Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

جنت کاخزانہ :  

 ( 1249 ) …  حضرت سیِّدُناحَازِم بن حَرْمَلَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ایک مرتبہ میں   حضور نبی ٔکریمصَلَّی

 

 اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس سے گزرا توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے بلایا ۔  میں   خدمتِ اَقدس میں   حاضر ہوا تو ارشاد فرمایا :  ’’  اے حَازِم  !  لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمکثرت کے ساتھ پڑھا کرو کیونکہ یہ جنت کے خزانوں   میں   سے ایک خزانہ ہے ۔  ‘‘   ( [1] )

حضرت سیِّدُناحَنْظَلَہ بِن اَبِی عَامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناحَنْظَلَہ بن اَبی عَامِررَاہب اَنصارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ محمدبن مُثَنَّی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکے حوالے سے اہلِ صفہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اورآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ’’  غَسِیْلُ الْمَلَا ئِکَہ ‘‘   ( یعنی جنہیں   فرشتوں   نے غسل دیا )  کے لقب سے بھی یادکئے جاتے ہیں   ۔

 ’’  غَسِیْلُ الْمَلَا ئِکَہ ‘‘ کہنے کی وجہ :  

 ( 1250 ) … حضرت سیِّدُنامحمودبن لَبِیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْدسے مروی ہے کہ جنگ اُحدمیں   قبیلۂ بنی عمروبن عوف کے حضرت سیِّدُناحَنْظَلَہ بن اَبی عامررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اورابوسُفیان کاآمناسامناہوا ( اس وقت ابوسُفیان ایمان نہیں   لائے تھے ) اور شَدَّاد بن اَسود نے جسے ’’ ابن شَعُوب ‘‘  کہا جاتا ہے حضرت سیِّدُنا حَنْظَلَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ابوسُفیان پر غالب آتے دیکھاتوانہیں   شہیدکردیا ۔ جنگ ختم ہوئی توحضورنبی ٔ رحمت،  شفیعِ امتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :   ’’  تمہارے رفیق یعنی حَنْظَلَہ کوفرشتے غسل دے رہے ہیں   ۔ ذراا ن کے گھر والوں   سے ان کے متعلق دریافت تو کرو ۔  ‘‘ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی اہلیہ سے پوچھاگیاتواُنہوں   نے بتایاکہ ’’  یہ حالتِ جنابت میں   تھے کہ اعلانِ جہاد سنتے ہی اُٹھ کر چل دئیے  ۔  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ اسی وجہ سے فرشتوں   نے انہیں   غسل دیا ہے ۔  ‘‘   ( [2] )

 

حضرت سیِّدُناحَجَّاج بِن عَمْرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناحَجَّاج بن عمرواَسْلَمِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوحافظ ابوعبداللہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   ذکرکیاگیاہے لیکن یہ وہم ہے کیونکہ حضرت سیِّدُنا حَجَّاج اَسْلَمِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ درحقیقت ابوحَجَّاج ،  حَجَّاج بن مالِک بن حَجَّاج ہیں   اورحَجَّاج بن عمرو مازِنی اَنْصَارِی ہیں   اورانہیں   کسی نے بھی اہلِ صفہ میں   شمارنہیں   کیا ۔  ان کی سندسے ایک یہ روایت ملتی ہے ۔ چنانچہ، 

 ( 1251 ) … حضرت سیِّدُناحَجَّاج بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ میں   نے حضورنبی ٔاکرم،  نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشادفرماتے ہوئے سنا :  ’’ جس شخص کا پاؤں   ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہوجائے تو وہ احرام کھول دے اوراس پردوسرا حج واجب ہے ( [3] ) ۔  ‘‘   ( [4] )

حضرت سیِّدُناحَکَم بِن عُمَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا حَکَم بن عُمَیْرثُمَالی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاشماربھی اہلِ صفہ میں   ہوتاہے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا تعلق ملکِ شام سے ہے ۔  

دین میں   ناقص کون ؟

 ( 1252 ) … صحابی ٔرسول حضرت سیِّدُنا حَکَم بن عُمَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  کہ سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ ،   باعثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ دنیا میں   مہمان بن کر رہو اورمساجد کو اپنے گھر بناؤ اور

 

 اپنے دلوں   کو رقت کی عادت ڈالواورفکرِ آخرت اور رونے کی کثرت کرواوراپنی خواہشات کے پیچھے نہ پڑو ۔  تم ایسی عمارتیں   بناتے ہو جن میں   تمہیں   رہنا نہیں   ۔  اتنا مال اکٹھا کرتے ہو جتنا تم نے کھانانہیں    اور ایسی امید باندھتے ہو جنہیں   تم نے پانانہیں   ۔  ‘‘  مزید ارشاد فرمایا :   ’’ آدمی کے دین کے  ناقص ہونے کے لئے اتناہی کافی ہے کہ اس کی خطائیں   زیادہ اورحلم کم ہواوروہ ایسی بات کہے جس کی حقیقت کم ہو،   راتیں   مرداروں   کی طرح گزریں   تودن بے کاروں   کی طرح بسر ہوں  ،   بہت سست ،  لالچی ،   کنجوس اور آسودہ زندگی گزارنے کی فکرمیں   گرفتارہو ۔  ‘‘   (



[1]    سنن ابن ماجہ ،  ابواب الادب ،  باب ما جاء فی ( لاحول ولاقوۃ الا باللہ )  ،  الحدیث : ۳۸۲۶ ، ص۲۷۰۴۔

[2]    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،  غزوۃ اُحد ،  شان عاصم بن ثابت ، ص۳۲۹۔

                المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب ذکرشہادۃحنظلۃالخ ،  الحدیث : ۴۹۷۰ ، ج۴ ، ص۲۱۲۔

[3]    یعنی جس نے احرامِ حج باندھ لیاہو ، پھراس کے پاؤں   کی ہڈی ٹوٹ جائے یاہڈی تونہ ٹوٹے ،  لنگ پیداہوجائے جس سے وہ آگے سفر اور ارکانِ حج ادانہ کرسکے تووہ اپنااحرام کھول دے اوروہاں   سے لوٹ جائے یاٹھہرجائے ، ہدی مکہ معظمہ بھیج دے ، اورتاریخِ ذبح پراحرام کھول دے ،  سالِ آئندہ قضاء کرے۔اس سے دومسئلے ثابت ہوئے ایک یہ کہ احصارصرف دشمن ہی سے نہیں   ہوتابلکہ بیماری وغیرہ سے بھی ہوجاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ نفلی عبادت شروع کردینے سے فرض ہوجاتی ہے ،  اگرپوری نہ ہوسکے تواُس کی قضاء لازم ہے ، کیونکہ یہاں   حج مطلق فرمایا گیا ، فرضی ہویانفلی۔ ( مرآۃ المناجیح ، ج۴ ، ص۱۹۹ ) مدنی مشورہ : احصارکے تفصیلی احکام جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صفحات پرمشتمل کتاب ’’بہارشریعت ‘‘جلداول ،  ص1194تا 1198کامطالعہ فرمائیے!   علمیہ

[4]    سنن ابن ماجہ ،  ابواب المناسک ،  باب المُحْصِر ،  الحدیث : ۳۰۷۷ ، ص۲۶۶۴۔



Total Pages: 273

Go To