Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

غلام مصطفی کی جانوربھی تعظیم کرتے ہیں :

 ( 1281 ) … پیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خادِم حضرت سیِّدُناسَفِیْنَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   سمندر میں   کشتی پر سوارتھا تو وہ ٹوٹ گئی ۔  پھر میں   ایک تختے پر سوار ہو گیا تو سمندر کی موجوں   نے مجھے ایسی جھاڑی میں   لا چھوڑا جہاں   ایک شیر تھا ۔  میں   نے شیرسے کہا :  ’’ اے ابوحارِث ! میں  رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاغلام سَفِیْنَہ ہوں   ۔  ‘‘ یہ سنتے ہی شیر نے اپنا سرجھکا لیا اور اپنے پہلویا کندھے سے میری رہنمائی کرنے لگا ۔  میں   اس کے پیچھے چلنے لگایہاں   تک کہ اُس نے مجھے ایک راستے تک پہنچادیا ۔  جب اس نے مجھے راستے پر پہنچا دیا تودھاڑ کر

 

 چل دیا،  گویاکہ وہ مجھے رخصت کرنے کے لئے الوداع کہہ رہا ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دعوت سے لوٹ آئے :  

 ( 1282 ) … حضرت سیِّدُناسَفِیْنَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ایک شخص کو مہمان بنایا اوراس کے لئے کھانا تیار کروایا ( حضرت سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے عرض کی: ’’ کیوں   نہ ہم رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوبھی مدعوکرلیں   کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی ہمارے ساتھ کھاناتناول فرمائیں   ۔  ‘‘ چنانچہ،   ان کے عرض کر نے پرآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے اوراپنے دونوں  مبارَک ہاتھ دروازے کی چوکھٹوں   پر رکھے تو گھر کے ایک کونے میں   منقش پردہ ( 2 )  ملاحظہ فرمایا ۔  پس آپ واپس ہو گئے ۔  ‘‘   ( سنن ابی داود،  الحدیث :  ۳۷۵۵،  ص۱۵۰۰ ) پھرحضرت

 

سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے عرض کی :   ’’ حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے معلوم کیجئے کہ کیوں   واپس ہو گئے ؟  ‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے واپسی کا سبب دریافت کیا تو ارشادفرمایا :   ’’ میرے لئے اور کسی نبی کے لئے لائق نہیں   کہ وہ مُنَـــقَّش گھرمیں   داخل ہو ۔  ‘‘    ( [2] )

  حضرت سیِّدُناسَعْدبِن مَالِکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناابوسَعِیْدسَعْدبن مالک خُدْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوابوعُبَیْدقاسم بن سلام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ السَّلَام کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   ذکرکیا گیا ہے ۔  نیز صبر وفقر اور سوال سے اجتناب کرنے کی وجہ سے ان کے احوال تقریباً اہلِ صفہ سے ملتے جلتے ہیں   اگرچہ حقیقت میں  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ انصارمیں   سے ہیں   ۔  ‘‘

صبرکی اہمیت کابیان :  

 ( 1283 ) … حضرت سیِّدُناابوسَعِیْدخُدْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ آپ کے گھروالوں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے فاقہ کی شکایت کی توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحضورنبی ٔ پاک،  صاحبِ لولاک،  سیاحِ افلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دربارِ گوہر بار کی طرف چل دئیے تا کہ گھر والوں   کے لئے کچھ مانگ لائیں   ۔ جب دربارِ رِسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَاممیں   حاضرہوئے توحضورنبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو منبر پر ارشاد فرماتے ہوئے سنا:  ’’ اے لوگو !  اب وہ وقت آپہنچا ہے کہ تم سوال کرنے سے بچو ۔  جو سوال سے بچنا چاہے گا اللہعَزَّوَجَلَّ اسے بچائے گا اور جومستغنی ہونا چاہے گا اللہعَزَّوَجَلَّ اسے مستغنی کردے گا ۔  اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   محمد  ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی جان ہے !  صبر سے زیادہ وسیع تر نعمت کسی کوعطا نہیں   کی گئی اور اگر تم مجھ سے سوال کرنے سے نہ رُکے تومیں   جو پاؤں   گا تمہیں   عطاکروں   گا ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 1284 ) … حضرت سیِّدُناابوسَعِیْدخُدْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضورِانور،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوارشاد فرماتے ہو ئے سنا کہ ’’  جوصبرکرناچاہے گا اللہعَزَّوَجَلَّ اسے صبر دے گا اور جو مستغنی ہونا

