Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

والیوں   کی مثل ہو ( [1] )بلال  سے کہو اذان دیں   اور ابوبکر سے کہو کہ لوگوں   کو نماز پڑھائیں    ( [2] ) ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( صَـلُّــوْا عَـلَی الْـحَبِیْب                         صَـلَّی اللہ تَـعَـالٰی عَـلٰی مُـحَـمَّـد )

 

حضرت سیِّدُنا سَالِم بِن عُمَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناسالم بن عمیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوابوعبداللہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   ذکر کیا گیا ہے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا تعلق قبیلہ بنوثَعْلِبَہ بن عمروبن عَوْف کی شاخ اوس سے ہے ۔ بدری صحابی ہیں   اور ان تَوَّابِیْن میں   شامل ہیں   جن کے بارے میں   یہ آیت نازل ہوئی :  

تَوَلَّوۡا وَّ اَعْیُنُہُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ  ( پ۱۰،  التوبۃ :  ۹۲ )

ترجمۂ کنز الایمان :  یوں   واپس جائیں   کہ ان کی آنکھوں   سے آنسو اُبلتے ہوں   ۔

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی شان :  

 ( 1289 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہ آیت مبارَکہ حضرت سالم بن عمیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   نازل ہوئی جو قبیلہ بنو عمرو بن عمروبن ثعلبہ بن زیدسے تعلق رکھتے ہیں   ۔  

وَلَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ۪ - تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ ( پ۱۰،  التوبۃ :  ۹۲ )

ترجمۂ کنز الایمان :  اورنہ ان پرجو تمہارے حضور حاضر ہوں   کہ تم انہیں   سواری عطا فرماؤ تم سے یہ جواب پائیں   کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں   جس پر تمہیں   سوار کروں   اس پر یوں   واپس جائیں   کہ ان کی آنکھوں   سے آنسو اُبلتے ہوں   ۔  ‘‘    ( [4] )

حضرت سیِّدُناسَائِب بِن خَلّاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناسَائِب بن خَلَّادرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوحافظ ابوعبداللہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   ذکرکیاگیاہے ۔  

اہلِ مدینہ کی شانِ عظمت نشان :  

 ( 1290 ) … ابوالحارث بن خَزْرَج کے ہم قوم حضرت سیِّدُناسَائِب بن خَلَّاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ

 

حضور نبی ٔکریم،   رَ ء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ جوظلم کرتے ہوئے اہلِ مدینہ کو ڈرائے گا اللہعَزَّوَجَلَّ اسے خوف میں   مبتلافرمائے گا اور اس پر اللہعَزَّوَجَلَّ اور فرشتوں   اور تمام لوگوں   کی لعنت ہو اور اللہعَزَّوَجَلَّ اس کا نہ توفرض قبول فرمائے گانہ نفل ۔  ‘‘    ( [5] )

حضرت سیِّدُ نا شُقْرَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            سرکارِ دوجہان ،  رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خادِم حضرت سیِّدُنا شُقْرَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو حضرت سیِّدُنا جَعْفَربن محمدصادِق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   ذکرکیا گیاہے  ۔

 ( 1291 ) … حضرت سیِّدُناشُقْرَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ میں   نے اللہعَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب،   حبیبِ لبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوخیبرکی جانب درازگوش پرسوار



[1]    شارح بخاری ، فقیہ اعظم ہندمفتی محمدشریف الحق امجدی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں   : ’’اس سے مرادتنہازلیخاہیں  ۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی مصلحت کی بناپرجمع بولتے ہیں   اورمرادواحدہوتاہے ۔‘‘ کچھ آگے ارشادفرماتے ہیں   : ’’حضرت زلیخاکے قصے اوراس قصے میں   قدرمشترک  ( یعنی ایک جیسی بات  )  یہ ہے کہ زلیخانے مصری عورتوں   کوضیافت کے بہانے بلایاتھااورمقصودحضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کا جلوہ دکھانا اور اپنا عذر ظاہرکرناتھا۔ظاہرمیں   ضیافت کیااوردل میں   کچھ اورتھا۔اسی طرح حضرت صدیقہ ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا ) نے کہلایاتویہ تھاکہ ابوبکررقیق القلب ہیں  ۔حضور  ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کومصلّٰی پرنہ دیکھیں   گے توضبط نہ کرسکیں   گے  ، رونے لگیں   گے اورنمازنہ پڑھاسکیں   گے اوردل میں   یہ تھاکہ لوگ کہیں   حضرت ابوبکر ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  )  کی امامت کی وجہ سے بدفالی نہ لے لیں  ۔‘‘جیساکہ بخاری ہی میں   ہے کہ ’’مجھے باربار عرض پراس خیال نے ابھاراکہ جو شخص حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی جگہ نمازپڑھائے گااسے لوگ پسندنہیں   کریں   گے۔ اس سے لوگ فال بدلیں   گے یعنی یہ کھڑاہوا اورحضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )  کاوصال ہوگیا۔اس لئے میں   چاہتی تھی کہ نماز کوئی اور پڑھائے ۔‘‘ظاہرکچھ کیااوردل میں   کچھ اور تھا۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ مرادیہ ہوکہ جیسے مصرکی عورتیں   حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام  کوان کی مرضی کے خلاف عمل کرنے کوکہتی تھیں   ویسے تم مجھ سے میری مرضی کے خلاف حکم صادرکراناچاہتی ہو۔یایہ کہ مصرکی ان عورتوں   کی طرح تم بھی اپنی بات منوانا چاہتی ہو۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ اگرمریض مسجدنہ جاسکے تواس پرجماعت واجب نہیں  ۔     ( نزہۃ القاری شرح صحیح بخاری ، ج۲ ، ص۳۳۶ )

[2]    مفسرشہیرحکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحنَّان اس کے تحت نقل فرماتے ہیں   : ’’آپ نے 17نمازیں   پڑھائی ہیں  ۔اس سے چندمسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ بعدِانبیاء افضل الخلق ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہیں   کیونکہ امام افضل ہی کوبنایاجاتاہے۔دوسرے یہ کہ بعد رسول اللہصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم خلافت کے آپ ہی مستحق ہیں   کیونکہ یہ امامت صغریٰ امامت کبریٰ کی دلیل ہے۔گویاحضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے عملی طور پر آپ کواپناخلیفہ بنادیا۔خلافت صرف قول سے ہی نہیں   ہواکرتی ، اسی لئے تمام صحابہ خصوصاً حضرت علی مرتضیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایاکہ صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکورسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمارے دین کا امام بنا دیا تو ہم نے انہیں   اس دنیاکاامام بنالیا۔ تیسرے یہ کہ امامت کامستحق پہلے عالم ہے پھرقاری ۔چوتھے یہ کہ ابوبکرصدیق تمام صحابہ میں   بڑے عالم ہیں  ۔‘‘  ( مرآۃ المناجیح ، ج۲ ، ص۲۱۰ )

[3]    سنن ابن ماجہ ،  ابواب اقامۃ الصلوات ،  باب ماجاء فی صلاۃ رسول اللہ فی مرضہ ،  الحدیث : ۱۲۳۴ ، ص۲۵۴۹۔

[4]    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،  غزوۃ تبو ک فی رجب سنۃ تسع ، ص۵۱۵ ، عن ابن اِسحاق۔

[5]    المسندللامام احمدبن حنبل

Total Pages: 273

Go To