Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کوحکم دیا ( کہ وہ صفہ والوں   کو کھانا کھلائیں   )  ۔ چنانچہ،   کوئی صحابی اہلِ صفہ میں   سے ایک آدمی کواپنے ہمراہ لے گیا،   کوئی دو کو اپنے ساتھ لے گیا حتی کہ ہم پانچ باقی رہ گئے ۔  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں   اپنے ساتھ چلنے کا حکم فرمایا ۔  ہم ساتھ چل دیئے اوراُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس پہنچے ۔  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ اے عائشہ !  ہمیں   کچھ کھلاؤ،  پلاؤ ۔  ‘‘ اُم المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا جَشِیْشَہ  ( یعنی دلیاجس میں   گوشت یا کھجور کو پکایا جائے )  بنا کر لائیں   ۔  ہم نے اسے کھایا پھر  تیتر کے برابر حَیْسہ ( یعنی کھجور،   پنیر اور گھی ملا کر بنایا ہوا کھانا )  لائیں   ۔  ہم نے وہ بھی کھالیا ۔  پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ اے عائشہ !  ہمیں   پلاؤ ۔  ‘‘  چنانچہ،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا دودھ کاایک چھوٹا برتن لے آئیں   ۔  ہم نے دودھ پی لیا ۔  پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم سے ارشادفرمایا :   ’’ اگر چاہو تو یہیں   آرام کرو اورچاہو تو مسجد میں   چلے جاؤ ۔  ‘‘ ہم نے عرض

 

کی :   ’’  ہم مسجد چلے جاتے ہیں    ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا طِخْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ میں   مسجدمیں   پیٹ کے بل سو رہا تھاکہ اچانک کسی نے مجھے اپنے پاؤں   سے ہلاکر فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس طرح لیٹنے سے ناراض ہوتا ہے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ میں   نے دیکھا تووہ حضورنبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تھے ۔  ‘‘    ( [1] )

حضرت سیِّدُناطَلْحَہ بِن عَمْرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناطَلْحَہ بن عمرو بَصَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبھی اہلِ صفہ میں   ذکرکیاگیا ہے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے پہلے صفہ میں   اِقامت اِختیارکی پھربصرہ تشریف لے گئے اورمستقل وہیں   رہنے لگے ۔

مال کی فراوانی کی خبر :  

 ( 1295 ) … حضرت سیِّدُناطَلْحَہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوتااور مدینۂ منورہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں   اس کا کوئی واقف کارہوتا تواس کے ہاں   ٹھہرتا ۔  ورنہ اصحابِ صفہ کے پاس قیام کرتا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  کہ میں   بھی صفہ والوں   کے پاس ٹھہرتا تھا پھر میری ایک شخص سے دوستی ہو گئی  ۔ حضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے ہر دو افراد کے لئے ہمیں   روزانہ ایک مُدکھجوریں   ملتی تھیں   ۔ ایک دن رحمت والے آقا،   مکی مدنی مصطفیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز سے فارغ ہوئے توہم میں   سے ایک شخص نے عرض کی :  ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کھجوروں   نے ہمارے پیٹ جلادیئے ہیں   ۔  نیز ہماری چادریں   پھٹ چکی ہیں   ۔  ‘‘  یہ سن کر مصطفی جانِ رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر پر تشریف فرما ہوئے،   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمدوثنابیان کرنے کے بعدلوگوں   کی طرف سے پہنچنے والی شکایات کو بیان کیاپھر فرمایا :   ’’ بلاشبہ میں   اور میرے رفیق ( یعنی حضرت ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  10 سے زیادہ دن اس حالت میں   رہے کہ ہمارے پاس کھانے کو پیلوکے درخت کے پھل کے سوا کچھ نہ تھا ۔ پھرہم اپنے انصاری بھائیوں   کے پاس آئے ان کا بڑاکھانا کھجور تھا ۔  انہوں   نے ہماری مدد کی ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  اگر میں   تمہارے لئے گوشت و روٹی پاتا تو تمہیں   ضرور کھلاتا ۔  البتہ تم ایک زمانہ ایساپاؤ گے کہ کعبہ معظمہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکے پردوں  کی طرح  ( قیمتی ) لباس پہنوگے اور

 

 صبح شام تمہارے سامنے نت نئے کھانوں   سے لبریزپیالے پیش کئے جائیں   گے ۔  ‘‘    ( [2] )

حضرت سیِّدُناطُفَاوِی دَوْسِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناطُفَاوِی دَوْسِی  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوبھی حضرت سیِّدُناابونَضْرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے حوالے سے اہلِ صفہ میں   ذکرکیا گیا ہے ۔

 ( 1296 ) … حضرت سیِّدُناطُفَاوِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   مدینۂ طیبہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاحاضر ہوا اور حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ ایک مہینے تک قیام کیا ۔  مجھے بخارنے آلیا ۔ جس کی وجہ سے میں   کمزورہوگیا ۔ حضور نبی ٔکریم،   رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجدمیں   تشریف لائے اور اِستفسار فرمایا: ’’ وہ دَوْسی نوجوان کہاں   ہے ؟  ‘‘  ایک شخص نے عرض کی :  ’’ وہ بخارمیں   مبتلا مسجد کے کونے میں  ہیں   ۔  ‘‘  چنانچہ،   پیارے آقا،   دوعالَم کے داتاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے پاس تشریف لائے اوربھلائی کی نصیحت فرمائی ۔  ‘‘ ( [3] )

حضرت سیِّدُناعَبْدُاللّٰہ بِن مَسْعُوْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو یحییٰ بن معین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَبِیْن کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   ذکرکیا گیا ہے اورہم مہاجرین سابقین میں   ان کے بعض اَحوال واَقوال بیان کرچکے ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ آثارونصوص کی اتباع کے ساتھ ساتھ احادیث اورخاص باتوں   کے بیان کرنے میں   سردارہیں   ۔ آپ کا شمار اللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیب ،  حبیبِ لبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اُن صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنمیں   ہوتاہے جو تحریف سے محفوظ رہے اورایسے  صحابۂ کرام یہ بات جانتے تھے کہ حضرت عبد اللہ بن



[1]    سنن ابی داؤد ،  کتاب الادب ،  الحدیث : ۵۰۴۰ ، ص۱۵۹۱۔المعجم الکبیر ،  الحدیث۸۲۲۷ ، ج۸ ، ص۳۲۸۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۸۱۶۰ ، ج۸ ، ص۳۱۰۔

                شعب الایمان للبیہقی ،  باب فی الزھدوقصرالامل ،  الحدیث : ۱۰۳۲۵ ، ج۷ ، ص۲۸۴۔

[3]    الآحادوالمثانی لابن ابی عاصم ،  الطفاوی ،  الحدیث : ۲۷۵۲ ، ج۵ ، ص۲۲۳۔



Total Pages: 273

Go To