Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

سو رہا تھا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے پاس سے گزرے تواپنے پاؤں   مبارَک سے مجھے ہلایا اور فرمایا :   ’’ اے جندب !  یہ لیٹنے کاکون ساطریقہ ہے ؟  اس طرح توشیطان سوتا ہے ۔  ‘‘  ( [1] )

 

حضرت سیِّدُناجَرْہَد بِن خوَیْلِد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا جَرْہَد بن خُوَیْلِدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاذکر بھی صفہ والوں  میں  کیا گیا ہے ۔ بعض نے کہاکہ یہ ابنِ رِزَاخ اَسْلَمِی ہیں    ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اکثر صفہ پر رہتے نیز صلح حدیبیہ میں   بھی شریک تھے ۔

 ( 1239 ) …  حضرت سیِّدُنازُرْعَہ بن عبدالرحمن بن جَرْہَدرَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا جَرہَدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اصحاب صفہ میں   سے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ایک مرتبہ  مَحبوبِ ربُّ العٰلَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف فرما تھے جبکہ میری ران برہنہ تھی توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ کیا تمہیں   نہیں   معلوم کہ ران ستر ہے ( [2] ) ۔  ‘‘   ( [3] )

حضرت سیِّدُناجُعَیْل بِن سُرَاقَہ ضَمْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناجُعَیْل بِن سُرَاقَہ ضَمْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبھی اہلِ صفہ میں   شمار کیا گیا ہے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ صفہ میں   رہائش پذیرتھے ۔

 ( 1240 ) … حضرت سیِّدُنامحمدبن ابراہیم بن حارِث تَیْمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں   عرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آپ نے عُیَیْنَہ اور اَقْرَع کو100،  100 اونٹ عطا فرمائے لیکن حضرت جُعَیْل بِن سُرَاقَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوکچھ عطا نہیں   فرمایا ؟  ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت

 

میں   میری جان ہے !  جُعَیْل بِن سُرَاقَہ ،    عُیَیْنَہ واَقْرَع جیسے رُوئے زمین بھرکے آدمیوں   سے بہترہے ان لوگوں  کومیں   نے تالیفِ قلب کے لئے عطا کیا ہے تاکہ وہ اسلام لے آئیں   جبکہ جُعَیْل کو اسلام کے سپرد کر دیا ہے ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 1241 ) …  حضرت سیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے استفسار فرمایا کہ ’’  جُعَیْل ‘‘ کے بارے میں   تمہاری کیارائے ہے ؟  ‘‘ میں   نے عرض کی :   ’’ وہ ایک مسکین آدمی ہیں   اوریہ بات ان کی شکل سے ظاہرہوتی ہے ۔  ‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ اورفلاں   شخص کے بارے میں   کیا رائے رکھتے ہو ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ وہ لوگوں   کے سرداروں   میں   سے ایک سردار ہے ۔  ‘‘  توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ جُعَیْل اس جیسے روئے زمین بھرکے آدمیوں   سے بہتر ہے ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  فلاں  آدمی بھی تو اس طرح ہے لیکن آپ جُعَیْل کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں   فرماتے جیسا اس کے ساتھ فرماتے ہیں   ؟  ‘‘  ارشادفرمایا :   ’’ وہ اپنی قوم کا سردار ہے اورمیں   اسے تالیفِ قلب کے لئے نوازتا ہوں   ( یعنی اس کے ساتھ ایسابرتاؤاس لئے کرتاہوں   تاکہ وہ اسلام لے آئے )  ۔  ‘‘   ( [5] )

حضرت سیِّدُناجَارِیَہ بِن حُمَیْلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            بعض نے حضرت سیِّدُناجارَیہ بن حُمَیل بن نُشْبَہ بن قُرْط رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبھی اِمام دَارقُطْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی کے حوالے سے صفہ والوں  میں  ذکرکیاہے اوراِبن جَرِیْر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَدِیْرسے منقول ہے کہ ’’ انہیں   صحا بیت کا شرف حاصل ہے ۔  ‘‘   ( [6] )

حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ بِن یَمَانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناحُذَ یْفَہ بن یَمَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بہت عرصہ اہلِ صفہ کے ساتھ رہے اسی وجہ سے انہیں   اہلِ صفہ میں   ذکرکیاگیا ہے ۔ حضرت سیِّدُناحُذَ یْفَہ اوران کے والد حضرت سیِّدُنایمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مہاجرین میں   سے ہیں   ۔ حضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں   ہجرت ونصرت کے درمیان اختیار دیا تو انہوں   نے نصرت

 

 



[1]    تفسیرالقرطبی ،  البقرۃ ،  تحت الایۃ۲۷۳ ، الجزء الثالث ، ج۲ ، ص۲۵۷۔

                سنن ابن ماجہ ،  ابواب الادب ،  باب النہی عن الاضطجاع علی الوجہ ،  الحدیث : ۳۷۲۴ ، ص۲۶۹۹ ، بتغیرٍ

[2]    مفسرشہیرحکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان فرماتے ہیں   : ’’یہ سوال زجرکاہے یعنی یہ مسئلہ جانناضروریاتِ دین سے ہے کیاتم نے اب تک اتنا ضروری مسئلہ بھی نہ سیکھاکہ مردکی ران سترِ عورت ہے اسی حدیث کی بناپرامام ابوحنیفہ و شافعی واحمد بن حنبل مرد کی ران کوسترمانتے ہیں   ،  امام مالک کے ہاں   سترنہیں   لہٰذاران کھول کر نماز درست نہیں   مگرخیال رہے! کہ یہ اِختلاف مردکی ران میں   ہے عورت کی ران کو سب ستر مانتے ہیں  ۔

 ( مرآۃ المناجیح ، ج۵ ، ص۱۸ )

[3]    سنن ابی داود ،  کتاب الحَمَّام ،  باب النہی عن التَعَرِّی ،  الحدیث : ۴۰۱۴ ، ص۱۵۱۷.

[4]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  الرقم۴۴۱جُعیل بن سُراقۃ الضَمْری ، ج۴ ، ص۱۸۶۔

[5]    الجامع لابن وہب ،  باب النسب ،  الحدیث : ۳۲ ، ج۱ ، ص۳۴۔

[6]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  الرقم۴۶۶جاریۃ بن حُمَیْل ، ج۴ ، ص۲۱۱۔



Total Pages: 273

Go To