Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

ہونے کے خوف سے اپنے کپڑے پکڑ  لیتا ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 1205 ) …  حضرت سیِّدُناوَاثِلَہ بن اَسْقَعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ میں   صفہ والوں   میں   شامل تھا ۔  ہم میں   سے کسی کے پاس پورا لباس نہیں   ہوتا تھا،   ہمارا پسینہ ہمارے جسموں   پر بہتا ہواگردوغبار کے درمیان راستہ بنا لیتا ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 1206 ) … حضرت سیِّدُناجَرِیربن حازِم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُنامحمدبن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمُبِیْن سے روایت کرتے ہیں   کہ شام کے وقت شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہ،   صاحبِ معطر پسینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صفہ والوں  کودیگرصحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں   تقسیم فرما دیتے تو کوئی 1 آدمی کو لے جاتا،   کوئی 2 کو اور کوئی 3 کو ۔  حتی کہ حضرتِ سیِّدُناامام بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمُبِیْن نے 10 تک کا ذکر کیا ۔  حضرت سیِّدُناسعدبن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہررات80افرادکواپنے گھرلاتے اورکھانا کھلاتے  ۔  ‘‘  ( [3] )

فضائل قرآن :  

 ( 1207 ) …  حضرت سیِّدُناعُقْبَہ بن عامِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ ہم صفہ میں   تھے کہ حضورانور،   نُورِمُجَسَّم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائے اورارشاد فرمایا :   ’’ تم میں   کا کون چاہتا

 

ہے کہ صبح بُطحانیاعَقِیْق  ( [4] )جائے پھرکسی گناہ ( چوری یا غصب وغیرہ  )  کا ارتکاب کئے بغیر یارشتہ توڑے بغیر دوبڑے کوہان والی اُونٹنیاں   لیتا آئے ؟  ‘‘  ہم نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! ہم سبھی یہ چاہتے ہیں   ( [5] ) ۔  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ توکیوں   نہیں   تم میں   سے کوئی مسجد جاتااور کتاب اللہ کی دو آیتوں  کی تعلیم دیتا یاانہیں   پڑھتا ۔ یہ دو آیتیں   اس کے لئے دوبڑے کوہان والی اُونٹنیوں   سے بہتر ہوں   گی اورتین آیتیں   اس کے لئے تین اُونٹنیوں   سے بہتر اور چارآیتیں   اس کے لئے چار اُونٹنیوں   سے بہتر ہوں   گی ۔  اسی طرح جتنی آیتیں   سکھائے یا پڑھے اتنی اُونٹنیوں   اور اُونٹوں   سے بہتر ہوں   گی ( [6] ) ۔  ‘‘   ( [7] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث واضح طورپر بیان کرتی ہے کہ حضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اہلِ صفہ کو دنیا کی تمنا کی طرف ابھارنے والے عوارض اوراس کی طرف متوجہ ہونے والے عوامل سے اس چیزکی طرف پھیر دیتے جوان کے حال کے زیادہ مناسب وبہترہوتی یعنی انہیں   ہمہ وقت ذکر وفکر اوراس چیزمیں   مصروف رکھتے جس سے انہیں   یقین کے انوارو منافع حاصل ہوتے اور ہلاکتوں   اورخطرات سے ان کی حفاظت رہتی اوراس طرح وہ حضرات اپنی امیدوں   سے راحت بھی پا لیتے تھے ۔  ‘‘

 

 ( 1208 ) …  حضرت سیِّدُنااَنس بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ’’ ایک دن حضرتِ ابوطلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ صفہ کے پاس آئے تودیکھا کہ حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے کھڑے صفہ والوں   کو پڑھا رہے ہیں   جبکہ حضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھوک کی وجہ سے پیٹ پرپتھر باندھ رکھا تھا تاکہ کمرسیدھی رہے  ۔  ‘‘   ( [8] )

