Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

میرے کیسے جانشین رہے ہو ۔ سب سے زیادہ بھاری چیزکتاب اللہہے ۔  اس کی رسی کا ایک کنارہ خدائے اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن جَلَّ جَلَا لُہٗ کے دستِ قدرت میں   اوردوسرا تمہارے ہاتھوں   میں   ہے ۔  لہٰذاکتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھواور گمراہ نہ ہونا اور نہ ہی اسے بدلنا ۔  اور دوسری چیز میری عترت یعنی اَہل بیت ہیں   ۔  بے شک مجھے مہربان و خبردار پَرْوَرْدْگار عَزَّوَجَلَّنے خبر دی ہے کہ یہ دونوں   اس وقت تک ہرگز جدا نہیں   ہوں   گے جب تک میرے حوض پر نہ آئیں   گے ۔  ‘‘   ( [1] )

حضرت سیِّدُناحَبِیْب بِن زَیْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناحَبِیْب بن زَیْد اَنصارِی اَزْدِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ قبیلۂ بنی نَجَّارکے ایک فردہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاشمار بھی اہلِ صفہ میں   کیاگیاہے اوریہ اِشْتِبَاہ کی وجہ سے ہے کیونکہ دَرحقیقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاشمار اہلِ عقبہ میں   ہوتا ہے ۔

 

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی اِستقامت وشہادت :  

             حضرت سیِّدُناحَبِیْب بن زَیْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کومُسَیْلِمَہ کَذَّاب نے قیدکرلیا اور کہنے لگا :  ’’ کیاتم گواہی دیتے ہوکہمُحَمَّد،    اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں   ؟  ‘‘ حضرت سیِّدُنا حبیب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب دیا :  ’’ ہاں   ! میں   اس بات کی گواہی دیتا ہوں   ۔  ‘‘  پھر اس نے کہاکہ ’’  کیا تم اس بات کی گواہی نہیں   دیتے ہوکہ مَیں   اللہاعَزَّوَجَلَّ کا رسول ہوں   ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ ہرگز نہیں   !  ‘‘   مُسَیْلِمَہ کَذَّاب نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کر دیا ۔

 آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی وَالدہ کاذکرِخیر :  

            حضرت سیِّدُناحَبِیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی والدۂ ماجدہ حضرت سیِّدَتُنا نُسَیْبَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاہیں   ۔ ان کا شمار بھی اہل عقبہ میں   ہوتاہے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاامیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے عہدِخلافت میں   مسلمانوں   کے ساتھ مُسَیْلِمَہ کَذَّاب کے خلاف جہادمیں   شریک ہوئیں   ۔ جس میں   وہ بدبخت واصلِ جہنم ہوااورآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَامدینہ طیبہ زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًااس حالت میں   واپس آئیں   کہ جسم اقدس پر نیزوں   اور تلواروں   کے بے شمار زخم تھے ۔  ‘‘   ( [2] )

 حضرت سیِّدُناحَارِثہ بِن نُعْمَانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناحارِثَہ بن نُعْمَان اَنصارِی نَجَّارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوحضرت سیِّدُنا ابو عبدالرحمن نَسَائی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   ذکرکیا گیا ہے حالانکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اہلِ بدر میں   سے ہیں   ۔  نیز آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاشمار ان 80جاں   نثارصحابہ میں  ہوتاہے جنہوں   نے جنگِ حُنَین میں   ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور میدانِ کار زارسے راہِ فرار اختیار نہیں   کی ۔ آخری عمر میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بینائی جاتی رہی تھی ۔

ماں   سے حسنِ سلوک کاصلہ :  

  ( 1247 ) … اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال،   پیکرِ حُسن وجمال،   دافِعِ رنج و مَلالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشادفرمایا :  ایک رات میں   سویا تومیں   نے اپنے آپ کو

 

 جنت میں   پایا ۔  میں   نے ایک قاری کی آوازسنی توپوچھا: ’’ یہ کون ہے  ؟  ‘‘  فرشتوں   نے کہا :   ’’ یہ حارِثَہ بن نُعْمَان ہیں   ۔  ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ بھلائی واحسان ہی کاصلہ ہے ۔ یہ بھلائی واحسان ہی کاصلہ ہے  ۔  ‘‘  راوی فرماتے ہیں  : ’’ حضر ت سیِّدُنا حارِثَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سب لوگوں   سے زیادہ اپنی والدہ کے ساتھ بھلائی وحسن سلوک سے پیش آتے تھے ۔  ‘‘   ( [3] )

صدقہ بُری مَوت سے بچاتاہے :  

 ( 1248 ) … حضرت سیِّدُنامحمدبن عُثْمَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے والدسے روایت کرتے ہیں   کہ بینائی چلی جانے کے بعد حضرت سیِّدُناحارِثَہ بن نُعْمَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حجرے کے دروازے سے اپنی نمازکی جگہ تک ایک رسی باندھ رکھی تھی اوراپنے پاس کھجوروں   سے بھری ایک ٹوکری رکھ لیتے تھے ۔ جب کوئی سائل آتااورسلام کرتاتوآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ٹوکری سے کچھ کھجوریں   لیتے پھررسی کے ذریعے سائل کے پاس آتے اوراسے کھجوریں   عطا فرماتے ۔   آپ کے گھروالے عرض کرتے کہ ہم اس کام میں   آپ کو کفایت کریں   گے لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے کہ میں   نے حضورنبی ٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’ مسکین کوکوئی چیز دینا  ( یعنی صدقہ کرنا ) بری موت سے بچاتا ہے ۔  ‘‘   ( [4] )

حضرت سیِّدُناحَازِم بِن حَرْمَلَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناحَازِم بن حَرْمَلَہ اَسلمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوحضرت سیِّدُناحَسَن بن سُفْیَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکے حوالے سے اصحابِ صفہ کی طرف منسوب کیا گیاہے ۔

 



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۰۵۲ / ۲۶۷۸ ، ج۳ ، ص۱۸۰ / ۶۵۔

[2]    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،  شروط البیعۃ فی العقبۃ الاخیرۃ ،  اسماء من شہدالعقبۃ ،  ص۱۸۵.

[3]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  مسندالسیدۃ عائشۃ ،  الحدیث : ۲۵۳۹۲ ، ج۹ ، ص۵۱۸۔

[4]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۲۲۸ ، ج۳ ، ص۲۲۸۔



Total Pages: 273

Go To