Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 1259 ) … حضرت سیِّدُناقَیس بن اَبی حازِم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں   کہ ہم حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی عیادت کی غرض سے ان کے پاس گئے ۔  اس وقت انہیں  سات جگہ سے داغا گیا تھا ۔  توانہوں   نے فرمایا :   ’’ ہمارے دوست دنیا سے چلے گئے اور دنیانے ان کوکوئی نقصان نہیں   پہنچایاجبکہ ہمارے ہاتھ اِتنا مال آیا جس کامصرف ہم نے مٹی ہی کوپایا ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناقَیس بن حازِم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ کچھ عرصہ بعدہم پھران کی عیادت کے لئے گئے توانہیں   دِیوار تعمیر کرنے میں   مصروف پایا ۔ اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ مومن کو ہر خرچ میں   ثواب ملتا ہے سوائے مٹی میں   خرچ کرنے  ( یعنی بلاضرورت عمارت بنانے )  کے اور اگرحضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں   موت کی دُعا کرنے سے منع نہ فرماتے تومیں   ضرور مرنے کی دعا کرتا ۔  ‘‘    ( [1] )

 

 اُمت کے حق میں   تین دُعائیں :

 ( 1260 ) …  حضرت سیِّدُناخَبَّاب بن اَ لْاَرَت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں  کہ میں  نے ایک رات حضور نبی ٔ مکرم ،   شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات ستودہ صفات کوبڑے غورسے دیکھاکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نمازاداکرنے لگے یہاں  تک کہ جب صبح طلوع ہوئی تومیں   نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! آج رات میں   نے آپ کوایسی نماز پڑھتے دیکھاکہ اس طرح نمازپڑھتے پہلے کبھی نہیں   دیکھا  ۔  ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’ ہاں   ! یہ شوق وخوف کی نماز تھی ۔ میں   نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّسے تین چیزوں   کا سوال کیا تو اس نے مجھے دو چیزیں    عطا فرما دیں   اور ایک سے روک دیا ۔ میں   نے اللہعَزَّوَجَلَّ سے سوال کیا کہ وہ ہمیں   دوسری امتوں   کی طرح عذاب میں   مبتلا کر کے ہلاک نہ کرے تو اللہعَزَّوَجَلَّ نے میری یہ دعا قبول فرمالی ۔  پھرمیں   نے سوال کیا کہ ہم پر دشمن کو مسلط نہ فرمائے جوہمیں   ہلاک کردے تویہ سوال بھی اللہعَزَّوَجَلَّ نے پورا کر دیااورتیسرا سوال میں   نے یہ کیا کہ میری اُمت گروہوں   میں   نہ بٹے تو پروَرْدْگار عَزَّوَجَلَّنے مجھے یہ سوال کرنے سے روک دیا ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 1261 ) … حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن جَعْدَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ کچھ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے ۔ پس  انہوں    نے کہا:  ’’ اے ابوعبداللہ !  آپ کو بشارت ہو کہ آپ حوضِ کوثر پرحضورنبی ٔ پاک  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر ہوں   گے ۔  ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ایسا کیونکر ہو سکے گاجبکہ یہ سب سے نچلاگھرہے اوروہ سب سے اونچا مقام اور حضور رحمت ِعالم،  نُورِمُجَسَّم،   شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں   ارشادفرمایاتھاکہ ’’ تمہیں   دنیاوی مال اتنا ہی کافی ہے جتنامسافر کا زادِراہ ہوتا ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

 

٭٭٭٭٭٭

 

حضرت سیِّدُناخُنَیْس بِن حُذَافَہ سَہْمِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناخُنَیْس بن حُذَافَہ سہمیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوحافظ ابوطالب اورمحمدبن اِسحاق بن یَسَاررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکے حوالے سے اہلِ صفہ میں   شمارکیاگیاہے ۔

            حضرت سیِّدُنا خُنَیْسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمہاجرین اولین میں   سے ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی اہلیہ حضرت سیِّدَتُناحَفْصَہ بنت عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ۔  حضرت سیِّدُنا خُنَیْسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ غزوہ بدرمیں   شریک ہوئے اوائلِ اِسلام میں   مدینہ طیبہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں   وفات پائی  ۔ ان کی وفات کے بعد   رسول اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدَتُنا حَفْصَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا  کو اپنی زوجیت کاشرف بخشا ۔

 ( 1262 ) … امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب ان کی بیٹی حضرت سیِّدتُناحَفْصَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا بیوہ ہوگئیں   ۔ ان کے شوہر حضرت خُنَیْس بن حُذَافَہ سَہْمِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے جوبدری صحابہ رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنمیں   سے ہیں   ،   مدینۂ منورہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں   انتقال فرماگئے تومیری ملاقات حضرت سیِّدُناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے ہوئی میں   نے ان سے کہا :   ’’  اگر آپ چاہیں   تومیں   اپنی بیٹی حفصہ کا نکاح آپ سے کر دیتا ہوں   ۔  ‘‘  لیکن اُنہوں   نے کوئی جواب نہ دیا ۔

            فرماتے ہیں : میں   کچھ دن انتظار کرتا رہا پھر حضورنبی ٔ پاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حفصہ کے نکاح کا پیغام بھیجا تو میں   نے ان کا نکاح آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کر دیا ۔  اس کے بعدامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مجھ سے ملے توفرمایا :   ’’ شایدآپ کو یہ بات ناگوار گزری ہو گی کہ جب آپ نے مجھ سے اپنی بیٹی حَفْصَہ کے نکاح کی خواہش کی تومیں   نے کوئی جواب نہ دیا ؟  ‘‘  میں   نے کہا :  ’’ جی ہاں   ۔  ‘‘  توامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے نکاح کی پیشکش کی تھی تو میرے جواب نہ دینے کی وجہ صرف یہ تھی کہ میں   نے پیارے مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حَفْصَہ کا ذکر کرتے سنا تھا اور میں   یہ راز ظاہر نہیں   کر سکتا تھا اور اگر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 

حَفْصَہ سے نکاح نہ فرماتے تو میں   خود ان سے نکاح کر لیتا ۔  ‘‘     ( [4] )

 



[1]    صحیح البخاری ،  کتاب المرضی ،  باب تمنی المریض الموت ،  الحدیث : ۵۶۷۲ ، ص۴۸۶۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۶۲۱ ، ج۴ ، ص۵۷۔

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  باب ما ذکر عن نبینافی الزھد ،  الحدیث : ۸ ، ج۸ ، ص۱۲۵۔

[4]    سنن النسائی ،  کتاب النکاح ،  باب عرض الرجل ابنتہ علی من یرضی ،  الحدیث : ۳۲۵۰ ، ص۲۲۹۸۔



Total Pages: 273

Go To