Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کر چکے ہیں   ۔

 

عبدُالْعُزَّی سےذُوالْبِجَادَیْن کیسے ہوئے ؟

            ذُوالْبِجَادَیْن نام کاسبب کچھ یوں   ہواکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے چچا کی کفالت میں   تھے ۔  وہ آپ کی پرورش کرتا رہا لیکن جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلام قبول کیا تو اس نے ہر چیز واپس لے لی ۔  اس کے باوجود آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلام چھوڑنے سے انکار کر دیا ۔  والدہ نے انہیں   ایک بڑی اُونی چادر دی ۔  آپ نے اس چادر کے دو حصے کر لئے ۔  ایک کا تہبند بنا لیا اور دوسرا حصہ اوپر اوڑھ لیا ۔  پھر بارگاہِ نبوت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں   حاضر ہوئے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نام دریافت فرمایا ۔ عرض کی :  ’’  عبدالْعُزَّی  ۔  ‘‘ ارشاد فرمایا :   ’’ نہیں   !  بلکہ تمہارا نام عبداللہ ذُوالْبِجَادَیْن ( یعنی دو چادروں   والا )  ہے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ غزوۂ تبوک میں   شہید ہوئے ۔ حضورنبی ٔ رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفسِ نفیس ان کی قبر میں   اُترے اور اپنے رحمت بھرے ہاتھوں   سے انہیں   قبر میں   اُتارا ۔    ( [1] )

حضرت سیِّدُناابولُبَابَہ رِفَاعَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا ابولُبَا بَہ رِفا عَہ اَنصَارِ ی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو حا فظ ابوعبداللہنِیْشَاپُوْرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کے حوالے سے اہلِ صفہ کی طرف منسوب کیا گیاہے ۔  ایک قول یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کا نام بشیربن عبدالمُنْذِر ہے اور قبیلۂ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھتے ہیں   ۔  حضرت سیِّدُنا رِفاعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ غزوۂ بدرمیں   شریک ہوئے اور مالِ غنیمت سے حصہ بھی پایا ۔

جمعہ کی عظمتوں   کابیان :  

 ( 1271 ) … حضرت سیِّدُنا ابولُبَابَہ بن عبدالمُنْذِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار،   شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ بے شک جمعۃ المبارَک کا دِن تمام دِنوں   کا سردارہے اور اللہعَزَّوَجَلَّ کے نزدیک عیدالاضحی وعیدالفطرکے دنوں   سے بھی زیادہ عظمت والاہے ۔ اس دن میں   پانچ خصلتیں   ہیں :  ( ۱ ) اس دن اللہعَزَّوَجَلَّ نے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکوپیدا فرمایا   ( ۲ ) اِسی دن اِنہیں   زمین پر

 

 اُتارا  ( ۳ ) اِسی دن انہیں   وفات دی   ( ۴ ) اِس دن میں   ایک گھڑی ایسی آتی ہے جس میں   بندہ اللہعَزَّوَجَلَّ سے حرام کے سوا جو مانگتا ہے اسے دیا جاتا ہے اور  ( ۵ ) تمام مقرب فرشتے ،  آسمان،   زمین،   پہاڑ،   ہوا اور دریا سب جمعہ کی عظمت سے ڈرتے ہیں   کہ قیامت نہ قائم ہو جائے ۔  ‘‘    ( [2] )

حضرت سیِّدُنا ابورُزَیْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

             حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیثِ پاک کی بناپرحضرت سیِّدُناابورُزَیْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اہلِ صفہ میں  ذکرکیاگیاہے ۔

ذِکراللہ کی فضیلت :  

            رحمتِ عالم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اہلِ صفہ میں   سے ایک شخص جس کی کنیت ابورُزَیْن تھی سے فرمایا :  ’’ اے ابورُزَیْن !  جب تم تنہائی میں   ہو تو اپنی زبان اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے تر رکھو کیونکہ جب تک تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکرمیں   مشغول رہو گے ۔  گویانماز میں   رہو گے،   اگر تم لوگوں   کے سامنے ذکر کرو تو یہ لوگوں   کے درمیان نماز کی طرح ہے اور اگر تم تنہائی میں   ذکر کرو تو یہ تنہائی میں   نماز کی طرح ہے ۔  اے ابو رُزَیْن !  جب لوگ رات کے قیام اور دن کے روزے کی صعوبت  ( یعنی مشقت  ) برداشت کر رہے ہوں  توتم مسلمانوں   کے لئے خیرخواہی ونصیحت کی مشقت برداشت کرو ۔  اے ابورُزَیْن !  جب لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں   جہاد کرنے میں   مصروف ہوں   اورتم چاہوکہ تمہارے لئے بھی ان کی مثل اجروثواب ہو توتم مسجدکولازم پکڑ لواس میں   اذان دو اور اذان پر اجرت مت لو ۔  ‘‘    ( [3] ) ( [4] )

 

سترہزارفرشتوں   کی دعاحاصل کرنے کاعمل :  

 ( 1272 ) … حضرت سیِّدُنا ابورُزَیْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ آقائے دو جہاں  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے فرمایا :  ’’  کیا تمہیں   اس دین کی اصل نہ بتا دوں   جس سے



[1]    موسوعۃ لابن ابی الدنیا ،  کتاب الاولیاء ،  الحدیث : ۷۷ ، ج۲ ، ص۴۰۸ ، مفہومًا۔

[2]    سنن ابن ماجہ ،  ابواب اقامۃ الصلوات ،  باب فی فضل الجمعۃ ،  الحدیث : ۱۰۸۴ ، ص۲۵۴۰۔

[3]    الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ ،  الرقم ۹۸۹۸ابورزین آخر ، ج۷ ، ص۱۱۶۔

                الفردوس بمأثورالخطاب ،  باب الیاء ،  الحدیث : ۸۴۳۷ ، ج۵ ، ص۳۶۰۔

[4]    سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاؔخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں   : ’’اصل یہ ہے کہ طاعت وعبادات پراجرت لینا دینا  ( سوائے تعلیمِ قرآن وعلومِ دین واذان واقامت وغیرہامعدودے چند اشیاء کہ جن پراجارہ کرنا متاخرین نے بناچاری ومجبوری بنظرِ حال زمانہ جائزرکھا ) مطلقاً حرام ہے۔ ‘‘ ( فتاوی رضویہ  ، ج۱۹ ، ص۴۸۶ ) حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ایک حدیث پاک کی شرح میں   فرماتے ہیں   :  ’’اس سے معلوم ہواکہ اذان پراجرت لینا جائزہے مگرنہ لینابہترہے اس لئے حضور ( صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم ) نے یہاں   اجرت کوحرام نہیں   کہا بلکہ فرمایاڈھونڈکرکوئی ، لِلّٰہ ( یعنی : فی سبیل اللہ  )  اذان دینے والارکھو۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں   دینی خدمات پر اجرت لینا اگر ممنوع بھی تھی تو اس وقت کے لحاظ سے تھی اب ممنوع نہیں   ورنہ سارے دینی کام بند ہو جائیں   گے ،  دیکھو سوا عثمان غنی ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کے باقی تمام خلفاء نے خلافت پر اُجرت لی حالانکہ خلافت امامت کبریٰ ہے نیزعمرفاروق ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  نے اپنے زمانہ میں   غازیوں   اورحکام کی تنخواہیں   مقرر کیں   حالانکہ جہادبھی عبادت ہے اور حاکمِ اسلام بننابھی۔‘‘              ( مرآۃ المناجیح  ،  ج۱ ،  ص۴۱۷ )



Total Pages: 273

Go To