Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

عَزَّوَجَلَّپر قسم کھائیے !  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  ’’ اے رب عَزَّوَجَلَّ !  میں   تجھے قسم دیتا ہوں   کہ توہمیں   اس معرکہ میں   فتح عطا فرما اور مجھے اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ملا ۔  ‘‘  چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہشہید ہوگئے ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 1230 ) … حضرت سیِّدُنااَنس بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ حضرت بَرَاء بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خوبصورت آوازکے مالک تھے اورسرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ اقدس میں   رجزیہ اَشعار پڑھا کرتے تھے ۔  ایک مرتبہ ایک سفرکے دوران شانِ رسالت میں   رجزیہ اَشعار پڑھ رہے تھے کہ عورتوں   کے قریب سے گزر ہواتوآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :   ’’ ان شیشیوں  کاخیال کرو ۔  ان شیشیوں   کا خیال کرو  ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 1231 ) … حضرت سیِّدُنااِمام اِبن سِیْرِیْن عَلَیْہِ رَحِمَہُ اللہ الْمُبِیْنحضرت سیِّدُنااَنس بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک مرتبہ حضرت بَرَاء بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پشت کے بل لیٹ کر کچھ پڑھنے  لگے تومیں   نے ان سے کہا :  ’’ اے بھائی !  سیدھے ہوکربیٹھ جائیے  ! توانہوں   نے کہا :   ’’ کیا آپ یہ سمجھ رہے ہیں   کہ میں   اپنے بستر پر مر جاؤں   گاحالانکہ میں   نے تن تنہا100مشرکین کوموت کے گھاٹ اُتاراہے اور جو دوسروں   کے ساتھ مل کر مارے وہ ان کے علاوہ ہیں   ۔  ‘‘   ( [3] )

حضرت سیِّدُنا ثوْبَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضور نبی ٔکریم،   رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خادم حضرت سیِّدُنا ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبھی حضرت سیِّدُناعَمروبن علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کے حوالے سے صفہ والوں   میں   شمارکیا گیا ہے ۔ ہم ان کا تذکرہ پہلے

 

 کرچکے ہیں   کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ قناعت پسند،   پاکدامن،   وفادار اور ظریف الطبع اِنسان تھے ۔

یہودی عالم ،  بارگاہِ رسالت میں :

 ( 1232 ) …  حضرت سیِّدُناابواَسماء رَحَبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضورانور،  نُورِمُجَسَّم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خادم حضرت سیِّدُناثَوْبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایاکہ میں   بارگاہ ِنبوی میں   حاضر تھا کہ یہودیوں   کا ایک عالم آیا اور کہنے لگا :  ’’ میں   آپ سے کچھ پوچھنے آیا ہوں   ۔  ‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :   ’’ پوچھو ۔  ‘‘ اس نے کہا :  ’’ جس دن ( یعنی قیامت کے دن  )  زمین دوسری زمین سے اورآسمان بدل دیئے جائیں   گے اس دن لوگ کہاں   ہوں   گے ؟  ‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ پل صراط کے قریب اندھیرے میں   ہوں   گے ۔  ‘‘  اس نے پوچھا:  ’’ سب سے پہلے جنت میں   جانے کی اجازت کن لوگوں   کو حاصل ہو گی ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’  فقرا مہاجرین کو ۔  ‘‘   ( [4] )

سب سے اَفضل مال :  

 ( 1233 ) … حضرت سیِّدُناثَوْبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب،   دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ سب سے افضل دینار ( یعنی روپیہ  ) وہ ہے جسے بندہ اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے یارَاہِ خدامیں   جہادکی سواری پر خرچ کرے یا جہادمیں   شریک اپنے رفقا پر خرچ کرے ۔  ‘‘   ( [5] )

حضرت سیِّدُنا ثابِت بن ضَحَّاک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناثابِت بن ضَحَّاک اَنصَارِی اَبوزَیْداَشْہَلِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبھی اہلِ صفہ میں   ذکرکیا گیا ہے حالانکہ وہ اہل شجرہ ( یعنی درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں   ) میں   سے ہیں   ۔ ان کااپناگھرتھا ۔ انصاری صحابی تھے اورصفہ والوں   میں   سے نہ تھے  ۔

 

مسلمان پرکفرکی تہمت اس کے قتل کی طرح ہے :  

 ( 1234 ) … حضرت سیِّدُناثابِت بن ضَحَّاک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابوقِلَا بَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بتایاکہ میں   نے درخت کے نیچے حضورنبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بیعت کاشرف پایا اورآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  مسلمان پرکفر کی تہمت لگانا  اسے قتل کرنے کی طرح ہے ( [6] ) ۔  ‘‘   ( [7] )

 ( 1235 ) … حضرت سیِّدُناثابِت بن ضَحَّاک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہسیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،   رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’  جو اسلام کے سوا کسی دین پر جھوٹی



[1]    جامع الترمذی ،  ابواب المناقب ،  باب مناقب البراء بن مالک ،  الحدیث : ۳۸۵۴ ، ص۲۰۴۷۔

                الاحادیث المختارۃ ،  مُصْعَب بن سُلَیْم عن انس ،  الحدیث : ۲۶۵۹ ، ج۷ ، ص۲۱۷۔

[2]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب کراہۃ التغني عندالنساء ،  الحدیث : ۵۳۲۴ ، ج۴ ، ص۳۴۰۔

[3]    جامع معمربن راشدمع المصنف لعبدالرزاق ،  کتاب الجامع ،  باب الغناء والدف ،  الحدیث : ۱۹۹۱۲ ، ج۱۰ ، ص۷۲۔

[4]    صحیح مسلم ،  کتاب الحیض ،  باب صفۃ مَنِیِّ الرجل والمرأۃالخ ،  الحدیث : ۷۱۶ / ۷۱۷ ، ص۷۳۰۔

[5]    صحیح مسلم ،  کتاب الزکاۃ ،  باب فضل النفقۃعلی العیالالخ ،  الحدیث : ۲۳۱۰

Total Pages: 273

Go To