Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 1213 ) …  حضرت سیِّدُناخَبَّاب بن اَ لْاَرترَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے اس آیت مبارکہ :  

 

  وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ- ( پ۷،   الانعام :  ۵۲ )

ترجمۂ کنز الایمان :   اور دور نہ کرو انہیں   جو اپنے رب کو پکارتے ہیں   صبح اور شام اس کی رضا چاہتے ۔

            کاشانِ نزول منقول ہے کہ اَقْرَع بن حابِس تَیْمِی اورعُیَیْنَہ بن حَصَن فَزَارِی اللہعَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب،   دانائے غُیوب،   مُنَزَّہ ٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   آئے  ۔ اس وقت آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت بلال،  حضرت عمّار،   حضرت صُہَیْب اورچنددیگرغریب صحابہ رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے ہمراہ تشریف فرما تھے ۔ انہوں   نے ان غربا کوبیٹھے دیکھا تو انہیں   حقیر جانتے ہوئے سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے علیحدہ ملاقات کے لئے کہا کہ ’’   ہم خاص وقت چاہتے ہیں   تاکہ عربوں   کو ہمارامقام معلوم ہو ۔  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس عرب کے قاصد آتے ہیں   تو ہمیں   شرم محسوس ہوتی ہے کہ وہ لوگ ہمیں  ان غلاموں   کے ساتھ بیٹھا دیکھیں   ۔  جب ہم آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   آئیں  توان لوگوں   کو ہٹا دیا کیجئے اور جب ہم چلے جائیں   توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِختیار ہے ۔  ‘‘ یہ سن کر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ ہاں   یہ ممکن ہے ۔  ‘‘ انہوں   نے کہا:  ’’ تو اگر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس مضمون کی ایک تحریر لکھ دیں   تو زیادہ مناسب ہے ۔  ‘‘  حضورنبی ٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس تحریر کے لئے کاغذ منگوایا اور حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو لکھنے کے لئے طلب فرمایا ۔  حضرت سیِّدُنا خَبَّاب بن اَ لْاَرَت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ ہم لوگ ایک گوشہ میں   صبر کئے بیٹھے تھے ۔  ابھی آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لکھوانا ہی چاہتے تھے کہ حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام یہ حکمِ ربانی لے کرحاضر ہو گئے :    وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۲) ( پ۷،   الانعام :  ۵۲ )

ترجمۂ کنز الایمان :   اور دور نہ کرو انہیں   جو اپنے رب کو پکارتے ہیں   صبح اور شام اس کی رضا چاہتے تم پران کے حساب سے کچھ نہیں   اوران پرتمہارے حساب سے کچھ نہیں   پھرانہیں   تم دورکرو تویہ کام انصاف سے بعید ہے ۔

 

            اس کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّنے اَقْرَع بن حابِس تَیْمِی اورعُیَیْنَہ بن حَصَن فَزَارِی کے بارے میں   فرمایا :  

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَاؕ-اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ(۵۳) ( پ۷،  الانعام :  ۵۳ )

  ترجمۂ کنزالایمان:  اوریونہی ہم نے ان میں   ایک کودوسرے کے لئے فتنہ بنایاکہ مالدار کافرمحتاج مسلمانوں   کودیکھ کر کہیں  کیا یہ ہیں   جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں   سے کیا اللہ خوب نہیں   جانتا حق ماننے والوں   کو ۔

            اوراس کے بعدفرمایا :   وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَۙ     ( پ۷،  الانعام :  ۵۴ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اورجب تمہارے حضور وہ حاضرہوں   جو ہماری آیتوں   پرایمان لاتے ہیں   توان سے فرماؤ تم پرسلام تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پررحمت لازم کرلی ہے ۔

            حضرت سیِّدُناخَبَّاب بن اَ لْاَرَتْ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ جب یہ آیات نازل ہوئیں   توحضورنبی ٔ رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کاغذایک طرف رکھ دیا اورہمیں   اپنے پاس بلایا،   ہم پاس گئے توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ تم پر سلام ہو ۔  ‘‘ پھرہم حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اتنے قریب ہو کر بیٹھتے کہ آپ کے زانو سے ہمارے زانومل جاتے اورآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کایہ معمول تھا کہ ہمارے پاس تشریف فرما رہتے اورجب جانے کاارادہ کرتے تو ہمارے اٹھنے کااِنتظارکئے بغیراٹھ کرتشریف لے جاتے تواس کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں :   وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْۚ-تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ    ( پ۱۵،  الکہف :  ۲۸ )

ترجمۂ کنز الایمان :   اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں  اس کی رضاچاہتے اورتمہاری آنکھیں   انہیں  چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں   کیاتم دنیا کی زندگی کا سنگار چاہو گے ۔

              اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا :  ’’ آپ کی آنکھیں   ان فقرامؤمنین کوچھوڑکر اشرافِ قریش پرنہ پڑیں   کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اشرافِ قریش کو اپنے پاس بٹھائیں    ۔  ‘‘  مزید فرمایا :  

 

وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا ( پ۱۵،  الکہف :  ۲۸ )

ترجمۂ کنز الایمان :   اور اس کا کہا نہ مانوجس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حدسے گزر گیا ۔

            وہ جن کے دل اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی یاد سے غافل کر دئے وہ اَقْرَع بن حابِس تَیمِیاورعُیَیْنَہ بن حَصَن فَزَارِیہیں   اور ’’ فُرُطًا ‘‘  سے مرادا ن کی ہلاکت ہے ۔ اس کے بعداللہعَزَّوَجَلَّ نے ’’   وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ  ‘‘  اور ’’   وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا  ‘‘ سے ان کی مثال بیان فرمائی  ۔ حضرت سیِّدُنا خَبَّاب بن اَ لْاَرَتْ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ پھرہماری حالت یہ تھی کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے درمیان بیٹھے رہتے جب تک ہم نہ اٹھتے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی نہ اٹھتے  ۔ پھر ہم اٹھ کرچلے جاتے جبکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہیں   تشریف فرماہوتے  ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 1214 ) … حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں   کہ ایک مرتبہمُؤَلَّفَۃُ الْقُلُوْب ( یعنی جن کے دلوں   کواسلام سے الفت دی جائے )  میں   سے اَ قْرَع بن حابِس



[1]    سنن ابن ماجہ ،  ابواب الزھد ،   باب مجالسۃ الفقراء ،  الحدیث : ۴۱۲۷ ، ص۲۷۲۸۔

                المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۶۹۳ ، ج۴ ، ص۷۵تا۷۷۔



Total Pages: 273

Go To