Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

وَسَلَّمنےارشادفرمایا :  ’’ بےشکاللہعَزَّوَجَلَّ متقی ،   سخی دل اور مخفی  (  یعنی گمنام )  بندے سے محبت فرماتا ہے ۔  ‘‘   ( [1] )

اللہعَزَّوَجَلَّکے پسندیدہ لوگ:

 ( 55 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار،  ہم بے کسوں   کے مددگار،   شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکے پسندیدہ لوگ غربا ہیں   ۔  ‘‘  عرض کی گئی :   ’’ غرباء کو ن ہیں    ؟  ‘‘ ارشاد فرمایا :   ’’ اپنے دین کی حفاظت کے لیے بھاگنے والے ۔  بروزِقیامتاللہعَزَّوَجَلَّانہیں   حضرت عیسیٰ (  عَلَیْہِ السَّلَام )  کے ساتھ اُٹھائے گا ۔  ‘‘    ( [2] )

چنے ہوئے لوگ:

 ( 56 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ جب اللہعَزَّوَجَلَّکسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے اپنے لئے چن لیتااور اسے اہل و عیال میں   مشغول نہیں   ہونے دیتا ۔  ‘‘ نیز بیان فرماتے ہیں   کہ رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ لوگوں   پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کسی مسلمان کا دین سلامت نہیں   رہے گا سوائے اس کے جو ا پنے دین کی حفاظت کے لئے ایک بستی سے دوسری بستی،  ایک گھاٹی سے دوسری گھاٹی اور ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ کی طرف بھاگے گا ۔  ‘‘   ( [3] )

قابلِ رشک مومن :  

 ( 57 ) … حضرت سیِّدُناابو اُما مَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حسنِ اَخلاق کے پیکر،   نبیوں   کے تاجور،   مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ ہمارے دوستوں   میں   سب سے زیادہ قابلِ رَشک وہ مومن ہے جو تھوڑے مال والا ،  نماز روزے کا پابند ،   اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی اچھے طریقے سے عبادت کرنے والااور تنہائی میں   بھی اس کی طاعت کرنے والاہواور لوگوں   میں   اس قدر گمنام ہو کہ اُنگلیوں   سے اس کی طر ف سے اشارہ نہ کیا جائے،   بقدرِ کفایت روزی میسر آنے پرصبرکرے،  جب اس کی موت قریب آجائے تو اس پر رونے والوں   کی تعداد کم ہواور اس کا ترکہ بھی بہت تھوڑا ہو ۔  ‘‘   ( [4] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں  : ’’  اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَاماچھی صفات اور عمدہ عادات کے مالک ہوتے ہیں   ۔ ان کا مقام بلند اور سوال قابلِ رشک ہوتاہے  ۔  ‘‘

