Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

ذَاتُ النِّطَاقَیْنکے بیٹے !  ‘‘  ایک باران کی والدہ ماجدہ حضرت سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا :   ’’ اے بیٹے ! اہلِ شام تمہیں  نِطَاقَیْنکے ساتھ عار دلاتے ہیں   ۔  درحقیقت میرے پاس ایک نِطَاق  ( یعنی کمرپرباندھاجانے والاپٹکا ) تھا  ( ہجرت کے موقع پر )  جس کے میں   نے دو حصے کر کے ایک کے ساتھ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا زادِ راہ اور دوسرے سے مشکیزہ باندھا تھا ۔  ‘‘    ( [1] )راوی فرماتے ہیں : ’’ اس کے بعد جب اہلِ شام حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کواس لفظ سے عاردلاتے توآپ فرماتے :  ’’ ربِ کعبہ کی قسم !  یہ سچ ہے اور میرے لئے فخر کا باعث ہے ۔  ‘‘   ( [2] )

 

 ( 1190 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں :  جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠(۳۱) ( پ۲۳،   الزمر :  ۳۱ )

 ترجمۂ کنزالایمان: پھرتم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑوگے ۔

            تومیں   نے عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  کیا خاص گناہوں   کے علاوہ ہمارے دنیاوی معاملات بھی ہم پر پیش ہوں   گے  ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’ ہاں   !  یہاں   تک کہ ہرآدمی ہرحق والے کو اس کا حق پہنچا دے ۔  ‘‘   ( [3] )

 ( 1191 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا   فرماتے ہیں :  جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی :  

ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸) ( پ۳۰،   التکاثر :  ۸ )

 ترجمۂ کنزالایمان: پھر بے شک ضرور اس دن تم سے نعمتوں   کی پُرسش ہوگی ۔

            تومیں   نے عرض کی :  ’’ یارسول َاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! ہم سے کن نعمتوں   کے بارے میں   پوچھا جائے گا ہمیں   تو2سیاہ چیزیں   پانی اور کھجور ہی میسر ہیں   ؟  ‘‘ تو حضورنبی ٔاکرم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ سنو !  عنقریب ان نعمتوں   کی فراوانی ( یعنی کثرت )  ہوگی ۔  ‘‘   ( [4] )

مال کی حرص کبھی ختم نہیں   ہوتی :  

 ( 1192 ) … حضرت سیِّدُناعبَّاس بن سَہْل بن سَعْداَنصاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ البَاریبیان کرتے ہیں  کہ میں   نے سناکہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن زُبَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے مکۂ مکرمہ زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکے منبرشریف پرخطبہ دیتے ہوئے فرمایا :  اے لوگو !  بے شک حضورپرنور،  شافع یوم النشور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اگر انسان کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تودوسری کی تمنا کرے گااور اگر دوسری مل جائے تو تیسری کا طلبگاررہے گااور انسان کا پیٹ  ( قبرکی ) مٹی کے سواکوئی چیزنہیں   بھرسکتی اورجوتوبہ کرے اللہعَزَّوَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔  ‘‘   ( [5] )

 

صُفّہ والوں  کابیان

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبد اللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں : ’’ ہم نے زَاہدین وعابدین صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے ایک گروہ کے کچھ اَحوال اور اَجل واَعلم اَئمہ صحابہ کے ایک گروہ کے اقوال بیان کئے ہیں   جو اپنے معبود و پروردگارعَزَّوَجَلَّاوراس کی عبادت کے مشتاق تھے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّکی محبت سے سرشارتھے ۔  جن کے سر اہلِ معرفت واہلِ عمل کی پیشوائی کا سہرہ سجا ۔  جو دنیا کی وجہ سے فتنوں   کا شکار ہونے اور دنیا کی محبت میں   گم رہنے والوں   پرحجت بنے  ۔ ان کے حالات و واقعات ذکرکرنے کے بعد اب ہم اللہعَزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کرتے ہوئے اہلِ صفہ رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کی شان ۔ ان کی عادات وحالات بیان کریں   گے ۔  نیز جن کے اسمائے گرامی ہم تک اسانید ِمشہورہ وشواہد کے ساتھ پہنچے ان کا بھی تذکرہ کریں   گے ( [6] ) ۔

مختصرتعارف :  

            اَصحابِ صفہ  رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن وہ مقدس وپاکیزہ حضرات ہیں   جنہیں   اللہعَزَّوَجَلَّ نے دنیا کی آرائش وزیبائش پرفریفتہ ہونے سے محفوظ رکھا ۔ دنیوی سازوسامان کے امتحان



[1]    شارح بخاری  ، فقیہ اعظم ہندحضرت مولانامفتی محمدشریف الحق امجدی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی اس کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں   :  ’’ ( حضرت سیِّدتُنا اسماء  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکے ) اس ( عمل )  پرحضوراقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم  نے خوش ہوکران کوفرمایا : تم ذَاتُ النِّطَاقَیْنہو۔یہ حضرت اسماء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکے لئے فخر کی بات تھی جسے حجاج بن یوسف کے لشکری بطورطعن بولتے تھے ۔ آزاد شریف عورتیں   صرف ایک نِطاق باندھتی تھیں  …اور خادمائیں   دودونِطاق… ( اور )  ذَاتُ النِّطَاقَیْنکنایہ ہے خادمہ سے ۔ اس طرح یہ طعن ہوگیا۔‘‘ ( نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری ، ج۵ ، ص۴۱۱ )

[2]    صحیح البخاری ،  کتاب الاطعمۃ ،  باب الخُبْز المُرَقَّقالخ ،  الحدیث : ۵۳۸۸ ، ص۴۶۵۔

                طبقات المحدثین باصبہان ،  عبداﷲ بن الزُبَیربن العوام ، ج۱ ، ص۱۹۸۔

[3]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  مسندالزُبَیربن العوام ،  الحدیث : ۱۴۳۴ ، ج۱ ، ص۳۵۳۔