Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گردحلقہ بنا کربیٹھ گئے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسْتِفْسَارفرمایا :  ’’  تم کیا کر رہے تھے ؟  ‘‘ انہوں   نے عرض کی :  ’’ یہ آدمی ہمیں   قرآن سنا رہا تھا اورہمارے لئے دُعا کر رہا تھا ۔  ‘‘ ارشادفرمایا :  ’’ اسی طرح کروجس طرح تم کر رہے تھے ۔  ‘‘  پھرارشادفرمایا :  ’’ تمام تعریفیں   اللہعَزَّوَجَلَّ  کے لئے ہیں   جس نے میری امت میں   وہ لوگ شامل کئے جن کے ساتھ مجھے بیٹھنے کاحکم دیاگیا ۔  ‘‘  پھر فرمایا :  ’’ غریب مسلمانوں   کوکامیابی کی بشارت ہو کہ وہ قیامت کے دن امیروں   سے 500 سال پہلے جنت میں   داخل ہوں   گے ۔ یہ فقرا جنت میں   نعمتوں   سے لطف اندوز ہو رہے ہوں   گے جبکہ مالداروں   کا ابھی حساب وکتاب ہورہا ہوگا  ۔   ‘‘   ( [1] )

 ( 1210 ) …  حضرت سیِّدُناثابِت بُنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناسلمان رَضِیَ

 

 اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک گروہ میں   بیٹھیذِکْرُاللہ میں   مشغول تھے کہ وہاں   سے حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا گزرہوا توسب خاموش ہوگئے  ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا :  ’’ تم کیا کہہ رہے تھے ؟  ‘‘ عرض کی :   ’’ ہماللہعَزَّوَجَلَّ کا ذکر کر رہے تھے ۔  ‘‘ ارشادفرمایا :  ’’ ذکرکرو میں   نے تم پر رحمت نازل ہوتے دیکھی توچاہا کہ میں   بھی تمہارے ساتھ شریک ہوجاؤں   ۔  ‘‘ پھرفرمایا :  ’’ تمام تعریفیں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں   جس نے میری امت میں   ایسے لوگوں   کو شامل فرمایا جن کے پاس مجھے بیٹھنے کاحکم دیا گیا  ۔  ‘‘   ( [2] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں : ’’ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اورقیامت تک ان کی پیروی کرنے والے جنہوں   نے فقر و فاقہ کو اپنایا وہ دین کی ایک علامت ہیں   ۔  ان کی صداقت کے عَلَم بلندہیں   ۔  ان کے دل حق تعالیٰ کے مشاہدہ سے آباد ہیں   اوروہ ہی ان کا گواہ اور ان کا کار ساز ہے ۔ حضور سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،   رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ان کے کفیل اورمیزبان تھے ۔  اور جو شخص دنیااور اس کے پُرفریب مال سے منہ موڑنے،   آخرت اوراس کی نعمتوں   سے رشتہ جوڑنے،   کمزورو ناپائیدار چیزوں   سے اپنے آپ کوروکنے،  رنگین دنیا کی غافل کردینے والی آسائشوں   سے دور بھاگنے،   ہمیشہ رہنے والے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّکی قدرت کا مشاہدہ کرنے اورآنے والی راحتوں   یعنی ہمیشہ رہنے والی آخرت،    اس کی تروتازگی،   دائمی سکون ورونق،   اللہعَزَّوَجَلَّکی ملاقات ا وراس کی چاشنی اوردیدارِ الٰہی اوراس کی لذت پانے کاخواہش مند ہے اس پرلازم ہے کہ اللہعَزَّوَجَلَّ نے اس کے لئے جوفقرپسندفرمایااس پر راضی رہے ۔  جن کاموں   سے اللہعَزَّوَجَلَّ نے اسے روکا ان سے باز رہے،   جو اسے پسند ہے اس میں   کوشش کرے ۔  اپنے دلی خیالات کی کڑی نگرانی کرے تاکہ اس کا شمار پاکیزہ لوگوں   میں   ہو اور اس کا حشر غرباومساکین کے ساتھ ہو اور اسے اللہعَزَّوَجَلَّ کے مقرب وبرگزیدہ بندوں   کا قرب نصیب ہو ۔  اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو غنیمت سمجھے ۔  لوگوں   سے بلا ضرورت ملنے جلنے سے احتراز کرے ۔  ناحق اورباطل لوگوں   سے مصالحت کرکے اپنا وقت برباد نہ کرے اوراپنے تمام احوال میں   آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی میں   رہتے ہوئے اللہعَزَّوَجَلَّ کی عبادت کے لئے کوشاں   رہے  ۔  چنانچہ، 

