش میرے بارے میں   یہ سنیں   کہ میں   نے اپنے ذمہ کی حفاظت نہیں   کی ۔  ‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناصدیق اکبر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ میں   تیرا ذمہ تجھے لوٹا تا اوراللہعَزَّوَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذمہ پر راضی ہوتا ہوں   ۔  ‘‘  ان دنوں   رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممکہ ہی میں   تشریف فرما تھے ۔    ( [1] )

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قرآن فہمی :  

 ( 65 ) … حضرت سیِّدُنااسود بن ہلال  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے رُفقا سے فرمایا :   ان دو آیتو ں   کے بارے میں   تم کیا کہتے ہو ؟

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا ( پ۲۶،  الاحقاف :  ۱۳ )

ترجمہ کنزالایمان :  بے شک وہ جنہوں   نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے ۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ( پ۷،  الانعام :  ۸۲ )

 ترجمۂ کنزالایمان: وہ جوایمان لائے اوراپنے ایمان میں   کسی ناحق کی آمیزش نہ کی ۔

            رُفقا نے عرض کی :  ’’  رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا سے مراد یہ ہے کہ انہوں   نے دوسرا دین اختیار نہیں   کیااور وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ کا مطلب یہ ہے کہ انہوں   نے اپنے ایمان میں   گناہ کرکے ناحق کی آمیزش نہیں   کی ۔  ‘‘  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  تم نے ان آیتو ں   کا محمل درست بیان نہیں   کیا ۔  ‘‘  پھر ارشاد فرمایا :  ’’  رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا سے مرادیہ ہے کہ وہاللہعَزَّوَجَلَّکے غیر کی طرف متوجہ ہی نہیں   ہوئے اور وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ کا مطلب یہ ہے کہ انہوں   نے اپنے ایمان میں   شرک کی آمیزش نہیں   کی( [2] )

 آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی فکرِآخرت :  

             امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ دنیاسے کنارا کشی اختیار کرنے اورفکر آخرت میں   مگن رہنے والے تھے ۔

            اورصوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’  تصوُّف دنیا کوچھوڑکر اس کے مال و متاع سے منہ موڑنے کو کہتے ہیں    ۔  ‘‘

 ( 66 ) …  حضرت سیِّدُنازید بن اَرقم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان فرماتے ہیں : امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پینے کے لئے پانی طلب فرمایاتوایک کٹورے میں   پانی اور شہد پیش کیا گیا ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناصدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے منہ کے قریب کیا تو ر و پڑے اورحاضرین کو بھی رُلادیاپھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتوخاموش ہو گئے لیکن لوگ روتے رہے ۔  ( ان کی یہ حالت دیکھ کر ) آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہپر رقت طاری ہوگئی اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہدوبارہ رونے لگے یہاں   تک کہ حاضرین کو گمان ہواکہ وہ اب رونے کاسبب بھی دریافت نہیں   کر سکیں   گے پھرکچھ دیرکے بعدجب افاقہ ہوا تو لوگو ں   نے عرض کی :   ’’ کس چیزنے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو اس قدر رُلایا ؟  ‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناصدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا :   میں   ایک مرتبہ حضورنبی ٔاکرم ،   نُوْرِ مُجَسَّم ،   شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھا کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے آپ سے کسی چیز کو دورکرتے ہوئے فرما رہے تھے ،   مجھ سے دور ہوجا ،  مجھ سے دور ہوجا،   لیکن مجھے آپ کے پاس کوئی چیز دکھائی نہیں   دے رہی تھی ۔ میں   نے عرض کی:  ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی چیز کو اپنے آپ سے دور فرما رہے ہیں   جبکہ مجھے آپ کے پاس کوئی چیز نظر نہیں   آرہی  ؟  ‘‘ سرکارِ دوجہان ،   سرورِ ذیشان  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   یہ دنیاتھی ،  جو بَن سنور کر میرے سامنے آئی تو میں   نے اس سے کہا :   ’’ مجھ سے دور ہو جاتووہ ہٹ گئی  ۔  ‘‘ اس نے کہا :  ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تومجھ سے بچ گئے لیکن آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد آنے والے نہ بچ سکیں   گے ۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ مجھے خوف لاحق ہوا کہ دنیا مجھ سے چمٹ گئی ہے ۔  بس اسی بات نے مجھے رُلا دیا  ۔  ‘‘   ( [3] )

 آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکاتقویٰ:

            امیرالمؤمنین حضر ت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہراہ خدامیں   اپنی کوشش کو کم نہیں   کرتے تھے اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی حدوں   سے آگے نہیں   بڑھتے تھے ۔ جیساکہ صوفیائے عظام



[1]    صحیح البخاری ،  کتاب الکفالۃ  ،  باب جوار ابی بکرالخ  ،  الحدیث  ۲۲۹۷ ، ص۱۷۹۔

[2]    المستدرک ،  کتاب التفسیر ،  تفسیرسورۃحمٓ السجدۃ ،  باب ان اول من یتکلم یوم القیامۃالخ ،  الحدیث : ۳۷۰۰ ،

                ج۳ ،  ص۲۲۹ ، ’’فلم یدینوا‘‘بدلہ ’ ’فلم یلتفتوا‘‘۔

[3]    المستدرک ،  کتاب الرقاق  ،  باب اذا مرض المؤمنالخ  ،  الحدیث : ۷۹۲۶ ،  ج۵ ، ص۴۳۹ ، بتغیرٍقلیلٍ۔



Total Pages: 273

Go To