Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

حضرت سیِّدُنا خرَیْم بِن فَاتِکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناخُرَیم بن فَاتِک اَسَدِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کواحمدبن سُلَیْمَانْ مَرْوَزِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کے حوالے سے اہلِ صفہ کی طرف منسوب کیا گیاہے ۔

 غیبی آوازنے اسلام کی دعوت دی :  

            حضرت سیِّدُنا خُرَیم بن فَاتِک اَسَدِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بدری صحابی ہیں   ۔ ایک بار انہیں   اَبرق العِرَاق میں   رات ہوگئی وہاں   انہیں   ایک غیبی آوازسنائی دی :  

وَیْحَکَ عُذْ بِاللہ ذِی الْجَلَالِ               وَالْمَجْدِ وَالْبَقَائِ وَالْاَفْضَالِ

وَاقْرَ  ءِ الْاٰیَاتِ مِنَ الْاَنْفَالِ          وَوَحِّدِ اللہ  وَ لَا  تُبَا لِی

                ترجمہ :    ( ۱ ) … تجھ پرافسوس !  اللہعَزَّوَجَلَّ کی  پناہ مانگ جوعظمت وجلالت اوربقا وفضل والا ہے ۔

                                     ( ۲ ) … اورسورۂ اَنفال کی تلاوت کر،   اللہعَزَّوَجَلَّ کوایک مان اوربے فکر ہو جا  ۔

            چنانچہ،  حضرت سیِّدُناخُرَیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ طیبہزَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکی طرف چل دئیے  ۔ وہاں  پہنچے تو اس وقت حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کومنبرپر خطبہ ارشادفرما تے ہوئے سنا ۔  پس آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلام قبول کرلیااورآپ کا شمار بدری صحابہ میں   ہوتاہے ۔   ( [1] )

 

پائنچے ٹخنوں   سے نیچے لٹکاناممنوع ہے :  

 ( 1267 ) … حضرت سیِّدُناخُرَیم بن فَاتِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ایک مرتبہ سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ ،   با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میری طرف دیکھااورارشاد فرمایا :   ’’ تم کتنے اچھے ہو اگر تم میں   دو خصلتیں   نہ ہوتیں    ؟  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  وہ دو خصلتیں   کون سی ہیں   ۔  نقصان پہنچانے کوتوایک خصلت بھی کافی ہے پھر وہ دو کون سی ہیں   ؟  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ تہبند لٹکانااور بال بڑھانا ( [2] ) ۔  ‘‘  راوی کہتے ہیں : ’’ حضرت سیِّدُناخُرَیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فوراً اپنا تہبند اوپر کر لیا اور بال بھی چھوٹے کروا دیئے ۔  ‘‘    ( [3] )

حضرت سیِّدُنا خرَیْم بن اَوْسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناخُرَیم بن اَوْس طَائی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوابوالحَسَن علی بن عمردَار قُطْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی کے حوالے سے اہلِ صفہ کی طرف منسوب کیاگیاہے اورآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا شمار مہاجرین میں   ہوتا ہے ۔

 نگاہِ مصطفی کاکمال اور صحابی کی سادگی :  

            آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ وہ صحابی ہیں   کہ جب حضورنبی ٔ اکرم،  نُورِمُجَسَّم،  شاہ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں   بتایا کہ ’’ میرے لئے ’’  حِیْرَہ ‘‘ کے درمیان جتنے حجابات تھے سب اُٹھا دئیے گئے تومیں   نے شَیْمَاء بنت

 

 بُقَیْلَہکوسیاہ چادر اوڑھے ایک طاقتور خچرپرسوار دیکھا ۔  ‘‘  تو حضرت سیِّدُناخُرَیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  اگرہم نے ’’ حِیْرَہ ‘‘ کوفتح کرلیا اور شَیْمَاء کو اسی حالت میں   پایا توکیا میں   اسے لے لوں   ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’ ہاں   وہ تجھے ملے گی ۔  ‘‘  پھر ( خلافت صدیقی کے زمانہ میں    )  حضرت سیِّدُناخُرَیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا خالد بن ولیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ لشکر میں   مل گئے ۔  مجاہدین نے مُسَیْلِمَہ کَذَّاب کوواصلِ جہنم کیا،  پھر ’’ اَلْطَف ‘‘ کا رُخ کیایہاں  تک کہ ’’ حِیْرَہ ‘‘  میں   داخل ہو گئے ۔  تو سب سے پہلے انہیں   شَیْمَاء بنت بُقَیْلَہ طاقتور خچر پر اسی طرح سوارملی جس طرح حضورنبی ٔ غیب داں  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بیان فرمایا تھا ۔  چنانچہ،   اسے دیکھتے ہی حضرت سیِّدُنا خُرَیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس کی طرف لپک گئے اور اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرنے لگے ۔  حضرت سیِّدُنا محمد بن مَسْلَمَہ و حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اس بات کی گواہی دی تو امیرِ لشکر حضرت سیِّدُنا خالدبن وَلید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے شَیْمَاء ان کے حوالے کر دی ۔  پھر شَیْمَاء کا بھائی عَبْدُالْمَسِیْح ان کے پاس آیا اور حضرت سیِّدُنا خُرَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے کہنے لگا :   ’’ شَیْمَاء مجھے بیچ دو ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناخُرَیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  ایک ہزار سے کم نہیں   لوں   گا ۔  ‘‘ عَبْدُالْمَسِیْح نے ایک ہزار دئیے اور کہا اگر آپ اس کے ایک لاکھ مانگتے تو میں   ایک لاکھ



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۴۱۶۵ ، ج۴ ، ص۲۱۰ ، بتغیرٍ۔

[2]    تہبند یاپاجامے وغیرہ کوٹخنے سے نیچے لٹکانے سے متعلق حاشیہ اسی کتاب کے صفحہ531پر ملاحظہ کیجئے۔اوررہا لمبے بال رکھناتواس کے متعلق صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ ،  مفتی محمدامجدعلی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں   : ’’مردکویہ جائزنہیں   کہ عورتوں   کی طرح بال بڑھائے  ، بعض صوفی بننے والے لمبی لمبی لٹیں   بڑھالیتے ہیں   جواُن کے سینہ پر سانپ کی طرح لہراتی ہیں   اور بعض چوٹیاں  گوندتے ہیں   یاجوڑے بنالیتے ہیں   یہ سب ناجائزکام اور خلافِ شرع ہیں  ۔‘‘  ( بہارشریعت ،  حصہ۱۶ص۲۳۰ )

                اورمجد د اعظم سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت حضرت علامہ مولانا احمد رضا ؔخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن لمبے بالوں   کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں   ارشاد فرماتے ہیں    :  ’’ ( بال )  نصف کان سے کندھوں   تک بڑھانا شرعاً جائز ہے اور اس سے زیادہ بڑھانا مرد کوحرام ہے۔‘‘  ( فتاوٰی رِضویّہ ، ج۲۲ ، ص۶۰۵ )

[3]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث خریم بن فاتک ،  الحدیث : ۱۸۹۲۱ ، ج۶ ، ص۴۸۴۔

                المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۴۱۵۶ / ۴۱۵۹ ، ج۴ ، ص۲۰۷۔



Total Pages: 273

Go To