Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

حضرت سیِّدُ نااَبواَیُّوْب خَالِد بِن زَیْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا ابو اَیوب خالدبن زَید اَنصَارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کومحمدبن جَرِیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَدِیْرکے حوالے سے صفہ والوں  میں   ذکرکیا ہے ۔ حضرت سیِّدُناابواَیوب اَنصارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اُس مشہور گھر کے مالک تھے کہ جس میں  حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجَسَّم،   شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممکۂ مکرمہ زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاپہنچنے پر قیام پذیر ہوئے تھے ۔  یہاں   تک کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسجد اور حجرہ بنایا اور وہ گھر آج بھی مدینہ طیبہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں   موجود ہے ۔  حضرت سیِّدُنا ابواَیوب اَنصارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوصفہ میں   قیام کی حاجت نہ تھی ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا شمار اہلِ عقبہ میں   ہوتا ہے نہ کہ اہلِ صفہ میں   ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہقُسْطَنْطِیْنِیَّہمیں   فوت ہوئے اوراس کی فصیل ( یعنی دیوار )  کے پاس دفن کئے گئے  ۔

 ( 1263 ) … حضرت سیِّدُنااِمام زُہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ بیعتِ عقبہ میں   شریک ہونے والوں   میں   سے ایک حضرت سیِّدُناابواَیوب اَنصارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی ہیں    ۔  ‘‘    ( [1] )

متقی وغیرِمتقی کی عبادت میں   فرق :  

 ( 1264 ) … حضرت سیِّدُنااَبواَیوب اَنصَارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔکریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :   ’’ بے شک دو آدمی مسجدکوجاتے اورنمازپڑھتے ہیں   ۔  پھران میں   سے ایک واپس لوٹتا ہے تو اس کی نمازاُحُدپہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوتی ہے جبکہ دوسرالوٹتا ہے تواس کی نماز ایک ذرہ کے برابربھی نہیں   ہوتی ۔   ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابوحُمَیْدسَاعِدِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’ یارسولا للّٰہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  یہ کیونکر ہوتا ہے ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’ جب وہ آدمی دوسرے سے زیادہ عمدہ عقل والا ہو ۔  ‘‘  انہوں   نے پھر عرض

 

کی :  ’’ یہ کیونکر ہوتا ہے ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’ جب وہ اللہعَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء سے زیادہ بچتااورنیکی کی طرف سبقت لے جانے میں   زیادہ حرص رکھتاہو اگرچہ نفلی عبادات میں   دوسرے سے کمتر ہو ۔  ‘‘    ( [2] )

مختصراورجامع نصیحت :  

 ( 1265 ) … حضرت سیِّدُناابواَیوب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص دربارِ رسالتعَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضر ہو کر مختصر نصیحت کا طلبگار ہوا تو سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار،   شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ جب تم نمازکے لئے کھڑے ہو تو اسے آخری نمازسمجھ کرپڑھو اور ایسی بات نہ کہو جس سے تمہیں   معذرت کرنی پڑے اور لوگوں   کے مال سے بالکل مایوس ہوجاؤ ۔  ‘‘    ( [3] )

70 ہزار کا بلاحساب جنت میں   داخلہ :  

 ( 1266 ) … حضرت سیِّدُناابواَیوب اَنصَارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  کہ حضورنبی ٔ کریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے اوراِرشاد فرمایا :   ’’ بے شک میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھے دو باتوں   میں   اختیار دیا کہ70ہزار آدمی بغیر حساب وکتاب کے جنت میں   داخل ہو جائیں   یا اللہعَزَّوَجَلَّ اپنے پاس سے لپ بھر ( [4] )جنت میں   داخل فرمادے ۔  ‘‘  ایک شخص نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا اللہعَزَّوَجَلَّ آپ کے لئے لپ بھرے گا ؟  ‘‘  توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماندر تشریف لے گئے پھرتکبیر ( یعنی اللہ اَکْبَر ) کہتے ہوئے باہرصحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکے پاس تشریف لائے اورارشاد فرمایا :  ’’ بے شک میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے میرے لئے اِضافہ فرما دیا ہے کہ ’’  ہر ہزار کے ساتھ 70ہزار اور ہوں   گے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  لپ بھر جنت میں   بھی داخل فرمائے گا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناابو رَہم  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دریافت کیا :  ’’ اے ابوایوب !  اللہعَزَّوَجَلَّ کی لپ کے بارے میں   آپ کا کیا خیال ہے اسے تو لوگ اپنے مونہوں   سے کھا لیں   گے ؟  ‘‘   فرمایا :   ’’ اس

 

میں   نہ پڑومَیں   تمہیں  حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی لپ کے بارے میں   بتاتا ہوں   جیسا کہ مجھے گمان بلکہ یقین ہے ۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی لپ یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  ’’ جو اس بات کی گواہی دے کہ ’’  ( اے اللہعَزَّوَجَلَّ  !  ) تیرے سوا کوئی معبود نہیں   تُویکتاہے تیرا کوئی شریک نہیں   اور محمد  ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )  تیرے بندے ورسول ہیں    ۔  ‘‘ پھراس کا دل اس کی زبان کی تصدیق بھی کرے تواس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔  ‘‘    ( [5] )

 



[1]    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،  اَسْمَاء من شَہِدَالعُقْبَۃَ ،  ص۱۸۱ ، ان ابن اسحاق۔

[2]    مسندالحارث ،  کتاب الادب ،  باب ماجاء فی العقل ،  الحدیث : ۸۲۱ ، ج۲ ، ص۸۰۵۔

[3]    سنن ابن ماجۃ ،  ابواب الزھد ،  باب الحکمۃ ،  الحدیث : ۴۱۷۱ ، ص۲۷۳۰۔

[4]    لپ سے مراد ہے بے اندازہ کیونکہ جب کسی کو بغیر گنے بغیر تولے ناپے دینا ہوتا ہے تو وہاں   لپ بھر بھر کر دیتے ہیں   یا کہو کہ یہ حدیث متشابہات میں   سے ہے ورنہ رب تعالیٰ مٹھی اور لپ سے پاک ہے۔‘‘ ( مراۃ المناجیح ، ج۷ ، ص۳۹۳ )

[5]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۸۸۲ ، ج۴ ، ص۱۲۷۔

                المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث ابی ایوب الانصاری ،  الحدیث : ۲۳۵۶۴ ، ج۹ ، ص۱۳۲۔



Total Pages: 273

Go To