Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

بارگاہِ رِسالتعَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے عتیق کا لقب پایا ۔ توفیق الٰہی کی تائید انہیں  حاصل رہی ،  سفر و حضر میں   حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رفیق ،  زندگی کے ہر موڑ پر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مخلص دوست اوربعدِوصال بھی روضۂ انور میں   (  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ) ساتھ آرام فرمارہے ہیں   ،   اللہعَزَّوَجَلَّنے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا قرآن مجید میں  فخر کے ساتھ ذکرفرمایا جس کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تمام چنے ہوئے لوگوں   سے بڑھ گئے اور رہتی دنیا تک آپ کی بزرگی وشرف باقی رہے گا،  کوئی صاحبِ طاقت وبصارت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بلند رتبہ تک نہیں   پہنچ سکتا کیونکہاللہعَزَّوَجَلَّنے قرآنِ مجیدمیں   ارشاد فرمایا :   ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ ( پ۱۰،  التوبہ :  ۴۰ )

  ترجمۂ کنزالایمان :  صرف دو جان سے جب وہ دونوں   غار میں   تھے ۔

            اس کے علاوہ بہت سی آیات و احادیث آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی شان میں   وارد ہوئی ہیں   جن میں   روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہر صاحبِ فضل سے زیادہ فضیلت والے اورہرمقابل سے بر تری لے جانے والے ہیں   ۔  نیزیہ آیات مبارَکہ بھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی شان میں   نازل ہوئی ہیں   ۔ چنانچہ، 

             اللہعَزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا :

لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ        ( پ۲۷،  الحدید :  ۱۰ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  تم میں   برابر نہیں   وہ جنہوں   نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا ۔

            امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناصدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے تمام حالات میں   اپنی انفرادیت قائم رکھی اور جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوحضورنبی ٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسلام کی دعوت دی تو آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فوراًاِسے قبول کر لیااورمال و عزت حتی کہ ہر چیز راہِ خدا میں   قربان کر دی ۔  تو حیدِ الٰہی کو قائم کرناہی آپ کا مقصدو مدعا تھااسی بنا پر پریشانیوں   اورمصیبتوں   کا نشانہ بنے اور اسلام کی خاطرہر چیز ترک کر دی اور مخلوق سے منہ موڑ کر اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ اختیار کی ۔ منقول بھی یہی ہے کہ راستو ں   کے اختلاف کے وقت حقائق کو تھامے رکھنا ہی تصوُّف ہے ۔

صدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کادرسِ توحید :  

 ( 63 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ جب حضور نبی ٔ اَکرم،  رسولِ محتشم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصالِ ظاہری ہوا توامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ باہر تشریف لائے اوردیکھاکہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہلوگو ں   سے کلام فرمارہے ہیں   ۔  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناصدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   اے عمر  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )   ! بیٹھ جایئے !  لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ( شدتِ جذبات )  کی وجہ سے نہ بیٹھے  ۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پھر فرمایا: اے عمر  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  !  بیٹھ جائیے !   ( امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیٹھ گئے ) توامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے خطبہ دیا اورحمد وصلوٰۃ کے بعدارشاد فرمایا :   تم میں   سے جو شخص حضرت سیِّدُنامحمدمصطفیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کرتا تھا وہ سن لے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموصالِ ظاہری فرماچکے ہیں   اورجو اللہعَزَّوَجَلَّکی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ بے شکاللہعَزَّوَجَلَّزندہ ہے اور اسے کبھی موت نہیں   آئے گی ۔ اللہعَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے :

وَ  مَا  مُحَمَّدٌ  اِلَّا  رَسُوْلٌۚ-قَدْ  خَلَتْ  مِنْ  قَبْلِهِ  الرُّسُلُؕ-اَفَاۡىٕنْ  مَّاتَ  اَوْ  قُتِلَ  انْقَلَبْتُمْ  عَلٰۤى  اَعْقَابِكُمْؕ  ( پ۴،  اٰل عمران :  ۱۴۴ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اور محمد تو ایک رسول ہیں   ان سے پہلے او ر رسول ہوچکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں   یاشہید ہوں   تو تم الٹے پاؤ ں   پھر جاؤ گے ۔

            راوی بیان کرتے ہیں  : ’’ اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  ! ایسا لگتا تھا گویا لوگ جانتے ہی نہ تھے کہاللہعَزَّوَجَلَّنے اس آیت کو نازل فرمایاحتی کہ جب امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے آیت تلاوت کی تو لوگوں   نے سن کر اسے یاد کرلیا پھر اس کے بعد ہم نے لوگوں   کو اس کی تلاوت کرتے سنا ۔  ‘‘             

            حضرت سیِّدُناامام ابن شہاب زُہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی بیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  ’’ اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو اس آیتِ مبارَکہ کی تلاوت کرتے سنا تو میں   کانپنے لگا حتی کہ میرے پاؤں   سن ہو گئے اور میں  گھٹنوں   کے بل زمین پر گر پڑااور یہ آیت سن کر مجھے یقین ہوا کہ حضور نبی ٔ رحمت ،   شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموصالِ ظاہری فرماچکے ہیں   ۔  ‘‘   ( [1] )

 دِین پراِستقامت:

            امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکامل وفا داری کی بدولت اعلیٰ مراتب پر فائز ہوئے ۔  اور کہا گیا ہے کہ تصوُّف بھی یہی ہے کہ انسان اللہوحدہ لاشریک کے لیے گوشہ نشینی اختیار کرلے  ۔

 ( 64 ) … اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں   کہ جب ابن دَغِنَہنے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکواپنی ذمے داری میں   لیا اورقریش نے قبول کرلیاتوانہوں   نے ابن دَغِنَہ سے کہاکہ ابوبکر سے کہوکہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر میں   کیا کریں   ،  گھر میں   جتنی چاہیں   نمازیں   پڑھیں   اور جتنا چاہیں   قرآن پڑھیں  ،   ہمیں   اس سے کوئی تکلیف نہیں   ہو گی لیکن وہ اپنے گھر سے باہر کھلم کھلا نماز نہ پڑھیں   ۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس پر عمل کیا اور اپنے گھر کے صحن کو



[1]    صحیح البخاری ،  کتاب الجنائز ،   باب الدخول علی المیتالخ  ،  الحدیث   ۱۲۴۲ص۹۷۔

   صحیح البخاری ،  کتاب المغازی  ،   باب مرض النبی وفاتہ ،  الحدیث : ۴۴۵۴ ، ص۳۶۵۔



Total Pages: 273

Go To