            اہلِ صفہ قرآن کریم  کوسیکھنے اورسمجھنے میں   مشغول رہتے اوروہ اس بات کے مشتاق ہوتے کہ انہیں   دینِ اسلام کی نئی بات مل جائے یا سابقہ دُہرا لی جائے اور اس بات پر یہ روایات گواہ ہیں   ۔  چنانچہ، 

 ( 1209 ) …  حضرت سیِّدُناابوسعیدخُدْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مسلمانوں   میں   سب سے غریب تھے ۔  ایک آدمی ہمیں   قرآن سنا رہا تھا اور ہمارے لئے دُعا کررہاتھا ۔  میرا خیال ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی کو صحیح طرح دیکھ نہ پائے تھے کیونکہ نامکمل لباس ہونے کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے خود کو چھپاتے تھے ۔  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہاتھ سے حلقہ بنانے کا اشارہ فرمایا تو سب حضورنبی ٔ پاک صَلَّی اللہ



[1]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  الحدیث : ۳۲ ، ص۳۱۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۷۰ ، ج۲۲ ، ص۷۰ ، مفہومًا۔

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الادب ،  باب ماذکرفی الشح ،  الحدیث : ۱۶ ، ج۶ ، ص۲۵۵۔

[4]    حکیم الامت مولانامفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں   : ’’عَـقِـیْق مدینۂ منورہ زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاسے دوتین میل پر ایک بازارہے جہاں   جانورزیادہ فروخت ہوتے ہیں  ۔ بُطْــحَان مدینۂ منورہ زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا کاایک وسیع جنگل ہے ۔

[5]    خیال رہے کہ وہ حضرات اگرچہ تارک دنیاتھے مگردین کے لئے دنیاحاصل کرنے کوبہت افضل جانتے تھے۔ دنیا اگر دین کے لئے ہو تو عین دین ہے اور اگر طین  ( مٹی گارے )  کے لئے ہو تو دنیا ہے ،  یعنی دنی ( گھٹیا )  چیز ،  لہٰذا حدیث پریہ اعتراض نہیں   کہ وہ لوگ تومحب دنیانہ تھے پھریہ جواب کیوں   دیا۔‘‘ ( مرآۃ المناجیح ، ج۳ ، ص۲۱۸ )

[6]    یعنی پانچ آیات پانچ اونٹوں   سے افضل اور چھ یاسات آیتیں   اس قدراونٹوں   سے افضل ،  عرب میں   ابل مطلقاً اونٹ کو کہتے ہیں   نر ہو یا مادہ اور جمل نر اونٹ کو ناقہ مادہ کو جیسے انسان یاآدمی مطلقاً انسان کوکہتے ہیں   اور رجل مرد کو ،  امراۃ عورت کو۔ خیال رہے کہ یہاں   آیت سے مراد آیت سیکھنا یا اس کی تعلیم میں   مشغول رہنا ہے یعنی ایک آیت سیکھنا ایک اونٹنی کی ملکیت سے بہتر ہے ،  لہٰذاحدیث پر یہ اعتراض نہیں   کہ آیتِ قرآنی تو تمام دنیا سے بہتر ہے ایک اونٹ کاذکرکیوں   ہوایایہ تفصیل ان اہل عرب کوسمجھانے کے لئے ہے جنہیں   اونٹ بہت مرغوب ہے جیسے میٹھی نیندسونے والوں   کو سمجھانے کے لئے فجرکی اذان میں   کہتے ہیں  ’’اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌمِّنَ النَّوْم ‘‘ اس نیند سے بہتر ہے حالانکہ نماز تو ساری دنیا سے بہتر ہے۔ ( مرآۃ المناجیح ، ج۳ ، ص۲۱۸ )

[7]    صحیح مسلم ،  کتاب فضائل القرآن ،  باب فضل قراء ۃ القرآن فی الصلاۃ وتعلمہ ،  الحدیث