 



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۶۴۳۲ ، ج۷ ، ص۸۰ ، بتغیرٍ۔

2…مفسرشہیرحکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں   : ’’بعض علماء نے فرمایا کہ یہ پردہ نقشین تھااور اس پر جانداروں   کی تصاویر تھیں   ،  اس لیے حضورانور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہاں   تشریف نہ لائے ،  اس سے معلوم ہوا کہ اگر دعوت میں   کوئی ممنوع کام ہو تو نہ جائے ،  مگر یہ غلط ہے ،  اگر ناجائز پردہ ہوتا تو سرکار ِعالی  ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) منع فرماتے بلکہ دست ِاقدس سے پھاڑ دیتے ۔پردہ سادہ تھا ،  جائز تھا مگر دنیاوی تکلف اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اہل نبوت کے لائق نہ تھی اس لیے منع تو نہ فرمایا عملاً ناپسندیدگی کا اظہار فرمادیا تاکہ آئندہ جناب زہرا  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا ) اپنا گھر نیک اعمال سے ہی آراستہ رکھیں  ۔ زینت دنیا ،  نقصان آخرت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔‘‘ ( مراۃ المناجیح ، ج۵ ، ص۷۸ )

                اورجہاں   تک کسی دعوت میں   شرکت کاسنت ہوناہے تواس کے متعلق دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب  ،  ’’بہارِ شریعت‘‘ حصہ 16 صَفْحَہ 35پر صدرُ الشَّریعہ ،  بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں   : ’’ دعوت میں   جانا اُس وقت سنت ہے جب معلوم ہوکہ وہاں   گانابجانا ، لہوولعب نہیں   ہے اور اگر معلوم ہے کہ یہ خُرافات وہاں   ہیں   تونہ جائے ۔ جانے کے بعدمعلوم ہواکہ یہاں   لغویات ہیں   ،  اگر وہیں   یہ چیزیں   ہوں   توواپس آئے اور اگر مکان کے دوسرے حصے میں   ہیں   جس جگہ کھانا کھلایا جاتا ہے وہاں   نہیں   ہیں   تو وہاں   بیٹھ سکتا ہے اور کھا سکتا ہے ،  پھر اگر یہ شخص ان لوگوں   کوروک سکتاہے تو روک دے اور اگراِس کی قدرت اسے نہ ہوتوصبرکرے۔یہ اس صورت میں   ہے کہ یہ شخص مذہبی پیشوا نہ ہو اور اگر مقتدیٰ وپیشوا ہو ،  مثلاً علماومشائخ ،  یہ اگرنہ روک سکتے ہوں   تو وہاں   سے چلے آئیں   نہ وہاں   بیٹھیں   نہ کھاناکھائیں   اورپہلے ہی سے یہ معلوم ہوکہ وہاں   یہ چیزیں   ہیں   تومقتدیٰ ہو یا نہ ہوکسی کو جانا جائز نہیں   اگرچہ خاص اُس حصۂ مکان میں   یہ چیزیں   نہ ہوں   بلکہ دوسرے حصہ میں   ہوں  ۔‘‘

 ( الھدایۃ ،  کتاب الکراھیۃ ،  فصل فی الاکل والشرب ، ج۲ ، ص۳۶۵۔الدرالمختار ،  کتاب الحظروالاباحۃ ، ج۹ ، ص۵۷۴ )

[2]    المستدرک ،  کتاب النکاح ،  باب الدعاء لمن افادجاریۃ اوامراۃ اودابۃ ،  الحدیث : ۸۱۲ ۲ ، ج۲ ، ص۵۴۳ ، مفھومًا۔

[3]    الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،  کتاب الزکاۃ ،  باب المسألۃوالأخذالخ ،  الحدیث : ۳۳۹۰

Total Pages: 273

Go To