Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کو پسند کیا ۔  وہ انصار کے حلیف تھے ۔  چنانچہ،   انہیں   اہلِ صفہ میں   شمار کیا گیا ۔  ہم نے طبقۂ اولیٰ میں   ان کے احوال بیان کر دئیے ہیں   ۔   ( [1] )

            حضرت سیِّدُناحُذَ یْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ رُونماہونے والے فتنوں  اورآفتوں   سے آگاہ تھے ۔  علم وعبادت میں   ہمہ تن مشغول اوردنیاسے کنارہ کش رہتے ۔ حضورنبی ٔ پاک،  صاحبِ لَولاک،  سیاحِ اَفلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں   غزوۂ احزاب کی رات تنہا جاسوسی کے لئے بھیجا  ۔ جب وہ اپنے سفر سے لوٹے توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ٹھنڈی ہوا اور سردی سے بچانے کے لئے انہیں   کپڑوں   پر پہنا جانے والااپنا بغیر آستینوں   کا چوغہ پہنایا ۔

غلاموں   پرشفقت :  

 ( 1242 ) … حضرت سیِّدُناابراہیم تَیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی اپنے والدسے روایت کرتے ہیں   کہ ایک بار ہم حضرت سیِّدُناحُذَ یْفَہ بن یَمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر تھے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ ہم غزوۂ احزاب کی ایک سخت آندھی اورسردی والی رات شاہِ موجودات،   سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھے  ۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ کوئی ہے جو میرے پاس قوم ( کفار ) کی خبرلائے اور اسے قیامت میں   میری رَفاقت حاصل ہو ؟  ‘‘  لوگ خاموش رہے ۔  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوسری مرتبہ،   پھرتیسری مرتبہ فرمایا  ( لیکن سخت آندھی و سردی کی وجہ سے سب خاموش رہے )  پھرارشاد فرمایا :  ’’ اے حُذَیْفَہ !  میرے پاس قریش کی خبر لاؤ ۔  ‘‘  چنانچہ،   جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرا نام لے کر فرمادیا تو اب جاناہی تھا ۔  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا کہ ’’  میرے پاس قوم  ( کفار )  کی خبر لاؤا ورا نہیں   میرے خلاف غصہ نہ دلانا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناحُذَ یْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ میں   چلا تو ایسے لگا جیسے میں   حمام میں   چل رہا ہوں   ( یعنی سردی بالکل محسوس نہ ہوتی تھی  )  حتی کہ میں   قریش کے پاس پہنچ گیا پھر جب وہاں   سے واپس پلٹا تو مجھے یوں   محسوس ہو رہا تھا جیسے میں   کسی حمام میں   چل رہا ہوں   ۔  بارگاہِ نبویعَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام میں   حاضر ہو کر سب حالات کی خبر دی ۔  جب میں   فارغ ہوا تومجھے سردی لگنے لگی ۔  پس حضورنبی ٔ رحمت،   شفیعِ امت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا زائد

 

 کمبل جسے اوڑھ کرنماز ادا فرماتے مجھے اَوڑھا دیا تومیں   صبح تک چین کی نیندسویا رہا ۔  صبح مدنی آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بہت سونے والے اب اُٹھ جاؤ ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 1243 ) …  حضرت سیِّدُنا حُذَ یْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ہم سرورِ کائنات،   شاہِ موجودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی معیّت میں   صفہ میں   موجودتھے کہ اتنے میں   حضرت بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اَذان دینے کا ارادہ کیا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے ارشادفرمایا :  ’’ اے بلال !  ٹھہرو ۔  ‘‘  پھر ہم سے ارشاد فرمایا :   ’’ کھانا کھا لو ۔  ‘‘  ہم نے کھانا کھایا،   پھر فرمایا :  ’’ پانی پی لو ۔  ‘‘  ہم نے پانی بھی پی لیا پھر حضرت بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نماز کے لئے اذان دینے کھڑے ہوئے ۔  ‘‘ راوی حضرت سیِّدُناجَرِیْرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَدِیْر فرماتے ہیں : ’’ یہاں   کھانے سے سحری کا کھانا مراد ہے ۔  ‘‘   ( [3] )

حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ بِن اُسَیْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناابوسَرِیْحَہ حُذَ یْفَہ بن اُسَیْدغِفارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبھی اہلِ صفہ میں   ذکر کیا گیا ہے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیعتِ رضوان میں   شریک ہوئے تھے ۔

قیامت کی 10 بڑی نشانیاں :

 ( 1244 ) … حضرت سیِّدُناحُذَ یْفَہ بن اُسَیْدغِفَارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ اللہعَزَّوَجَلَّکے محبوب،   دانائے غیوب،  منزہٌ عن العُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم قیامت کا تذکرہ کررہے تھے توارشادفرمایا :  ’’ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک دس نشانیاں   ظاہرنہ ہو جائیں :   ( ۱ ) دھواں    ( ۲ ) دجال ( ۳ ) جانور ( ۴ )  آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا ( ۵ ) تین دھنسنے،  ایک دھنسنا مشرق میں    ( ۶ ) دوسرا مغرب میں    ( ۷ ) تیسراجزیرۂ عرب میں    ( ۸ ) یاجوج وماجوج کا ظاہر ہونا  ( ۹ ) وہ آگ جو ( ملکِ یمن کے مشہورشہر )  

 

عَدْن کے بیچ سے نکلے گی لوگوں   کو محشر کی طرف ہانک دے گی ( [4] ) ۔  ‘‘   ( [5] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں  کہ میرا خیال ہے کہ راوی نے حضرت سیِّدُناعیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے نزول کا بھی ذکر کیا  ۔

قرآنِ حکیم اوراہلِ بیت :  

 ( 1245 ) … حضرت سیِّدُناحُذَ یْفَہ بن اُسَیْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجَسَّم،   شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ اے لوگو !  میں   تمہارا پیش رو ہوں   اور تم حوض پرآؤ گے ۔ پس جب تم میرے پاس آؤ گے تو میں  تم سے دو بھاری چیزوں   کے متعلق دریافت کروں   گاتوتم غورکروکہ میرے بعد ان دونوں   کے بارے میں   



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۰۱۱ ، ج۳ ، ص۱۶۴۔

[2]    صحیح مسلم ،  کتاب الجہاد ،  باب غزحدیث : ۴۶۴۰ ، ص۹۹۷ ، بتغیرٍقلیلٍ۔

[3]    اخباراصبھان ،  باب العین ،  من اسمہ علی ،  الحدیث : ۸۹وۃ الاحزاب ،  ال۴۰۱ ، ج۶ ، ص۵۰

[4]    اس حدیث پاک میں   مذکور قیامت کی نشانیوں   کے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صفحات پرمشتمل کتاب بہار شریعت جلد اول صفحہ116تا129کا مطالعہ کیجئے ۔نیزمرآۃ المناجیح ، ج7 ، ص276 ( مطبوعہ ضیاء القرآن ) سے اس حدیث پاک کی شرح کا مطالعہ انتہائی مفید ہے ۔ علمیہ

[5]    مسندابی داودالطیالسی ،  حذیفۃ بن اسیدالغِفَاری ،  الحدیث : ۱۰۶۷ ، ص۱۴۳۔



Total Pages: 273

Go To