 ( 58 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : حضور نبی ٔ مُکَرَّم ،  نُوْرِمُجَسَّم،   شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا :  ’’  اے لڑکے  !  کیا میں   تم پربخشش نہ کروں    ؟  کیامیں   تم کو نہ دوں   ؟ کیامیں   تم کو عطا نہ کروں   ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  : میں   نے عرض کی :   ’’ کیوں   نہیں   یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے ماں  باپ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر قر بان ہوں   ۔  ‘‘  فرماتے ہیں :  میں   نے سمجھا کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے کچھ مال عطا فرمائیں   گے لیکن آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ ہردن رات میں   4 رکعت والی ایک نماز ہے ۔  جس میں   سورہ ٔفاتحہ اورسورت پڑھنے کے بعد15مرتبہ ’’ سُبْحٰنَ اللہ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہ اِلَّا اللہ وَاللہ اَکْبَر ‘‘ کہو پھر رکوع کرو اور رکوع میں    ( تسبیح کے بعد  )  10 مرتبہ پڑھو پھر رکوع سے اٹھو تو  ( سَمِعَ اللہ لِمَنْ حَمِدَہکہنے کے بعد  )  10 مرتبہ،   پھر نماز کی ہر رکعت میں   اسی طر ح پڑھو جب فارغ ہو جاؤ تو تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے یہ پڑھو :  ’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ تَوْفِیْقَ أَھْلِ الْھُدٰی وَاَعْمَالَ أَھْلِ الْیَقِیْنِ وَمُنَاصَحَۃَ اَھْلِ التَّوْبَۃِ وَعَزْمَ اَھْلِ الصَّبْرِ وَجَدَّ اَھْلِ الْخَشْیَۃِ وَطَلْبَۃَ اَھْلِ الرَّغْبَۃِ وَتَعَبُّدَ اَھْلِ الْوَرْعِ وَعِرْفَانَ اَھْلِ الْعِلْمِ حَتّٰی اَخَافَکَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ مَخَافَۃً تَحْجُزُنِیْ عَنْ مَعَاصِیْکَ وَحَتّٰی اَعْمَلَ بِطَاعَتِکَ عَمَلًا اَسْتَحِقُّ بِہِ رِضَاکَ وَحَتّٰی اُنَاصِحَکَ فِی التَّوْ بَۃِ خَوْفًا مِّنْکَ وَحَتّٰی اُخْلِصَ لَکَ النَّصِیْحَۃَ حُبًّالَکَ وَحَتّٰی اَتَوَ کَّلَ عَلَیْکَ فِی الْاُمُوْرِ حُسْنَ الظَّنِّ بِکَ سُبْحٰنَ خَالِقِ النُّوْرِ ‘‘  ( ترجمہ :   اے اللہعَزَّوَجَلَّ !  میں   تجھ سے ہدایت یا فتہ لوگو ں   کی توفیق،  اہلِ یقین کے اعمال ،    توابین کے خلوص ،   صابرین کے عزم ،   اہل خشیت کی کوشش ،   اہل شو ق کی طلب ،   متقین کی سی عبادت ،   علم والوں   کی معرفت کا سوال کرتا ہوں   کہ میں   تجھ سے ڈروں   اور اے اللہعَزَّوَجَلَّ میں   تجھ سے ایسے خوف کا سوال کرتا ہوں   جومجھے تیری نافرمانیوں   سے با ز رکھے حتی کہ میں   ایسا عمل بجالاؤں   کہ تیری رضا کا مستحق بن جاؤں   اور تجھ سے ڈرتے ہوئے سچی تو بہ کرلو ں   اور تیری محبت کے باعث تیرے لئے خلوص اِختیار کرو ں  اور تجھ سے حسن ظن رکھتے ہوئے تمام اُمور میں   تجھ پر بھر وسا کروں   ۔  پاکی ہے نور کے خالق عَزَّوَجَلَّ کو ۔  )   ( پھر آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا )  اے ابن عباس ! جب تم ایسا کرو گے تواللہعَزَّوَجَلَّتمہارے چھوٹے اور بڑے ،   نئے اورپرانے،  چھپے اور ظاہر،   بھول کر کئے اور جو جان بوجھ کر کئے تمام گناہ بخش دے گا  ۔  ‘‘   ( [5] )

اللہعَزّوَجَلّکے سفیر

            حضرات اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَاممخلوق کی طرف رب عَزَّوَجَلَّ کے سفیر اور خود حق تبارک وتعالیٰجَلَّ جَلَالُہٗکے اسیر ہوتے ہیں   ۔ ہجر و فراق نے انہیں   پریشان اوربے قراری نے پراگندہ حال کیا ہوتاہے ۔ چنانچہ، 

 ( 59 ) … حضرت سیِّدُنامعا ذبن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہ،   صاحبِ معطر پسینہ،   باعثِ نُزولِ سکینہ،   فیض گنجینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے



[1]    صحیح مسلم ،  کتاب الزھد ،  باب الدنیاسجن للمؤمن وجنۃللکافر ،  الحدیث : ۷۴۳۲ ، ص ۱۱۹۲۔

[2]    الزھد للامام احمد بن حنبل  ،  زھد عمران بن الحصین  ،  الحدیث   ۸۰۹ ،  ص ۱۷۲۔

[3]    الزھدالکبیر للبیہقی ،  فصل فی ترک الدنیاالخ ،  الحدیث : ۴۳۹ ، ص۱۸۳ ، بتغیرٍقلیلٍ۔

[4]    المعجم الکبیر ،  الحدیث  ۷۸۶۰ ، ج۸ ، ص۲۱۳۔



Total Pages: 273

Go To