Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

دیکھا کہ ابھی تک آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی لاش مبارَک سولی پر تھی ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی والدہ ماجدہ لاش مبارَک کے پاس آئیں   اس وقت وہ انتہائی ضَعِیْفُ الْعُمراور نابینا تھیں   ۔  انہوں   نے حَجَّاج سے کہا:  ’’ کیا ابھی تک اس شہسوارکے اُترنے کا وقت نہیں   آیا ؟  ‘‘ حَجَّاج بولا :   ’’ یہ مُنَافِق ہے ۔  ‘‘ حضرت سیِّدَتُنا اَسماء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  یہ منافق نہیں   تھا ۔  بلاشبہ یہ روزہ دار،   عبادت گزار اور نیکوکار تھا ۔  ‘‘  حَجَّاج نے کہا :   ’’ اے بڑھیا !  واپس چلی جا !  بے شک تیری عقل زائل ہو گئی ہے ۔  ‘‘ حضرت سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا :  ’’  نہیں   ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  جب سے میں   نے حضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ بات سنی میری عقل زائل نہیں   ہوئی ہے ۔  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا تھا کہ ’’  قبیلہ ثَقِیف سے ایک جھوٹا اور لوگوں   کا قتلِ عام کرنے والاایک شخص ظاہر ہو گا ۔  ‘‘ پس جھوٹے شخص  ( یعنی مُختارثَقَفِی ) کو توہم دیکھ چکے ہیں   اور رہا لوگوں   کا قتلِ عام کرنے والا،  پس وہ تُوہے ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 1175 ) … حضرت سیِّدُنامجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِدفرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُناعبد اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت کے بعد ( انہیں   سولی پرلٹکادیاگیاتھااسی دوران )  میں   حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ساتھ ان کے مبارک لاشہ کے پاس سے گزراتوآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہوہاں   ٹھہر گئے اور فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے !  میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   یہی جانتا ہوں   کہ آپ روزہ دار،   عبادت گزار اور رشتہ داروں   سے صلہ رحمی کرنے والے تھے اور مجھے یہی اُمیدہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو عذاب میں   مبتلا نہیں   فرمائے گا ۔  ‘‘   پھر میری طرف متوجہ ہوکرفرمایا :  مجھے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بتایا تھا کہ حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ جو برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 1176 ) … حضرت سیِّدُنانافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ

 

 تَعَالٰی عَنْہُمَا کو اس کھجور کے درخت کے قریب کیا جس پر حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کو سولی دی گئی تھی توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّآپ پر رحم فرمائے ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہروزہ دار اور عبادت گزار انسان تھے ۔  ‘‘   ( [3] )

 ( 1177 ) … حضرت سیِّدُناعمربن قَیس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناا بن زُبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے 100غلام تھے  ۔ ان میں   سے ہر غلام مختلف زبان میں   بات کرتا تھا اورآپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی ہرغلام سے اسی کی زبان میں   گفتگو فرماتے تھے ۔ جب میں   آپ کو دنیوی کام میں   مشغول دیکھتا تو کہتا کہ انہیں   لمحہ بھر کے لئے بھی آخرت کا خیال نہیں   اور جب اُمورِ آخرت میں   متفکر دیکھتا تو کہتا کہ انہیں   لمحہ بھر کے لئے بھی دنیا کا خیال نہیں    ۔  ‘‘   ( [4] )

  ( 1178 ) …  حضرت سیِّدُناابن اَبی مُلَیْکَہرَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن زُبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا ذکرہواتوآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ حضرت عبد اللہ بن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا اِسلام میں   پاکیزہ زندگی کے مالک اورقرآن پاک کے قاری ہیں   ۔  آپ کے والد حضرت سیِّدُنا زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ،   والدہ حضرت اَسماء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا،   نانا امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ،   پھوپھی اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُناخدیجہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا،   دادی حضرت سیِّدَتُنا صَفِیَّہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا اور خالہ ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں    ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  میں   ان کے لئے ایسی سرتوڑ کوشش کروں   گا جو امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکراورامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے لئے بھی نہیں   کی تھی ۔  ‘‘   ( [5] )

نمازمیں   خشوع وخضوع کاعالَم :  

 ( 1179 ) … حضرت سیِّدُناعمروبن دِینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّار فرماتے ہیں : ’’ میں   نے حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن

 

زُبَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے زیادہ حسن وخوبی سے نماز پڑھتے کسی کو نہیں   دیکھا ۔  ‘‘   ( [6] )

 ( 1180 ) …  حضرت سیِّدُناہِشَام بن عُرْوَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں  کہ حضرت سیِّدُنا اِبن مُنْکَدِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے فرمایا :  ’’ اگرتم حضرت سیِّدُنا عبد اللہبن زُبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کو نماز پڑھتے دیکھتے تو ضرور کہتے کہ یہ کسی درخت کی ٹہنی ہیں   جسے ہوا تھپکی دے رہی ہے ۔  دورانِ نماز دشمن کی مَنْجَنِیْق پتھر برساتی ۔ پتھر ان کے اِرد گرد گرتے مگر انہیں   اس کی بالکل پرواہ نہ ہوتی ۔  ‘‘   ( [7] )

 ( 1181 ) … حضرت سیِّدُنامجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِدسے مروی ہے کہ ’’  جب حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبَیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانمازمیں   کھڑے ہوتے تویوں   لگتا جیسے کوئی لکڑی ہے اور یہ



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۲۰۱ / ۲۷۲ ، ج۲۴ ، ص۷۷ / ۱۰۱۔

[2]    المستدرک ،  کتاب معرفۃالصحابۃ ،  باب ذکرقتال ابن الزُبَیرالخ ،  الحدیث۶۳۹۶ ، ج۴ ، ص۷۱۵ ، بتغیرٍ۔

[3]    طبقات المحدثین باصبہان ،  الطبقۃ الاولی ،  عبداﷲ بن الزُبَیربن العوام ، ج۱ ، ص۱۹۶۔