Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

[1] )

کامل حیا :  

 ( 1253 ) …  حضرت سیِّدُناحَکَم بن عُمَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّسے پوری حیاکرو،   سر اور اس میں   محفوظ چیزوں  ،   پیٹ اور اس کے اندرکی چیزوں   کی حفاظت کرو،  موت اور گل جانے کو یاد رکھو،   جو ایسا کرے گا اس کی جزا جنت الماویٰ ہے ( [2] ) ۔  ‘‘   ( [3] )

حضرت سیِّدُناحَرْمَلَہ بِن اِیَاسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناحَرْمَلَہ بن اِیَاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبھی حُذَ یْفَہ بن خَیَّاط کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   شمارکیاگیا ہے  ۔ بعض نے کہا :  ’’ آپ کا نام حَرْمَلَہ بن عبداللہعَنْبَرِی ہے ۔  ‘‘

 ( 1254 ) … حضرت سیِّدُناحَرْمَلَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ میں   اپنے قبیلہ کے ہمراہ بارگاہِ رِسالت میں   حاضرہوا،  جب میں   واپس ہونے لگا تومیں   نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  مجھے نصیحت ارشادفرمائیے ۔  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :   ’’ اے حَرْمَلَہ !  اللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور جب تم

 

کسی مجلس میں   بیٹھو پھر وہاں   سے اُٹھو تواہلِ مجلس کی جو باتیں   تمہیں   بھلی لگیں   ان پر عمل کرو اور جو بُری لگیں   ان پر عمل کرنے سے گریز کرو ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 1255 ) …  حضرت سیِّدُناحَرْمَلَہ بن اِیَاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   بارگاہِ نبویعَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضر ہوا تو وہیں   ٹھہرا رہا یہاں   تک کہ میں   نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعوتِ حق کو سمجھ لیا ۔ پھر جب دربارِ نور بار سے واپس ہونے لگا تو خدمتِ سراپا اَقدس میں   حاضر ہو کر عرض گزار ہوا :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اب میرے لئے کیا حکم ہے ؟  ‘‘  ارشادفرمایا :  ’’ اے حَرْمَلَہ ! بھلائی  بجا لاؤ اور برائی کے داغ سے اپنے دامن کو بچاؤ ۔  ‘‘  فرماتے ہیں :  ’’ پھر میں   وہاں   سے رخصت ہوا تو کچھ دیر بعد خیال آیا کہ دربارِ رِسالت میں   حاضر ہو کر مزید نصیحت کی اِلتجا کروں   ۔  ‘‘ چنانچہ،   میں   دوبارہ نصیحت کا ملتجی ہوا توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  اے حَرْمَلَہ !  برائی سے بچو ۔  نیکی پر گامزن رہو اور لوگوں   کی جن باتوں   کا سننا تمہیں   خوشگوار معلوم ہو ان سے جدا ہو کر ان پر عمل کرو اور جن باتوں   کا سننا تمہیں   ناگوار لگے ان سے جدا ہو کر ان پر عمل نہ کرو ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُنا اَحمد بن اِسحاق حَضْرَمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کی روایت میں   اتنا زائدہے کہ ’’  جب میں   وہاں   سے نکلاتوسمجھاکہ ان دو باتوں   یعنی نیکی کرنے اوربرائی سے بازرہنے میں   تمام اُمور شامل ہیں   ۔  ‘‘   ( [5] )

حضرت سیِّدُناخَبَّاب بِن اَلْاَرَت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا خَبَّاب بن اَ لْاَرَ ت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوحضرت سیِّدُناکُرْدُوس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے اہلِ صفہ میں  ذکرکیا گیا ہے ۔  ورنہ آپ مہاجرین کے طبقۂ سابقین اولین میں   سے ہیں   ۔  ہم پہلے ان کے احوال بیان کرچکے ہیں   کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو راہِ خدامیں   بہت ستایا گیا ۔  غزوۂ بدرودیگرغزوات میں   شریک ہوئے ۔

 ( 1256 ) …  حضرت سیِّدُنا طارِق بن شِہَابعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّابسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا خَبَّاب

 

بن اَ لْاَرَت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا شمار مہاجرین صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں   ہوتا ہے ۔  نیز آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اسلام کے ان جاں   نثاروں   میں   سے ہیں   جنہیں   راہِ خدا میں   بہت ستایاگیا ۔  ‘‘   ( [6] )

 ( 1257 ) … حضرت سیِّدُنامحمدبن فُضَیْل اپنے والدسے روایت کرتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُناکُرْدُوس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کوفرماتے سناکہ ’’  حضرت سیِّدُنا خَبَّاب بن اَ لْاَرَت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ چھٹے نمبر پر اسلام لائے  ۔  یوں   انہیں   اسلام سے چھٹاحصہ ملا ۔  ‘‘   ( [7] )

 ( 1258 ) … حضرت سیِّدُناابولیلیٰ کِنْدِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :  حضرت سیِّدُنا خَبَّاب بن اَ لْاَرَت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوئے توامیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے فرمایا :  ’’  قریب ہو جائیے !  میں   آپ کے سوا اس مجلس کا زیادہ حقدار کسی کو نہیں   سمجھتا ۔  ‘‘  پھر حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی پیٹھ پران زخموں   کے نشانات دکھانے لگے جو مشرکین کی تکالیف سے پہنچے تھے ۔  ‘‘    ( [8] )

 



[1]    فردوس الاخبارللدیلمی ،  باب الکاف ،  الحدیث : ۴۷۴۴ / ۴۸۹۷ ، ج۲ ، ص۱۶۶ / ۱۷۹۔

[2]    یعنی صرف ظاہری نیکیاں   کرلینااورزبان سے حیاکااقرارکرناپوری حیانہیں   بلکہ ظاہری اور باطنی اعضاء کوگناہوں   سے بچانا حیا ہے ،  چنانچہ ،   سر کو غیرِ خدا کے سجدے سے بچائے ، اندرونِ دماغ کو ریااورتکبرسے بچائے ،  زبان آنکھ اورکان کوناجائزبولنے دیکھنے سننے سے بچائے ، یہ سرکی حفاظت ہوئی  ، پیٹ کوحرام کاموں   سے  ، شرمگاہ کوزناسے ، دل کوبری خواہشوں   سے محفوظ رکھے ، یہ پیٹ کی حفاظت ہے ، حق یہ ہے کہ یہ نعمتیں   رب کی عطااورجناب مصطفی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم  کی سخاسے نصیب ہو سکتی ہیں  ۔    ( مرآۃ المناجیح ، ج۲ ، ص۴۴۰ )

[3]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۱۹۲ ، ج۳ ، ص۲۱۹۔

[4]    مسندابی داودالطیالسی ،  حرملۃ العنبری ،  الحدیث : ۱۲۰۷ ، ص۱۶۷۔

[5]    الادب المفردللبخاری ،  باب اہل المعروف فی الدنیااہل المعروف فی الآخرۃ ،  الحدیث : ۲۲۲ ، ص۷۸ ، بتغیرٍ۔

[6]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب المغازی ،  باب اسلام ابی بکر ،  الحدیث : ۸ ، ج۸ ، ص۴۴۸۔

Total Pages: 273

Go To