Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تم دنیاوآخرت کی بھلائی پالو  ( توسنو !  )  ذکر والوں   کی مجلس اختیار کرو ( [1] )اور جب تم تنہائی میں   ہو تو جہاں   تک ہو سکے اپنی  زبان کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے ہلاتے رہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت رکھو اوراسی کے لئے دشمنی رکھو ۔  اے ابورُزَیْن  !  کیا تمہیں   معلوم ہے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر سے مسلمان بھائی کی ملاقات کے لئے نکلتا ہے تو 70 ہزار فرشتے اس کے ساتھ ہو لیتے ہیں   ۔ وہ سب اس کیلئے دعاکرتے ہیں   اورکہتے ہیں   کہ ’’   اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ !  اس نے تیری خاطر  ( رشتۂ محبت ) جوڑا ہے تو اسے جوڑ دے  ( یعنی اس کااپنے سے رشتۂ اطاعت جوڑکر اپناخاص بندہ بنالے )  ۔  ‘‘ لہٰذا اگر اپنے جسم کو اس میں   مشغول کر سکو تو ضرور کرو ۔  ‘‘    ( [2] )

 

حضرت سیِّدُنازَیْدبِن خَطّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنازَیدبن خَطَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوحافظ ابوعبداللہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   ذکرکیاگیاہے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمُسَیْلِمَہ کَذَّاب کے خلاف جہاد کرتے ہوئے شہادت کی سعادت سے بہرمندہوئے ۔  آپ بدری صحابی ہیں  اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی کنیت ابو عبدالرحمن ہے ۔

دوبھائیوں   کاشوق شہادت :  

 ( 1273 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے غزوۂ اُحُدکے دن اپنے بھائی حضرت سیِّدُنا زَیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا :  ’’  میری زِرہ آپ لے لیں   ۔  ‘‘ انہوں   نے کہا :  ’’ جس طرح آپ شہادت کے متمنّی ہیں   مجھے بھی شہادت کی خواہش ہے ۔  ‘‘  چنانچہ،   دونوں   نے زِرہ کو چھوڑ دیا ۔   ( [3] ) 

  ( 1274 ) … حضرت سیِّدُناعبد اللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : میں   ایک سانپ پرحملہ کررہاتھا تاکہ اسے مارڈالوں   اتنے میں  حضرت ابولُبَابَہ یازید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے مجھے دیکھ لیا اوراسے مارنے سے روک دیا اور فرمایا :   ’’ رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے گھر والے سانپوں   کومارنے سے منع فرمایا ہے ( [4] ) ۔  ‘‘    ( [5] )

حضرت سیِّدُنا سَلْمَان فَارِسِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا ابوعبد اللہ سَلْمَان فارِسِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبھی اہلِ صفہ میں   ذکر کیا گیا ہے ۔ ہم آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے کچھ احوال پہلے بیان کرچکے ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک شریف ومسافرانسان تھے ۔

 ( 1275 ) … حضرت سیِّدُنا سَلْمَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ مُکَرَّم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی

 

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:  ’’ جب راہِ خدامیں   مومن کا دل کپکپاتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں   جس طرح کھجورکے درخت سے گچھے گرتے ہیں    ۔   ‘‘   ( [6] )

 اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے محبت کرنے کی فضیلت :  

 ( 1276 ) … حضرت سیِّدُنا سَلْمَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہ،   صاحبِ معطر پسینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا :  ’’ میں   اپنی بعثت سے قیامت تک ہر دو ایسے شخصوں   کا شفیع ہوں   جو محض اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [7] )

حضرت سیِّدُنا سَعْد بن اَبِی وَقّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

 



[1]    حکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس کے تحت فرماتے ہیں   : ’’اس سے مرادعلماء دین اولیاء کاملین صالحین واصلین کی مجلسیں   ہیں   کیونکہ یہ مجلسیں   جنت کے باغات ہیں   جیساکہ دوسری حدیث شریف میں   ہے۔ یہ مجلسیں   خواہ مدرسے ہوں   یادرس قرآن وحدیث کی مجلسیں   یاحضرات صوفیاء کرام کی ذکر کی محفلیں   ،  یہ فرمان بہت جامع ہے جس مجلس میں   اللہ تعالیٰ کاخوف حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا عشق اورطاعتِ رسول کا شوق پیدا ہو وہ مجلس اکسیر ہے۔ سبحان اللہ! انسان کی دوہی حالتیں   ہوتی ہیں   خلوت ، جلوت اس فرمان عالی میں   دونوں   کی اصلاح فرمادی گئی جلوت ہوتواللہ والوں   کی صحبت میں   خلوت ہوتو اللہتعالیٰ کے ذکر میں   ،  بعض مشائخ نے اس فرمانِ عالی سے دلیل پکڑی کہ ذکرِخفی افضل ہے ذکرِجلی سے ،  بعض نے فرمایا کہ ذکرِلسانی ( زبان سے ذکر کرنا ) افضل ہے ذکر جنانی ( دل سے ذکر کرنے )  یا پاس انفاس  ( سانس کے ساتھ ذکراللہ کرنے  )  سے  ،  کیوں   کہ یہاں   زبان ہلانے کاحکم دیا مگر انسان بھی مختلف ہیں   حالات بھی مختلف ،  بعض حالات میں   ذکرِ جلی افضل بعض وقت ذکرِ خفی افضل۔ کون کہہ سکتاہے کہ اذان اورحج کاتلبیہ ،  نمازجہرکی قرآت آہستہ کہی جائیں   اورکون کہہ سکتا ہے کہ نماز تہجد اور نماز خفی  قراء ت جہرسے کی جاوے۔صوفیاء فرماتے ہیں   کہ ’ ’ذکروہ بہترہے کہ ذاکر ذکرمیں   فنا ہو اور مذکور سے باقی ہو ’ ’وَاذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ سب کچھ بھول کراپنے سے بھی غافل ہو کر رب کو یاد کرو۔‘‘ کچھ آگے فرماتے ہیں   : ’’بعض حضرات جب کسی مقبول بندے سے ملاقات کے لئے جاتے ہیں  توباوضواورذکرِالٰہی کرتے جاتے ہیں   یہاں    ( صاحبِ )  مرقات نے بروایت ابویعلیٰ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  ( ام المؤمنین )  حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مرفوعاً روایت کی کہ ’ ’ایساخفی ذکر ، جلی ذکرسے ستَّردرجہ افضل ہے۔‘‘ ( مرآۃ المناجیح ، ج۶ ،  ص۶۰۳ )

[2]    شعب الایمان للبیہقی ،  باب فی مقاربۃ وموادۃ اہل الدین ،  الحدیث : ۹۰۲۴ ، ج۶ ، ص۴۹۲۔

[3]    المعجم الاوسط ،  الحدیث : ۵۳۰۰ ، ج۴ ، ص۸۶۔

[4]    مفسرشہیرحکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس کے تحت فرماتے ہیں   : ’’یعنی جوسانپ گھروں   میں   رہتے ہیں   بستے ہیں  ۔ کسی کوتکلیف نہیں   دیتے وہ جنات ہیں   سانپ نہیں  ۔یہ حکم یاتومدینہ منورہ ( زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا )  کے لئے ہے یا عام مکانوں   کے لئے۔‘‘ ( مرآۃ المناجیح ، ج۵ ، ص۶۶۶ )

[5]    صحیح مسلم ،  کتاب السلام ،  باب قتل الحیات وغیرہا ،  الحدیث : ۵۸۲۵ / ۵۸۲۶ ، ص۱۰۷۴۔

[6]

Total Pages: 273

Go To