 

 ( 1211 ) …  حضرت سیِّدُنااَنس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ کریم،   رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب کسی کوپریشانی میں   مبتلادیکھتے تو اسے نمازپڑھنے کا حکم ارشادفرماتے ۔  ‘‘   ( [3] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں  : اہلِ صفہ نے صفہ کو اپنا ٹھکانہ بنایا اورباطنی آرائشوں   سے اپنے آپ کو پاک کیا ۔  اغیارسے کناراکش رہے ۔  شادمانیوں   اورخوشیوں   سے محفوظ رہے ۔ نیکوں   کے طریقہ پرثابت قدم رہے ۔  لہٰذا انہیں   دائمی نعمتوں   کے باغوں   میں   اتارا گیا اورانہیں   خالص تَسْنِیْم سے سیراب کیا گیا ۔

 ( 1212 ) … حضرت سیِّدُناابوصالح رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ’’  وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ(۲۷) ( پ۳۰،   المطففین :  ۲۷ )   ترجمۂ کنزالایمان:  اوراس کی ملونی تَسْنِیْمسے ہے ۔  ‘‘  کی تفسیر میں   فرماتے ہیں   کہ ’’   تَسْنِیْماہلِ جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے جو مقربینِ بارگاہِ الٰہی کو خالص ملے گی جبکہ دیگر کوتَسْنِیْم کی آمیزش کی ہوئی شراب ملے گی ۔  ‘‘   ( [4] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں :  ’’ اہلِ صفہ مختلف قبائل وعلاقوں   کے نیک لوگ تھے ۔  انہوں   نے انوار کا لبادہ اوڑھا ۔  اذکار سے اپنے دلوں   کوپاکیزہ کیا ۔ ان کے اعضاء نے راحت پائی اور ان کے باطنی اسرار منور ہو گئے  ۔ چونکہ اللہعَزَّوَجَلَّ نے اپنی رِضاان کے شاملِ حال کردی تھی اس لئے انہوں   نے دھوکا اورلہوولعب میں   مشغول ہونے والوں   سے اعراض کیا ۔ وہ زائل و ختم ہونے والی اورنقصان دِہ دنیاسے صلح کرنے والوں   سے دور رہے ۔  حاسد دشمن سے مصالحت کرنے سے بازرہے  ۔  اللہعَزَّوَجَلَّ کی ذات جس نے ان کی حمایت کی اس کے دامن رحمت کوہر حال میں   تھامے رکھا  ۔ الغرض دنیاسے بالکل قطع تعلقی اختیار کی  ۔ دنیاوی ملبوسات میں   سے پھٹے پرانے کپڑے پہنے  ۔  اللہعَزَّوَجَلَّ کے سواکسی کی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔  انہوں   نے اللہعَزَّوَجَلَّ کی رضا ومحبت پر بھروسا کیا ۔  اسی وجہ سے فرشتوں   نے بھی ان کی زیارت و دوستی میں   رغبت کی اور حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کوبھی ان کے ساتھ گفتگوکرنے اور مل بیٹھنے کا حکم دیا گیا ۔ چنانچہ، 

 



[1]    سنن ابی داود ،  کتاب العلم ،  باب فی القصص ،  الحدیث : ۳۶۶۶ ، ص۱۴۹۴۔

                ترکۃ النبی لحمادبن اسحاق ،  الحدیث : ۴۳ ، ص۴۴۔

[2]    المستدرک ،  کتاب العلم ،  باب الرحمۃ تنزل علی جماعۃ یذکرون اﷲ ،  الحدیث : ۴۲۷ ، ج۱ ، ص۳۲۶۔

                سنن ابی داؤد ،  کتاب العلم ،  باب فی القصص ،  الحدیث : ۳۶۶۶ ، ص۱۴۹۴۔

[3]    شعب الایمان للبیہقی ،  باب فی الصلواتالخ ،  الحدیث : ۳۱۸۳ ، ج۳ ، ص۱۵۴۔

[4]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  الحدیث : ۱۳۸ ، ص۶۰۔



Total Pages: 273

Go To