Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کاشکرہے جس نے دین کو مضبوط بنایا اور ابوہریرہ کو امام جبکہ پہلے وہ غزوان کی بیٹی کا کھانے اور سواری کے عوض ملازم تھا ۔  ‘‘    ( [1] )

 

 ( 1311 ) … حضرت سیِّدُنامُضَارِب بن حَزْن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں   ایک رات سفرپرتھاکہ میں   نے ایک شخص کوتکبیرکہتے سنا توسواری کے ساتھ اس تک جا پہنچا ۔ میں   نے آواز دی :  ’’ یہ تکبیرکہنے والاشخص کون ہے ؟  ‘‘  جواب ملا :  ’’ ابوہریرہ  ۔  ‘‘  میں   نے پھر دریافت کیا :  ’’ یہ تکبیر کیسی ہے ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کر رہا ہوں   ۔  ‘‘  میں   نے پوچھا :  ’’ کس بات پر شکر ادا کر رہے ہیں   ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’ میں   پہلے غَزْوَان کی بیٹی بَرَّہ کا کھانے پر نوکر تھا ۔  ان کے ساتھ پیدل چلتا تھا ۔  جب وہ سوار ہوتے میں   جانوروں   کوچلاتا اور جب وہ کسی مقام پر ٹھہرتے تو میں   ان کی خدمت کرتا تھا ۔  پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری اس سے شادی کرا دی اوراس وقت وہ میری بیوی ہے ۔  اب حالت یہ ہے کہ جب لوگ سوار  ہوتے ہیں   میں   بھی سوار ہو جاتا ہوں   اور جب کسی جگہ قیام کرتے ہیں   تو میری خدمت کی جاتی ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 1312 ) … حضرت سیِّدُنا عثمان بن مسلم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ ہمارا ایک آزاد کردہ غلام تھا جو ہمیشہ حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ رہتا تھا ۔  جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اسے سلام کرتے تو فرماتے :   ’’ تم پر سلامتی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمتیں   ہوں  ،   توہمیشہ جلدبازرہے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ تیرے مال میں   اضافہ فرمائے اور میں   مال کی وجہ سے تم پر ناراض نہیں   ہوں   ۔  ‘‘

بیٹی کوسونانہ پہننے کی نصیحت :  

 ( 1313 ) … حضرت سیِّدُناامام محمدبن سِیْرِین عَلَیْہِ رَحِمَہُ اللہ الْمُبِیْن سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنی بیٹی سے فرماتے تھے :  ’’ سونا نہ پہنو کہ مجھے تم پر دوزخ کی آگ کے شعلوں   کا خوف ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 1314 ) … حضرت سیِّدُناطاؤس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کواپنی بیٹی سے فرماتے سنا :  ’’ اے بیٹی !  تُو  ( سونانہ پہننے پرعاردلانے والی اپنی سہیلیوں   سے )  کہا کر کہ میرے والد مجھے سونے کے زیورات سے مزین کرنے سے اِجْتِناب کرتے ہیں   کیونکہ وہ مجھ پر آگ کے شعلوں   سے ڈرتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 1315 ) … حضرت سیِّدُنا ابورَبِیْععَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَدِیْع سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی   عَنْہنے فرمایا :  ’’ یہ کُوڑا کَرکَٹ تمہاری دنیا وآخرت کی تباہی کاسبب ہے ۔  ‘‘    ( [5] )

 گورنر بننے سے انکارکردیا :  

 ( 1316 ) … حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ایک مرتبہ امیر المؤ منین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے بلایا تا کہ کسی علاقے کاگورنرمقررفرمائیں   لیکن میں   نے گورنربننے سے اِنکارکر دیا تو امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ کیاآپ گورنری کو ناپسندجانتے ہیں   حالانکہ آپ سے بہتر شخص نے اس کا مطالبہ کیا تھا ؟  ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   نے عرض کی :  ’’ کس نے مطالبہ کیا تھا ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ حضرت سیِّدُنا یوسف بن یعقوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْھِمَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’ حضرت سیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے نبی کے بیٹے تھے ۔  جبکہ میں  ابوہریرہ،   اُمَیَّہ کی اولاد ہوں   ۔ مجھے 2اور3باتوں  کاخوف ہے  ۔  ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ تم نے5کیوں   نہیں   کہا ؟  ‘‘ عرض کی :  ’’ میں   بغیر علم کے کوئی بات کہنے اوربغیر عدل واِنصاف کے فیصلہ کرنے،   پیٹھ پر کوڑے مارے جانے،  مال چھینے جانے اور بے عزت کئے جانے سے ڈرتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [6] )

بے مثال حافظہ :  

 ( 1317 ) … حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ایک دن نبیوں   کے سلطان،   سرور ذیشان ،   محبوب رحمن  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے گفتگوکرتے ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’ جو اپنا کپڑا پھیلائے گا یہاں   تک کہ میں   اپنی گفتگو ختم کر لوں   پھر وہ کپڑاسمیٹ لے تواسے میرے ارشادات یاد ہو جائیں   گے  ۔  ‘‘  چنانچہ،   میں   نے اپنی چادر پھیلا دی حتی کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی گفتگومکمل فرمائی تو میں   نے اسے سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا ۔ پس اس کے بعدسے میں   آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاکوئی ارشادنہیں   بھولا ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 1318 ) … حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ حضور نبی ٔپاک،   صاحبِ لَولاک،   سیّاحِ

 

افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا :   ’’ تم مجھ سے وہغنیمتیں  کیوں   نہیں   طلب کرتے جو تمہارے رُفقا طلب کرتے ہیں   ؟  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  میں   آپ سے سوال کرتا ہوں   کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے اس علم سے کچھ عطا فرما دیجئے جواللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو عطا فرمایا ہے ۔  ‘‘  چنانچہ،   میں   نے اپنی



[1]    سیراعلام النبلاء ،  الرقم۲۲۲ابوہریرۃ ، ج۴ ، ص۱۹۴۔

[2]    الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،  کتاب اخبارہالخ ،  الحدیث : ۷۱۰۶ ، ج۹ ، ص۱۴۰۔

[3]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  فضل ابی ہریرۃ ،  الحدیث : ۸۳۳ ، ص۱۷۶۔

[4]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۸۸۹۵ابی ہریرۃ الدوسی ، ج۶۷ ، ص۳۶۹ ، بتغیرٍ۔

[5]    شعب الایمان للبیہقی ،  باب فی الزھدوقصرالامل ،  الحدیث : ۱۰۶۸۷ ، ج۷ ، ص۳۸۶۔